حاجی سیٹھ۔۔ اے وسیم خٹک

وہ گاؤں میں حاجی سیٹھ کے نام سے مشہور تھا ۔جب بھی خودنمائی کا کوئی موقع آتا وہ پیش پیش ہوتا۔ اور اپنے خزانے کا منہ کھول دیتا۔اُس نے کئی سیاسی پارٹیاں تبدیل کیں ،کیونکہ وہاں حاجی سے بڑے بڑے مگرمچھ سیٹھ موجود ہوتے تھے، جہاں اُس کی دال نہیں گلتی تھی ،وہ پارٹی بدل دیتا۔۔ مگر کبھی اُسے سیاست میں آنے کی نہیں سُوجھی، بس خودنمائی کا سوشل ورک چلتی رہتا۔

سب اسے دیکھ کر پیسوں کی وجہ سے سلام کرتے اور اُس کے آگے پیچھے ہوتے، یعنی اُن لوگوں کا ٹولہ ساتھ ہوتا ۔جو حاجی سیٹھ سے کچھ حاصل کرتے۔ اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے اکثر لوگ اُس سے متنفر تھے ۔ جب کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہوا،تو حاجی سیٹھ کو اُس کے ہرکاروں نے کہا کہ یہ وقت ہے ،زکوٰۃ ویسے بھی نکالنی  ہے ،تو غریبوں کی مدد کرلو۔ نام بھی ہوجائے گا یعنی ایک تیر سے دو شکار ۔۔

اُسے خیال پسند آیا اور یوں گاؤں کے غریبوں کی مدد کی ٹھانی ۔

حکومت کے لائیو ٹیلی تھون میں پچاس لاکھ ڈونیٹ کیے، تو دس لاکھ گاؤں کے غرباء  میں تقسیم کرنے کے بعد جوں ہی اپنے دفتر آیا،اُس نے اپنے چارسو ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کرکے انہیں گھر بھجوادیا۔۔ کہ  فیکٹریاں ملیں   ویسے بھی بند ہیں، کام نہیں ہوسکتا۔حکومت نے پاپندی لگائی ہے ۔۔ملازمین کو کہا کہ تین ماہ تک  آپ کو گھر بیٹھے نصف تنخواہ ملتی رہے گی جبکہ وقت سے فائدہ اٹھا کر پچاس ڈیلی ویجز اور کچھ بڑے عہدوں والوں کو بھی چلتا کردیا، تصویریں سوشل میڈیا پر چلانے کے بعد اُس نے ساٹھ لاکھ سوشل ورک کرکے جب ہزاروں کی لائیکس آئیں اور ساتھ میں دوکروڑ کا فائدہ بھی مل گیا تو حاجی سیٹھ رمضان المبارک کے لئے فیملی سمیت مری کے فارم ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *