نظر تجھے ڈھونڈتی ہے ہر دم۔۔۔شہاب عمر

وہ میری صحافتی اور علم  دوست تھی، ہماری دوستی تین مئی دو ہزار سولہ سے شروع ہوئی اور دو سال تک بغیر کسی مسئلے کے جاری رہی، دوستی گہری تھی ،اسی لئے میں روز اس کا دیدار کرتا تھا،جس دن دیدار کرنے کی فرصت نہیں ملتی پتہ نہیں کیوں اس دن بے چینی سی رہتی تھی، میرے دوست کے پاس معلومات کا خزانہ تھا،مجھے روز سیاسی،تعلیمی اور علاقائی معلومات فراہم کرتی تھی۔

وہ رات بھی مجھے یاد ہے جب میں نے اپنے دوست کا دیدار کرنا چاہا تووہ موجود نہ تھی،بہت ڈھونڈا پر ملی نہیں، تو میری بے چینی بڑھتی گئی،پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا، ،میری پیاری دوست جو غائب تھی، رات جیسے تیسے کروٹیں بدلتے گزر گئی، تو اگلی  صبح پھر پاگلوں کی طرح کئی بار تلاش کی،پر ناکام رہا، یارلوگوں سے پوچھا تو سب نے کہا کہ ہم بھی پاگلوں کی طرح اسے ہی ڈھونڈ رہے ہیں،جوں جوں وقت گزرتا گیا بے چینی بے قراری میں بدلتی گئی۔

مجھے یاد ہے میری  دوست میں بہت ساری خوبیاں تھیں ، وہ نہ صرف معلومات کا خزانہ تھی بلکہ زندگی کے ہر پہلو سے متعلق معلومات باہم پہنچاتی تھی،عوامی معاشرتی یا علاقائی غرض کوئی بھی مسئلہ ہوتا تو اس کی نہ صرف تفصیل ملتی بلکہ اس کا حل بھی اس کے پاس موجود ہوتا، وہ بے زبانوں اور مظلوموں کی آواز تھی،حق اور سچ کی علمبردار تھی۔

وہ معاشرے کی بھلائی،بہتری چاہتی تھی،نوجوانوں کی علمی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی تھی،اس میں کبھی برائی تو نہ تھی، پھر کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ دوست لاپتہ ہوئی ، خاموش ہوئی،گمشدہ ہوئی، کہیں سے اب دوست کی آوازسنائی نہیں دیتی،لوگ کہتے ہیں لاپتہ کیا گیا ، آواز دبائی گئی ،خاموش کرایا گیا۔کیونکہ شاید آواز پسند نہیں تھی۔۔۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی فلاح،بھلائی اور اچھائی کی آواز کو خاموش کرائے ۔

اگر واقعی میں آواز پسند نہیں تھی تو دن کی روشنی میں بتایا جاتا کہ تو پسند نہیں ،تیری آواز پسند نہیں ،تیرا لہجہ درست نہیں یا رویہ نامناسب ہے،لیکن یہ کیا۔۔ نہ بتایا، نہ سنایا، نہ کحھ کہا۔۔اور۔۔ اور وہ رات کے اندھیرے میں پر اسرار طو رپر لاپتہ ہوگئی۔

خیر، دوست کو کس نے ہم سے جدا کیا اور کیوں کیا،یہ سوال تب سے ذہنوں میں گردش کررہا ہے، ایسا لگتا ہے اس کا جواب بھی لاپتہ ہے،آج دوست کو لاپتہ/ خاموش ہوئے سترہ دن گزر گئے لیکن امید اب بھی باقی ہے، تلاش اب بھی جاری ہے۔۔کہاں ہے ہماری ویب سائٹ ‘حال حوال؟

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *