مرد۔۔گُل رحمٰن

مرد
تو کون ہے ؟
اے مرد آخر تو کون ہے ؟
ابن صفی
مرد مومن
بندہ پرور
نور خدا
پیغمبر و انبیا
یا پھر وہ جو دکھتا ہے۔۔
کرّہ عرض پہ چھایا
زمیں پہ چلتا پھرتا
انسان یا پھر حیوان ؟
اگر انسان ہے تو تیری پہچان کیا ہے؟
وہ جو تجھے بخشی تیرے رہبر و رہنما نے
یا وہ جو تو نے نسل در نسل اپنا لی ، بنا لی ہے
ایک شکل ،ایک چہرہ، ایک شخصیت اور ایک کردار
وہ کردار جس میں تو ڈھل جاتا ہے
کبھی شفیق بن کر کبھی رفیق ،
کبھی وقار ، کبھی قہار،
کبھی رازق ، کبھی فاسق،
کبھی معبود اور کبھی نمرود ،
یہ سب تیرے ہی رنگ ہیں۔۔۔
اور کتنے عجیب ہیں یہ سب رنگ
تہہ در تہہ
پرت در پرت
جس میں تو چھپا ہے ۔۔۔
یہ رنگ چاندنی کی سفیدی سے اماوس کی کالک جیسے بدلتاہے
قوسِ  قزا ع کے رنگوں سے سُرمئی ساون کے رنگ جیسے بدلتا ہے
کچھ پھیکا کچھ مدہم
مٹنے کو تیار یہ رنگ
لیکن اصل رنگ کیا ہے ، کیسا ہے اور کیوں ہے؟
اوراگر یہ رنگ و نسل کا فرق ہے تو اسے مٹا دو !
آخر کیوں ہے یہ فرق ؟
اگر حیوان ہے تو تیری صفت کیا ہے؟
وہ جو تجھے بخشی تیرے رب یا خدا نے
یا وہ جو تو نے سیکھ لی ، بنا لی
ایک شکل ،ایک چہرہ، ایک شخصیت اور ایک کردار
وہ کردار جس میں تو ڈھل جاتا ہے
کبھی خوفناک بن کر کبھی خطرناک ،
کبھی ہیبت ناک ،کبھی درد ناک
کبھی افسوس ناک اور کبھی شرمناک
یہ سب تیرے ہی رنگ ہیں ۔۔
اور کتنے عجیب ہیں یہ سب رنگ
تہہ در تہہ
پرت در پرت
جس میں تو چھپا ہے ۔۔
یہ رنگ چہرے کی کالک سے خون کی سفیدی جیسے بدلتا ہے
یہ شعولوں کی لالی سے کوئلوں کے کالے رنگ جیسا بدلتا ہے
کچھ گہرا کچھ گاڑھا
نہ مٹنے کو تیار یہ رنگ
لیکن اصل رنگ کیا ہے ، کیسا ہے اور کیوں ہے؟
اگر یہ رنگ و شکل کا فرق ہے تو اسے ہٹا دو !
آخر کیوں ہو یہ فرق ؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *