عون شیرازی نوں نوٹس ملیا۔۔سید شاہد عباس

یہ بندہء ناچیز کے ساتھ ایک تو اپنے کے ایم خالد صاحب ہیں، اور دوسرے اسلام آباد سے مشہور تحقیقاتی صحافی اور سچ ٹی وی کے بیورو چیف جناب عون شیرازی صاحب ہیں۔ عون شیرازی ہمیں اس لیے بھی پسند ہیں کہ ان کے الفاظ میں کرختگی کے اندر ایک ایسی مٹھاس ہے جو بڑے بڑوں کو لرزا دیتی ہے۔ یہ کرختگی حیران کن طور پر اصلاحی پہلو لیے ہوتی  ہے۔ اور یہ معاشرے کو اپنے الفاظ،لہجے، اور انداز سے بدلنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ ان کا رمضانی جو ہے وہ ایوان اقتدار کی راہداریوں سے لے کر اپوزیشن کے اندھیرے کمروں میں ہونے والے فیصلوں سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ شکر ہے ہماری ان سے ہمیشہ ملاقات کے دوران عون شیرازی بھائی رمضانی کو چائے لینے بھیج دیتے ہیں ورنہ وہ ہماری نجانے کیسی کیسی ٹوہ لیتا۔

سُنا ہے سید عون شیرازی صاحب کو پچاس کروڑ ہرجانے کا نوٹس ملا ہے۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ ماضی کی مشہور بس سروس واران ٹورز پہ ان کا بلاگ اس کی وجہ بنا ہے۔ بننا   بھی چاہیے تھا   کہ انہوں نے بلاگ بناتے ہوئے ٹوٹی کھڑکیوں تک کو نہیں چھوڑا۔ انہیں ویران کمروں پہ بھی رحم نہیں آیا۔ اور واران ٹورز کی انتظامیہ کی وہ کلاس لی کہ الامان۔ نتیجہ یہ ہوا کہ واران ٹورز انتظامیہ کی جانب سے انہیں پچاس کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس مل گیا ہے۔ اس نوٹس پہ وہ کیا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ کس طرح اس حوالے سے کالا کوٹ پہنے ہوئے دلائل دیتے ہیں یہ وہ جانے اور ان کا کام۔ فکر اس لیے بھی نہیں کہ وکیل کو ایسے مواقع کی تو تلاش ہوتی ہے۔

نوٹس ملے، بندہ ایک تو تحقیقاتی صحافی ہو، ہو بھی بیورو چیف، حالات جن میں لوگوں کی نوکریاں چھوٹ رہی ہوں اور یہ بندہ ترقی کر رہا ہو، اور سب سے آخر میں وہ اگر وکیل بھی ہو تو نوٹس ملنے پہ مل بیٹھنے کے ایک بہانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اور ہمیں ان کا ساتھ بہرحال دینا ہے۔ آپ کیا سمجھے کہ ہمیں ان کا ساتھ بطور صحافی دینا ہے؟ جناب ہرگز نہیں۔ اور کیا ان کا ساتھ بطور استاد دینا ہے؟ ایسا بھی ہرگز نہیں۔ تو آپ سوچ رہے ہوں گے ہمیں ان کا ساتھ کیوں دینا ہے۔ تو جناب ہمیں ان کا ساتھ بطور چھوٹا بھائی دینا ہے۔ وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں ۔ اور بھائی بھائیوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ نجانے  کیوں بابر اعوان صاحب یاد آ رہے ہیں کہ جنہوں نے کہا تھا کہ “نوٹس ملیا، ککھ نا ہلیا”۔ وہا ں تو ککھ کیا پوری پوٹلی ہی ہل گئی تھی۔ لیکن یہاں ایسا ہوتا بظاہر  کچھ نظر نہیں آ رہا۔ کیوں کہ عون شیرازی بھائی نوٹس پہ مسکرائے جا رہے ہیں۔ اور شنید یہی ہے کہ اس نوٹس سے چند مزید ویڈیو بلاگز وہ نکال ہی لیں گے۔ ویسے بھی موضوعات اتنے ہوتے ہیں ان کے پاس کہ ہم ایک بلاگ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اگلے بلاگ کی اطلاع موصول ہو جاتی ہے۔ نوٹس ملنے کی خوشی اس لیے کہ وکیل تو دعائیں کرتے ہیں کہ ان پہ کوئی درخواست، کوئی کیس ہو اور انہیں نوٹس ملے۔ اور ان کی وکیلانہ صلاحیتوں کو ویسے بھی زنگ لگا ہوا ہے۔ لہذا قوی امید ہے کہ وہ وکالت کی گاڑی کا تیل پانی چیک کر چکے ہوں گے اور ایکسیلیٹر پہ پاؤں رکھنے والے ہی ہوں گے۔
صحافیوں کو نوٹس ملنا کوئی نئی بات نہیں۔ بعض اوقات صحافی حضرات سستی شہرت کے لیے کسی متنازعہ معاملے میں ٹانگ اڑا دیتے ہیں تو کبھی کبھار مکمل جھوٹ کا سہرا لیتے نظر آتے ہیں۔ عون شیرازی صاحب کے معاملے میں یہ دونوں صورتیں ممکن نہیں۔ وہ کسی معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہی تب ہیں جب ان کو رمضانی انتہائی حد تک مجبور کر دے۔ اور مکمل حقائق وہ خود نہ  تصدیق کر لیں۔ رمضانی تو اکثر ان سے ڈانٹ بھی کھاتا نظر آتا ہے کہ وہ حقائق کے حوالے سے کبھی سمجھوتا نہیں کرتے۔ اس معاملے میں بھی امکانی صورتحال بھی یہی ہے کہ کچھ حقائق شاید  ان کے سامنے آئے جس کی اپنے تئیں پہلے انہوں نے چھان پھٹک کی ہو گی۔ الیکٹرانک میڈیا کی مجبوریوں کی وجہ سے بلاگ بنا ڈالا۔ ان کی وال دیکھیے، ان کے سوشل میڈیا فورمز دیکھیے، انہیں پریشانی نوٹس ملنے کی نہیں ہے۔ انہیں پریشانی صرف یہ نظر آتی ہے کہ افطار پارٹیوں کا بندوبست کرونا کے حالات میں کیسے کریں گے۔ چھ فٹ کا سماجی فاصلہ کی قدغن کے باوجود یار دوست ان کا پیچھا نہین چھوڑیں گے۔ اور وہ سب شکر کر رہے ہیں کہ نوٹس ملا شیرازی بھائی کو کہ ہاتھ تو ہمارے لگے وہ۔

عدالت میں کیا ہونا ہے کیا نہیں اس پہ بحث ہرگز نہیں کہ قلم عدالتی معاملے پہ کچھ تحریر کرنے کی جرات کر نہیں سکتا۔ ہاں مگر سید عون شیرازی بھائی کو اتنا ضرور کہنا چاہیں گے کہ بھائی جان! آپ اپنی جیب پہ نظر رکھیے اب، کہ لاہور سے سید بدر سعید آپ کی حمایت کے بہانے افطاری لینے شاید خود اسلام آباد پہنچ جائیں۔ اور اپنے کے ایم خالد صاحب کو تو مل بیٹھنے کا بہانہ چاہیے وہ بھی آن دھمکیں گے۔ اور نا بھی روزہ ہوا تو چڑھے دن میں تو آپ کی جیب پہ اثر نہیں پڑے گا لیکن افطاری کے وقت اور بعد از افطاری آپ کو نوٹس ملنے کی خوشی میں آپ کی جیب پہ ہلا بولا جائے گا۔ خبری نے خبر دی ہے کہ شیرازی بھائی نے رمضانی سے اس صورتحال میں مشورہ کیا ہے کہ کیسے جان چھڑائی جائی کے ایم خالد، بدر سعید اور شاہد کاظمی جیسے ساتھیوں سے کے نوٹس تو ان کے لیے جادو کی چھڑی بن جائے گا۔ لیکن آخری موصولہ اطلاعات کے مطابق رمضانی اس معاملے میں مکمل بے بسی کا اظہار کر چکا ہے۔ اب شیرازی صاحب پریشان ہیں کہ نوٹسِ ہرجانہ پہ وہ کچھ ادا کریں نہ  کریں، لیکن دوستوں کی افطاریوں میں بہت کچھ ادا ہو جائے گا اور شاید وہ گنگناتے نظر آئیں کہ “وہ قرض اتارے ہیں  جو  واجب بھی نہیں تھے”۔

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *