ـستیہ پال ٓآنند کی ساٹھ نظمیں۔۔۔ڈاکٹر فاطمہ حسن

“ستیہ پال کی ساٹھ نظمیں “کچھ برس پہلے ڈاکٹر آصف فرخی کے ادارے ( کراچی) سے سے شائع ہوئی تھی۔ یہ نظمیں ڈاکٹر فاطمہ حسن نے منتخب کی تھیں۔اُن کا تحریر کردہ دیباچہ واقعی ایک ایسی اہم تحریر ہے، جسے میرے حوالے کے علاوہ ایک اہم ادبی دستاویز کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ ستیہ پال ٓآنند

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیش لفظ

چھ  سو سے کچھ زیادہ نظموں کو چھان اور کھنگال کر ان میں سے ساٹھ نظموں کا انتخاب میرے لیے ایک ایسا امتحان تھا، اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنہیں کسی ایسی آزمائش میں ڈال دیا جائے کہ  انہیں پنے دوستوں کی فہرست میں سے ہر دس افراد میں سے صرف ایک کا انتخاب کرنا ہے اور نو احباب کو نظر انداز  کر کے ان سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ مجھے علم نہیں ہے کہ میں اس امتحان سے بخوبی گزرگئی ہوں، لیکن اس بات کی تسلی ضرور ہے کہ انتخاب کا پیمانہ نہ صرف میری ذاتی پسند رہی ہے بلکہ وہ سائنسی طریق ِ کار بھی رہا ہے جس میں کسی شاعر کے کام کو زمانی سطح پر اس کی زندگی کے مختلف ادوار میں تحریر کردہ منظومات کواس طرح شامل کیا جائے کہ کوئی اہم نظم باقی نہ رہ جائے ۔اس انتخاب میں گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی سے لے کر آج ، یعنی اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط تک نظمیں شامل ہیں۔ کافی غور و غوض کے بعدمیں نے یہ طے کیا کہ ہر نظم کے ساتھ سن ِ تالیف دینے کی رسم کو بالائے طاق رکھ دیا جائے کہ تحقیق کا یہ پیمانہ اس کتاب کو مرتب کرنے کے غرض کے زمرے سے باہر ہے۔ یہ کتاب تنقید نگاروں یا اردو نظم پر تحقیق کرنے والے اسکالرز کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو ان قارئین کی سہولیت کے لیے ہے جو ستیہ پال آنند کے تیرہ شعری مجموعوں میں بکھری ہوئی منظومات تک رسائی نہیں کر سکتے کہ یہ مجموعے بیک وقت بر صغیر کے دونوں ملکوں میں ، خصوصی طور پر پاکستان میں، دستیاب نہیں ہیں۔

ستیہ پال آنند شاید اردوکے واحد شاعر ہیں جن کی نظموں کی تعداد کسی بھی دوسرے شاعر سے زیادہ ہے ۔ غزلیات تو کچھ شعرا کے یہاں ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن منظومات کی تعداد میں (بشمولیت پابند اور آزاد نظمیں) ستیہ پال آنند کا نام سر ِ فہرست ہے۔ ان کی سب نظمیں بحور و اوزان کی پابندی کے ساتھ ’’بلینک ورس‘‘ کے زمرے میں آتی ہیں اور ’’رن آن لائن‘‘ کے چلن سے ایک لہر کی طرح سطور کو ضم کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں۔ ان لوازمات کو در گزر بھی کر دیا جائے تو بھی انیسویں صدی کے نصف آخر سے لے کر آج تک یعنی اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط تک جن شعرا نے نظم کی صنف میں سخن آرائی کی ہے، ان میں سے کوئی بھی ایک سو یا ڈیڑھ سو نظموں سے آگے نہیں بڑھ پایا۔

زود گو ئی یا پُر نویسی کی وجہ سے معتوب شعرا کے بارے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ایسے شعرا اُس اعلیٰ معیار کو قائم نہیں رکھ پاتے جو ان کی کچھ نظموں کا خاصہ ہے اور مقدار کو معیار پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ ممکن ہے یہ قیاس کچھ اہل ِ قلم کے بارے میں صحیح ہو۔ لیکن ہم شیکسپیئر کو کیا کہیں گے، جس نے کچھ برسوں میں ہی بیالیس منظوم ڈرامے لکھے ، ۱594 میں جب پلیگ کی وجہ سے تھیٹر بند تھے ، اس کے قلم کو چین نہ آیا ۔ اس نے اس برس دو طویل رومانی نظمیں لکھیں ۔ ان کے علاوہ 154 سانیٹ لکھے۔ ان میں بشمولیت ان نگارشات کے جن پر اس کا حق تصنیف آج تک ثابت نہیں ہو پایا، سطروں کی کل تعدادچالیس ہزار سے کچھ اوپر ہے، اور ان سب سطور کو تقطیع کے عمل سے گزارا جا سکتا ہے۔ یہی اصول مہا کاویہ لکھنے والوں پر بھی آزمایا جا سکتا ہے۔ معیار کی ہمیشگی تعداد پر منحصر نہیں ہے، اس کا دار و مدار قلم کار کی گرفت پر ہے جس سے ایک اچھا شاعر اپنے فن کو آزاد نہیں ہونے دیتا۔

شیکسپیئر کی (56) برس کی زندگی میں ادبی ریاضت تو صرف اٹھائیس برسوں پر محیط تھی، لیکن ستیہ پال آنند کی یہ نظمیں ایک پوری زندگی کا مآحاصل ہیں، صرف کچھ برسوں کی شعری ریاضت کا نہیں۔

نظموں کے انتخاب کے بارے میں اور زیادہ کچھ نہ لکھ کر مجھے صرف تین یا چار نکتوں کی وضاحت ضروری نظر آتی ہے۔ اور ان کے لیے میرا دور حاضر کے جید نقادوں سے کچھ فیض پانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا، ’’ستیہ پال آنند نے تمثیل سے باہر کھڑے ہو کر تمثیل کے کرداروں کو دیکھنا، نیز خود سے باہر نکل کر خود کا نظارہ کرنے کی جو روش اختیار کی ہے، وہ اردو نظم کو ایک انوکھی قوت عطا کر رہی ہے۔‘‘ مزید وضاحت کے طور پر انہوں نے لکھا کہ موصوف کی منظومات کے موضوعات پر ، جذبہ و فکر پر، اظہار کی گونا گوں سطحوں پر، ہیئت اور اسلوب پر تمثال نگاری پر ، استعارہ سازی کی مختلف جہتوں پر ، زبان و بیا ن پر ، عالمی تناظر میں  اردو میں متعارف کروانے پربہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، لیکن جو بات زیادہ اہم ہے، وہ ان کی منظومات میں اساطیر کی پیوستگی اور ان کے معانی کو عہد حاضر کے مسائل پر روشنی کے ایک ہالے کی طرح مرکوز کرنے کی بابت ہے۔ یہی بات ڈاکٹر فہیم اعظمی نے کہی کہ موضوعات کے انتخاب میں اور ان کو تخلیق کی غربال سے چھان کر نکالنے میں آنند روایت کے سکہ بند شعری رویوں سے مکمل انحراف کاثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے ان کے مجموعہ ’’دست ِ برگ‘‘ کے اختتامیہ نوٹ میں لکھا: ’’ستیہ پال آنند نے یہ نظمیں اس بات کے عملی ثبوت کے طور پر لکھیں کہ مغربی قارئین ان جیسی نظموں کو انگریزی یا دیگر یورپی زبانوں میں پڑھ کر محسوس کریں گے کہ موضوعاتی، معنیاتی اور اسلوبیاتی سطحوں پر یہ کسی طرح بھی مغربی شاعری سے کم درجے کی نہیں ہیں۔ ان میں جو معنیاتی قوس قزح ہے، مشرقی اور مغربی شعری روایت کے درمیان جو جمالیاتی پُل بنانے کی کوشش ہے، انگریزی سوچ، ہندوستانی مزاج اور اردو اظہار کا جو جزر و مد ہے، ہندی اور ہندوستانی تناظر کی جو پرچھائیں ہے ، جو انوکھا اور نیا ذائقہ ہے وہ اپنی الگ نوعیت رکھتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر گیان چند جین اور ڈاکٹر کالیداس گپتا نے ستیہ پال آنند کے ’’رن آن لائنز‘‘ کو اردو نظم میں متعارف کروانے کے تناظرمیں جو کچھ کہا اس کا خفیف سا نچوڑ ڈاکٹر جین کی اس سطر میں ملفوف ہے۔

’’ستیہ پال آنند بہت صحیح وقت پر اردو میں ظاہر ہوئے۔ میں صنف غزل کا گرویدہ ہوں، لیکن اب میں بھی یہ بات سمجھتا ہوں کہ اردو کے شعر و ادب کو اگر دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں میں شامل ہونا ہے تو صرف غالبؔ اور میرؔیا ترقی پسند ادب یا نام نہاد جدید ادب سے کام نہیں چلے گا۔اگر اردو شاعری کا ماضی اور حال غزلیہ شاعری ہے تو صنف نظم ہی اردو شاعری کا مستقبل ہے۔‘‘ اختر الایمان نے لگی لپٹی رکھے بغیرستیہ پال آنند کے مجموعے ’’لہو بولتا ہے‘‘ کے پیش لفظ میں لکھا، ’’ستیہ پال آنند کی نظمیں غزل کی لفظیات، استعارات اور زبان سے چپک جانے والی مٹھاس سے یکسر پاک ہیں۔‘‘ ڈاکٹر اے عبدللہ کی مرتب کی ہوئی ضخیم کتاب ’’ستیہ پال آنند کی نظم نگاری‘‘ میں32 مضامین شامل ہیں، جن میں ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر شکیل الرحمن، پروفیسر حامدی کاشمیری، بلراج کومل، تارا چند رستوگی، عبدالقوی ضیا، ڈاکٹر عتیق اللہ، ڈاکٹر آصف علی، نصیر احمد ناصر، ڈاکٹر فہیم اعظمی، سید خالد حسین، پروفیسر ریاض صدیقی،جناب حقانی القاسمی، ڈاکٹر احمد سہیل، ڈاکٹر گیان چند جین، ڈاکٹر کالیداس گپتا رضاؔ اور کچھ دیگر احباب شامل ہیں۔

ایک روایتی مرتب کی طرح میں اس بات سے پرہیز برت رہی ہوں کہ ستیہ پال آنند کی نظموں سے کچھ اقتباسات نکال کر اس مختصر مضمون کی زینت بناؤں۔ یہ کام میرا نہیں ہے۔ نہ میں ان سے بڑی شاعر ہوں نہ ہی مجھے نقاد ہونے کا کوئی دعویٰ ہے۔انتخاب اور ترتیب کی ذمہ داری ضرور میری ہے اور مجھے امید ہے کہ میں نے اس سے انصاف کیا ہے۔ اگر یہ مختصر انتخاب ستیہ پال آنند کی ہمہ صفت شاعری سے ’’نمونہ مشتے از خروارے‘‘ کے طور پر قارئین کو اچھا لگے تو میں سمجھوں گی، میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *