ظفر عمران کی شخصیت اور افسانہ نگاری۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم

ظفر عمران کی افسانے کی پہلی کتاب آئی ہے اور میری کوشش ہے کہ اس کتاب پر بھرپور تبصرہ کروں مگر اس سے پہلے میں ظفر عمران سے اپنے تعلق کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔

کہنے کو ظفر عمران افسانہ نگاری میں ایک نیا نام ہیں مگر ان کے لکھے ڈرامے، ان کے پُرلطف مضامین اور ان کے دلچسپ سفری روداد کی وجہ سے اور کچھ ان کے لسانی معرکوں کی وجہ سے اب اردو پڑھنے والی پوری دنیا میں ان کی ایک پہچان بن چکی ہے۔ ظفر عمران کی پیدائش گنگا رام ہسپتال لاہور کی ہے اور بچپن میں کچھ سال ریلوے کالونی ملتان میں گزار چکے ہیں مگر راولپنڈی ان کا آبائی شہر ہے اس لیے  ان کی تحریر پر پوٹھوار رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ ظفر عمران کو زبان کے معاملے میں ایک لسانی شدت پسند سمجھا جاتا ہے وہ اس معاملے میں کافی حساس ہیں ان کو زبان و بیان پر کسی قسم کی غلطی گوارا نہیں،مجھے نہیں یاد میرا ظفر عمران سے پہلا تعارف کب ہوا تھا، کبھی ملتان کے ریلوے کوارٹرز کے پاس پگڈنڈی پر بھاگتے ہوئے ایک بچے کے نقوش ابھرتے ہیں، جہاں میرے عزیز رہتےتھے اور میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے والد اور والدہ کے ساتھ گیا تھا، پھر گرمیوں کی چھٹیاں پنڈی میں بھی گزاری تھیں جہاں کئی دفعہ کھیلتے بھاگتے بچوں پر نظر پڑی تھی۔

کتاب کے مصنف:ظفر عمران

یا نوعمری میں گجرات اپنی پھوپھی کے پاس رہتا تھا تو کالج کے کچھ لڑکوں کو کئی دفعہ مسلم مسجد، فوارہ چوک یا تین سینماؤں والی سڑک پر مٹرگشت کرتے دیکھا تھا۔ نوجوانی میں پریم نگر لاہور میں قیام کے دوران فلیٹوں میں رہتے ہوئے کچھ لڑکوں کی تیز تیز آوازیں آتی تھیں اور مولا کے ہوٹل پر چائے پیتے یا شطرنج کھیلتے آتے جاتے کچھ لڑکے نظر سے گزرتے تھے۔ پھر زمانہ یونیورسٹی میں کراچی شہر، کراچی کا سمندر، کراچی کی سڑکیں اور ہل پارک، عزیز بھٹی پارک پر کبھی کوئی اکیلا اور کبھی کوئی جوڑا نظر آتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرا کبھی کہیں ظفر عمران سے تعارف ہو سکا کہ نہیں، مگر یہ یقین ہے کہ میں نے زندگی کے ان مناظر میں کہیں نہ کہیں ظفر عمران کو ضرور دیکھا ہوگا میں نے فیس بک پر جب پہلی بار اس سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ہم کئی جنم سے ایک دوسرے سے واقف اور آشنا ہیں۔

مضمون نگار:داؤد ظفر ندیم

اور میں ایک صوفی، رومانیت کا دلدادہ، عالم ِتحیر میں رہنے والا، جو بات کو علامت اور رمز میں پیش کرنے کا قائل ہے وہ ایک عقل پرست، حقیقت پسند اور سچائیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرنے والا، خواہ حقیقت کتنی ہی تلخ اور خوفناک کیوں نہ ہو، میں اور وہ ایک دوسرے سے متضاد خصوصیات کے مالک ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ایک پائیدار اور آزاد دوستی کے لیے یہ بہت ضروری ہے وگرنہ ہمنوائی تو ہو سکتی ہے دوستی نہیں۔ ہم نے کافی موضوعات پر بات کی، میں نے اسے کافی مشورے دیئے، کہ پنجابی یا پوٹھواری میں لکھا کرو، اردو کے بارے زیادہ حساسیت کی ضرورت نہیں، غلط العام کو اردو ہی سمجھو، اور کہانی کو علامتی ہونا چاہیے اور حقیقت کو رمز کے پردے میں بیان کرنا چاہیے، سماجی حقیقتوں کواخلاقی حدود کے اندر بیان کرنا چاہیے۔ ظفر عمران سے کافی دیر تک مکالمے کے یہ ادوار ہوئے اور ظفر عمران نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ سے سیکھنے کا بہت موقع ملا، اب میں ہر وہ کام کروں گا یا کرنے کی کوشش کروں گا جس سے آپ نے روکنے کی کوشش کی ہے۔

چونکہ ظفر عمران نے پوٹھوار کی آب و ہوا میں ہوش سنبھالا اس لیے ان کے اکثر افسانوں اور ناولوں میں رومانیت کا عنصر زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ یہ ان کے شروعاتی افسانے ہیں بعض اوقات یوں تاثر ملتا ہے کہ وہ وقت کے سماجی پہلوؤں کو ابھی تک بہتر انداز میں پیش نہیں کر پاتے ہیں۔ لیکن ان کے مطالعہ کی عادت، دنیا گھومنے کی خواہش، اور چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کی وجہ سے یقین ہے کہ دھیرے دھیرے  ان کے تحریری لہجے میں بھی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی  اور اس میں حقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ طنز کا عنصر بھی شامل ہوتا جائے گا۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *