فلم ریویو: سپاہیڈر مین ۔ فار فرام ہوم ۔۔۔ احمد ثانی

سپائیڈر مین: فار فرام ھوم
یائنرا: فینٹسی /سائی فائی
دورانیہ:دو گھنٹے 9 منٹ

نمایاں کاسٹ: ٹام ھالینڈ (پیٹر پارکر) جیک گلین ھال ( پرنس آف پریشیا فیم) سیموئیل جیکسن

ریٹنگ: آئی ایم ڈی ب:ی بیاسی فیصد۔
میٹاسکور : 69 فیصد۔ روٹن ٹماٹو: 74 فیصد ۔

مارول پر پچھلے کئی سالوں سے متواتر ایک ہی ٹھپہ بطور تنقید لگایا جاتا رہا اور وہ یہ کہ ماروول کے لیئے دنیا کا مطلب ھے صرف نیویارک (جسٹ لائک ہمارے مشہور زمانہ فکشن کیریکٹر علی عمران کی طرح کہ دنیا بھر سے مجروموں نے رخ کرنا ھے تو صرف پاکیشیا کا)۔ اسی طرح مارول کی فلمز میں جتنی بھی آفات آنی ہیں وہ صرف نیویارک کی جغرافیہ پر آنی ہے تو نتیجتاً تنگ آ کر مارول سٹوری میکرز نے سوچا کہ چلو یار زرا اس سپائیڈر مین کو اسی بہانے گھر سے تو نکالو۔ سو جناب اس فلم میں سپائیڈر ایک سٹڈی ٹور پر اپنے کلاس میٹس اور دو عدد ٹیچر کے ساتھ پراگ ۔ وینس ۔ برلن اور ھالینڈ کے ایک قصبے میں خجل خوار ہوتا دکھا کر مارول نے اس اعتراض کا بخوبی جواب دے دیا ھے ۔

فلم بیک گراونڈ ۔
اگر آپ نے انفینٹی وار پر میرے دونوں ری ویوز پڑھ رکھے ہیں تو جیسا کہ میں خصوصا انفنیٹی وار کے لاسٹ پارٹ کے ری ویوز میں بتا چکا ہوں کہ آنے والی تین فلمیں آپ کو اب انفینٹی کی باقیات سمیٹتے دکھائی دیں گیں اور اسی سلسلے کی پہلی کڑی ھے یہ فلم ۔ اس کے بعد بلیک وڈو اور پھر بلیک پینتھر ٹو آنے والی ہیں۔

فلم کا آغاز تقریبا ھاف ھاور تک بہت ہی بچکانہ ھے مگر آپ نے گھبرانا نہیں ھے میرے دوستو کیونکہ صرف فلم کا آغاز بچکانہ ھے یہاں تک کہ فلم بین جب اس بات کا قائل ہو جاتا ھے کہ وہ ایک بچکانہ فلم ہی دیکھ رہا ھے تب ہی کہانی میں وہ ٹوئسٹ آتا ھے جب ناظر کو لگ پتا جاتا ھے کہ یہ مارول کی ایک بہترین فکشن سٹوریز میں سے ایک ھے ۔

پلاٹ ۔ سٹوری ۔ *سپوائلر الرٹ*

آئرن مین اپنی بلیئن ڈالر لاگت سے تعمیر کردہ ساری ٹیکنالوجی کا مالک سپائیڈر مین کو قرار دے کر فیوری کے ذریعے اس کی کمانڈ سپائیڈر مین کو سونپ دیتا ھے۔ آئرن مین کی ٹیم سے کئی برسوں پہلے نکالے گئے کچھ لوگ اسے ایک موقعہ غنیمت سمجھتے ہیں اور فیوری کے ذریعے شیلڈ اور پھر سپائیڈر مین کو اپنے جال میں پھنسا کر اس کی کمانڈ اپنے ایک مہرے “مسٹریئو” کے لیئے حاصل کر لیتے ہیں ۔ سپائیڈر مین بے چارہ آئرن مین کو مس کرتا ہوں اپنی ٹین ایج محبت کے چکر میں گم جب اس راز سے آگاہ ہوتا ھے تب تک چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتیں ہیں ۔
آے ار اور وی آر ٹیکنالوجی کی جو انتہا اس فلم میں دکھائی اگر وہ تعبیر پا گئی تو۔۔ اس تو کی تشریح میں نہی کر سکتا آپ فلم دیکھیں اور سوچیں کہ کیا کیا نہی ہو سکتا اگر ورچوئل اور آگمنٹیڈ ریالٹی کی اس فلم میں دی گئی تعبیر ممکن ہو جاتی جو کہ بظاہر بلکل ناممکن نظر نہی آتی تو تاریخیں آرام سے مٹائی جا سکتیں ۔

پوسٹ کریڈٹ سیئن مس نا کیجئے گا جو کہ الکٹرانک میڈیا کی بریکنگ نیوز نامی بیماری پر مشتمل ھے فلم میں آپ بونس میں پراگ، وینس، برلن اور نیدرلینڈ کے نظارے انجوائے کر سکتے ہیں ۔

ویک۔اینڈ کے لیئے ایک اچھی فلم جو کہ سینما کہ تھری ڈی ورژن میں آپ کو بہترین تفریح فراہم کرے گی ۔ ہلکے پھلکے ٹین ایج رومانس کے سوا پیرنٹیل گائیڈ کے لیئے اور کچھ نہیں ۔ تو انجوائے یوئر ویک اینڈ وتھ دس ونڈر فل مووی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *