ادب محض جمالی ضرورتوں کو پورا کر لینے اور اس کے لیے خدمات سر انجام دینے والوں کے اقوال زریں کو از بر کر لینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک رویہ ہے جو زندگی میں ایک مقام و← مزید پڑھیے
چھت کی الماری سے میں نے بڑا سا وہ بیگ نیچے اتارا جو دادا سے مجھے ورثے میں ملا تھا۔یہ اتنا روشن اور رنگیں تھا گویا دھنک کا کوئی دریا اس سےپھوٹ رہا ہو۔میں نے اسے کاندھے پر اٹھایا اور← مزید پڑھیے
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے جمیل الدین عالی نے کہا تھا اگر سبط علی صبا نے صرف یہی شعر کہا ہوتا تو وہ اردو ادب میں زندہ رہنے کا حق← مزید پڑھیے
یہ بندہء ناچیز کے ساتھ ایک تو اپنے کے ایم خالد صاحب ہیں، اور دوسرے اسلام آباد سے مشہور تحقیقاتی صحافی اور سچ ٹی وی کے بیورو چیف جناب عون شیرازی صاحب ہیں۔ عون شیرازی ہمیں اس لیے بھی پسند← مزید پڑھیے
ذرا سوچیے تو مکہ، وہ مکہ جہاں اعلان رسالت کرتے ہوئے سیدی رسول کریم ص سوچ میں ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ آج تک مجھے صادق و امین پکارنے والے اب (نعوذ بااللہ) ساحر و مجنون پکار کر میری تکذیب← مزید پڑھیے
پچیس مارچ کے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ریل کا پہیہ مکمل جام ہونے تک ہمارے ریلوے میں ایڈوانس ریزرویشن کے تحت سفر کرنے والوں کے لئے مشہور و معروف تین قابلِ ذکر طریقے رائج تھے۔ پہلا فرسودہ ہونے کے← مزید پڑھیے
طالبعلم نرسری سے لے کر پی ایچ ڈی تک ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی فیس نہ دینے پہ سکول پرنسپل سے مار پڑتی ہے تو کبھی ٹائی یا بیلٹ نہ پہننے پہ کلاس ٹیچر سے ڈانٹ پڑتی ہے،← مزید پڑھیے
الحاد مذہب یا ایمان کی ضد ہے۔ مذہبی عقائد میں سب سے اہم خدا پر ایمان لانا ہے۔ الحاد میں نہ تو مذہبی عقائد ہیں اور نہ ہی خدا کا وجود۔ الحاد اتنا ہی قدیم ہے جتنا مذہب۔ کبھی ایمان← مزید پڑھیے
شروعات۔۔۔ سائنس کے تین بڑے سوال اس بارے میں ہیں۔ کائنات کی، زندگی کی اور شعور کی۔ ان میں سے پہلے سوال کے جواب کا تعلق تو لازماً کوانٹم مکینکس سے ہے۔ تیسرا کا بھی ممکن ہے، لیکن کیا دوسرے← مزید پڑھیے
سندھ پولیس کا ایک سب انسپکٹر حنیف کورونا کی بیماری سے شہید ہوگیا ،سب انسپکٹر سعید آباد پولیس ٹرینگ سکول میں اپر کلاس کورس کی ٹریننگ لے رہا تھا، دوران ٹرینگ دوسرے ملازمین کے ساتھ اُسے ملیر کراچی میں “← مزید پڑھیے
وہ گاؤں میں حاجی سیٹھ کے نام سے مشہور تھا ۔جب بھی خودنمائی کا کوئی موقع آتا وہ پیش پیش ہوتا۔ اور اپنے خزانے کا منہ کھول دیتا۔اُس نے کئی سیاسی پارٹیاں تبدیل کیں ،کیونکہ وہاں حاجی سے بڑے بڑے← مزید پڑھیے
ہوش آتے ہی قلقاریوں بھری نرماہٹ کا احساس ہوا۔آنکھ کھو لی تو دو نرم، سفید، روئی جیسے ہاتھ میرا چہرہ چھو رہے تھے۔بےساختہ اسکے ننھے ہاتھوں کو پکڑ کر چوم لیا۔ پیارآیا تو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر گال بھی← مزید پڑھیے
یقین کیجیے یہ میرا بیانیہ ہرگز نہیں۔ اس لیے عنایت ہوگی اگر لعن طعن کی سان پر چڑھائی نہ جاؤں۔سچی یہ تو چند دن پہلے کی مکالمہ بازی ہے اُن پانچ نوجوان ڈاکٹر بچیوں سے جو لاہور کے نامی گرامی← مزید پڑھیے
مرد تو کون ہے ؟ اے مرد آخر تو کون ہے ؟ ابن صفی مرد مومن بندہ پرور نور خدا پیغمبر و انبیا یا پھر وہ جو دکھتا ہے۔۔ کرّہ عرض پہ چھایا زمیں پہ چلتا پھرتا انسان یا پھر← مزید پڑھیے
زندگی خوشی اور غم کا مرکب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جس کے لیے صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا کہ جس کے لیے غم کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہی حال معاشروں اور ملکوں کا← مزید پڑھیے
“ستیہ پال کی ساٹھ نظمیں “کچھ برس پہلے ڈاکٹر آصف فرخی کے ادارے ( کراچی) سے سے شائع ہوئی تھی۔ یہ نظمیں ڈاکٹر فاطمہ حسن نے منتخب کی تھیں۔اُن کا تحریر کردہ دیباچہ واقعی ایک ایسی اہم تحریر ہے، جسے← مزید پڑھیے
ایک دفعہ کچھ یوں ہوا، گاؤں والوں کو حُکم ہوا کہ سب باری باری دربار میں آؤ اور اپنی گزارشات بیان کرو۔۔ ایک ایک کرکے فریادی آئے، اور اپنی فریادیں مانگیں۔ سارا گاؤں دربار میں اکھٹا ہو گیا کیونکہ گاؤں← مزید پڑھیے
“فیصلہ نہ کرنا” بھی “ایک فیصلہ” ہے۔ یہ رویہ ناکام اور کامیاب شخص کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔ دنیا ناکام لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ ان سب میں یہی ایک عادت مشترک ہے۔ حالانکہ انسان فیصلہ کیے بغیر ایک لمحہ← مزید پڑھیے
میرایہ غیر متوقع سوال سن کر وہ طالب علم کھاجانے والی نظروں سے عجیب سوالیہ پلس استہزائیہ اندازمیں مجھے گھورنے لگا،شایداندرہی اندرکہہ رہاہوگا “وڈاآگیاتبلیغی جماعت دامنڈا ،جو اتنی وڈی شخصیت کونہیں جانتا” جب میں نے اس کے گھٹنے چھوتے ہوئے← مزید پڑھیے
اگر کبھی ملحد لوگوں سے گفتگو کی جائے خدا کے وجود پر تو ان کے دو ہی سوالات ہوتے ہیں جن کے جوابات نہ ملنے کی بِنا پر وہ خدا کے وجود کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اگر← مزید پڑھیے