ای ٹکٹنگ رحمت پس پردہ زحمت۔۔محمد سعید

پچیس مارچ کے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ریل کا پہیہ مکمل جام ہونے تک ہمارے ریلوے میں ایڈوانس ریزرویشن کے تحت سفر کرنے والوں کے لئے مشہور و معروف تین قابلِ ذکر طریقے رائج تھے۔

پہلا فرسودہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی بےہودہ طرز کا۔اس طریقہ کار میں چھوٹے چھوٹے  سٹیشنز کو باقاعدہ سیٹس اور برتھیں الاٹ کر دی جاتی ہیں۔ایڈوانس ریزرویشن کے خواہشمند سادہ لوح دیہاتی سٹیشن پر آکر حسب توفیق خدمت کے عوض اپنی ریزرویشن حاصل کر لیتے ہیں ،اور جو فسادی اناڑی لوگ حالات کے موافق نہیں چلتے انہیں خالی ہاتھ لوٹا دیا جاتا ہے۔اس نظام کی دو اہم ترین قباحتیں رہتیں ہیں ،پہلی ڈپلیکیشن یعنی مقررہ دن اور ٹرین میں بیک وقت دو مسافروں کو ایک سیٹ نمبر الاٹ کر دینا۔دوسری روائتی بلیک ٹکٹنگ جو محدود لیکن منظم طریقے سے بڑےسٹیشن پر ہر اہم موقع پر دیکھنے کو ملتی ہے وہ دراصل اسی فرسودہ نظام کے مرہون منت دیکھنے کو ملتی ہے۔آج تک ہم اس فرسودہ نظام سے مکمل جان کیوں نہیں چھڑا سکے اس کا تذکرہ پھر سہی۔تیسرا اس پرانے ناکارہ نظام کی بدولت عوام الناس کی طرف سے سب سے زیادہ گالیاں بے چارے ریزرویشن سٹاف کو سننا پڑتی ہیں کیونکہ جب ٹرین روانہ ہوتی ہے تو لوگوں کو یہ برتھیں اور سیٹیں خالی نظر آتی ہیں اور تین چار گھنٹے کے دوران جب تک مطلوبہ چھوٹا شہر نہیں آجاتا یہ خالی رہتیں ہیں اور عوام کا تاثر یہ ہوتا ہے کہ ریلوے حکام اور عملہ کی ملی بھگت ہے کہ جب ریزرویشن اسٹیشن پر جاؤ تو جواب ملتا ہے کہ جگہ نہیں ہے لیکن اب آدھے سے زیادہ ڈبہ خالی جا رہا ہے۔

چوتھا خطرناک ترین بلکہ مکروہ ترین امیج ریلوے اور سٹاف دونوں کا اس وقت بنتا ہے جب سٹارٹنگ سٹیشن سے روانہ ہونے کے بعد اچھی طرح ذلیل وخوار ہونے کے بعد مسافر سٹاف کو چائے پانی کی صورت رشوت کی آفر کرتاہے تو اسے فوراًاس کوٹے میں خالی آنے والی سیٹ یا برتھ دے دی جاتی ہے۔اب عوام کا تاثر مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ دو چار دن ایڈوانس بکنگ نا ملنے والی ریزرویشن گاڑی کے اندر چائے پانی لگا کر حاصل کی جا سکتی ہے اور اس الزام میں اچھی ساکھ کے حامل ایماندار حکام بھی رگڑے میں آجاتےہیں۔ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا خود اندازہ لگا لیجئے کہ اس کے ذمہ دار بیرونی عناصر نہیں بلکہ گھر کے ہی کام چور،ہڈ حرام بھیدی ہیں جو سالہا سال سے اربوں روپے کا زرکثیر پہ ہاتھ صاف کر چکے لیکن محکمہ کو ایک ٹکے کا فائدہ نہ  دے سکے۔جب تک یہ سسٹم چلتا رہے گا قیامت تو آ سکتی ہے لیکن کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں اور نہ  ہی نظام میں شفافیت آ سکتی ہے۔

دوسرا طریقہ ہے ریلوے اسٹیشن پہ موجود کمپیوٹرائزڈ ریزرویشن کے تحت لوگ لمبی لمبی قطاروں کی صورت کھڑے ہوتے ہیں اور بکنگ کرواتے ہیں، عام پبلک ،ریلوے ملازمین،افواج پاکستان،جرنلسٹ اور سٹوڈنٹ کنسیشن ٹکٹیں ایڈوانس میں یہیں سے بک ہوتی ہیں۔اس کا ایک ہی فائدہ ہے کہ اس میں ڈپلیکیشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دوسرے ٹکٹ کینسیلیشن کی صورت میں ایک دن پہلے رقم بآسانی مل جاتی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نظام کے اخراجات بےتحاشہ بڑھتے گئے۔ المیہ یہ ہوا کہ اس نظام کے آغاز سے تا دم تحریر تک متعلقہ پراپر سٹاف تعینات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی،ادھر ادھر سے پکڑ کر،مانگے تانگے کا سٹاف کمپیوٹرائزڈ ریزرویشن کا نظام چلا رہا ہے بہت کم سٹیشنز ایسے ہوں گے جہاں پراپر سٹاف کام کر رہا ہو۔
ضرورت اس امر کی تھی کہ اس طریقہ کار میں ہم بہتری لاتے لیکن اس نظام میں اصلاحات کی بجائے ہم نے اپنی نت نئے تجربات کرنے کی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اورنئے نظام کو بطور ای ٹکٹ کے رائج کر دیا۔

ای ٹکٹ بلا شبہ ایک بہترین سہولت ہو سکتی تھی اگر اس میں پائی جانے والی بیشتر قباحتوں پہ قابو پا لیا جاتا۔جس وقت ای ٹکٹ کا اجراء کیا جارہا تھا تب بھی ہم نے گزارشات مرتب کرکے متعلقہ احباب کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی اپنی سی ناکام کوشش کی تھی کہ آپ ایس ایم ایس یا ای میل ٹکٹنگ کے ذریعے نت نئی قسم کی مالی بدعنوانیوں پہ مبنی سسٹم لانچ کرنے جا رہے ہیں،لیکن اس وقت بدقسمتی سے اس کے خلاف تمام اعتراضات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔اس نظام کے تحت ریلوے کی بجائے عام سادہ لوح معمولی پڑھے لکھے مسافر کو ریلوے کے نام پر دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتاہے ۔عام مسافر کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ تمام تر اضافی اخراجات کی ذمہ دار ریلوے انتظامیہ ہے۔
اس میں ریلوے کا چیک اینڈ بیلنس نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ مسافر کو اپنے لٹنے کا قطعاً احساس نہیں ہوتا۔مسافروں کی ایسی کثیر تعداد زیادہ آسانی سے لٹتی ہے جو ایجنٹ کے ذریعے بکنگ کرواتے ہیں

اس نظام سے مکمل طور پر وہی طبقہ زیادہ تر محفوظ طریقے سے استفادہ کرتاہے جنکا اپنا ذاتی ای میل اکاؤنٹ، ایزی پیسہ،جاز کیش اکاؤنٹ یا بینک اکاؤنٹ ہوتا ہے اور وہ بآسانی ویب سائٹ یا ایپ کے ذریعے بکنگ کر لیتے ہیں۔
بصورت دیگر جن کا واسطہ ایجنٹ حضرات کے ساتھ پڑتا ہے انہیں لگ پتہ جاتاہے۔ایجنٹ حضرات خصوصاً چھوٹے شہروں یا قصبوں میں رہنے والے معمولی پڑھے لکھے دیہاتی مسافروں کو بآسانی شکار کر لیتے ہیں،بلکہ ان پہ احسان جتلاتے ہیں کہ تمہارا شہر آنے جانے کرایہ اور گھنٹوں جو تم نے قطار میں ذلیل و خوار ہونا تھا ان سب قباحتوں سے یہاں بیٹھے بٹھائے جان چھڑوادی۔
جو شاطر،شیطان صفت پڑھے لکھے لیکن کرپٹ لوگ اس نظام کو سمجھ گئے وہ تو ہمارے ذہین و فطین ماہرین کو ہاتھوں ہاتھ خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ گھر بیٹھے بٹھائے ریلوے کو چونا لگانے کے ساتھ ساتھ مفت کا سفر وہ بھی پورے پروٹوکول کے ساتھ۔
اب یہاں پر مجھے یہ لکھتے ہوئے واقعی شرمندگی کا احساس ہو رہا ہے کہ اس نظام سے منسلک بےقاعدگیوں کو پکڑنے کے لئے ہمارے چیکنگ سٹاف کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تربیت ہی نہیں دی گئی۔
ایک بار بندہ چیکنگ سٹاف کو جھانسا دے کر نکل گیا تو سمجھیں اس کے وارے نیارے کیونکہ بعد میں آنے والا چیکنگ سٹاف اپنے پیش رو سٹاف پہ اعتماد کرتے ہوئے سرسری چیکنگ کر رہاہوتاہے۔
ای ٹکٹ کے نئے نظام کی سب سے بڑی خامی یا خرابی اس کی ٹرین روانگی کے وقت کینسل نا ہونا ہے۔مثلاً اگر آپ کی پچاس ہزار روپے مالیت کے ای ٹکٹ بک ہیں اور عین ٹرین کے روانہ ہونے سے پہلے آپ کو ایمرجنسی کی صورت میں سفر ختم کرنا پڑ جائے تو پھر آپ کی ساری رقم ضائع گئی۔ اب کوئی اپنی رقم اس طرح آسانی سے بےکار جانے نہیں دیتا جبکہ جگاڑ لگانے کے مواقع بھی میسر ہوں ۔ ٹرین چلنے کے وقت تھوڑا سے نقصان کے عوض  سٹیشن پر ٹکٹ بیچ کر یہ جا وہ جا۔لیکن اصل تکلیف دہ مسئلہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب ٹرین کے اندر اس قسم کی ٹکٹ خریدنے والے کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ فراڈ ہوگیا ہے۔ریکارڈ میں بکنگ یا تو سرے سے ہے ہی نہیں یا اگر ہے تو کم لوگوں کی۔اسی طرح اگر ٹرین بہت زیادہ لیٹ ہو جائے یا کسی وجہ سے کینسل کر دی جائے تو رقم کی واپسی کا نظام بہت زیادہ پیچیدہ ہے اور اس میں کئی ہفتے تک لگ جاتے ہیں۔ اس نظام کی ناکارہ ریفنڈ پالیسی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا بھی دیکھا گیا کہ مسافر نے سفر بھی کیا اور پھر ریفنڈ کلیم کرکے پوری رقم بھی واپس وصول کی۔

اکثر اہم مواقع پر بلیک ٹکٹ مافیا ای ٹکٹ کے ذریعے ایڈوانس میں ہی اچھی خاصی سیٹیں برتھیں بک کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔نہ  ملنے کی صورت میں پریشان حال مسافر جب اسٹیشن کا رخ کرتے ہیں تو یہاں ان کے سہولت کار بڑی خوبصورتی سے متعلقہ جگہ یہ باور کروا کربھیجتے ہیں کہ مل تو جائے گی لیکن ذرا مہنگی ملے گی۔۔اب یہاں مسافر کو پہلے کینسیلیشن کی مد میں اور پھر اپنے نام کی ٹکٹ بک کرنے کےلئے علیحدہ سے اچھی خاصی رقم اضافی دینا پڑتی ہے۔
سادہ ترین الفاظ میں صرف یہ سمجھ لیجئے کہ پہلے جو بلیک ٹکٹنگ کا کام چند لوگ کر رہے تھے اب بہت سے لٹیروں کی صورت میں زیادہ منظم طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے۔

بعض اوقات رات کے وقت چلنے والی گاڑیوں میں ایسے بھی دیکھا گیا کہ مسافر آپس میں گتھم گتھا ہو رہے کہ یہ برتھ میری ہے،مطلب ڈپلیکیشن کر دی گئی لیکن حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں بلکہ ایجنٹ جان بوجھ کر ایک مسافر کی ٹکٹ کو اپنے یوزر آئی ڈی سے کینسل کر دیتے ہیں۔۔۔متاثرہ مسافر کے پاس صرف کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے یا پھر اس کے پاس ایجنٹ کی طرف سے کیا گیا پہلی کنفرم ریزرویشن کا میسیج، دوسرا کینسیلیشن کا میسج کے متعلق مسافر کو پتہ ہی نہیں چلتا۔مسافر کو ازسرنو دوبارہ ٹکٹ بنوانی پڑتی ہے وی بھی بھاری جرمانے کے ساتھ۔ بعد ازاں اگر مسافر ایجنٹ سے رابطہ کرکے شکایت کرتا بھی ہے تو وہ ریلوے کے نظام پہ ڈال کر بری الذمہ ہوجاتا ہے،پھر دو تین ہزار کے فراڈ کی ایف آئی آر کوئی بھی درج نہیں کرواتا کہ بجائے لینے کے الٹا مزید دینے ہی نا پڑ جائیں۔
پوسٹ طویل ہوگئی۔۔۔۔۔۔تحریر برائے اصلاح کا مقصد یہ تھا کہ اس المیہ کی طرف شیخ صاحب اور ان کی ٹیم کی توجہ مبذول کروائی جائے جو ای ٹکٹنگ کے نقائص سے آلودہ نظام پہ آنکھیں بند کر کے حد سے زیادہ اعتماد کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بکنگ کھلتے ہی محض چند ساعتوں میں مخصوص تاریخوں کی ایڈوانس ریزرویشن کے لئے تمام گاڑیوں کی بکنگ کےعوض چھ سات کروڑ ایک دم سے سسٹم میں آجانا۔۔۔۔۔۔۔۔میڈیا پر بلند بانگ دعویٰ کرنے کی بجائے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ کہیں کوئی ناپاک بڑی مچھلی ریلوے کے نام پر عوام کی حق حلال کی کمائی پہ اپنی بلیک منی میں مزید اضافہ تو نہیں کر رہا۔
اس عید پر تو شاید کرونا کی وجہ سے ٹرینز میں ویسا رش   دیکھنے کو نہ ملے کیونکہ تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ ادارے پہلے ہی بند ہیں لیکن آنے والے دنوں جب حالات نارمل ہوں گے تب یہ تمام تر خامیاں دوبارہ بھرپور طریقے سے سارے سسٹم کے مجموعی تاثر کو برباد کر رہیں ہوں گی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے ریلوے سسٹم میں ایک ہی طرز کا ریزرویشن سسٹم فعال ہوتا لیکن اس شعبہ میں بھی شائد ہم نے آئندہ بننے والے کسی کمیشن کے لئے تحقیقات کا کام رکھ چھوڑا ہے کہ وہ مہینوں کی جانفشانی و ایمانداری سے اس نتیجے پر پہنچے کہ گزشتہ حکومتی اہلکاروں کی ناقص حکمت عملی نےمحکمہ کی ساکھ کو اور عوام الناس کے مال پر چند عناصر نے ناجائز ذرائع سے خوب ہاتھ صاف کیا۔

حرفِ آخر اگر تو آپ مسافر کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کی اس شعبہ میں گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں تو ازراہِ کرم تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئےاس نظام میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کیجیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *