انٹر نیٹ کا فقدان اور آن لائن کلاسز۔۔سازین بلوچ

طالبعلم نرسری سے لے کر پی ایچ ڈی تک  ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی فیس نہ دینے پہ  سکول پرنسپل سے مار پڑتی ہے تو کبھی ٹائی یا بیلٹ نہ پہننے پہ کلاس ٹیچر سے ڈانٹ پڑتی ہے، تو کبھی سوال پوچھنے پہ ٹیچر “بدتمیز بچہ” بول کے نظرانداز کرتی ہے، تو کبھی میٹرک میں اچھے گریڈ نہ لانے پہ والدین کی ناراضگی سہنا پڑتی  ہے، تو کبھی پریکٹیکل ورک پہ ایک تصویر غلط بنانے پہ  عزت افزائی ہوتی  ہے۔

ایک طالبعلم کی زندگی اس ہڈی کی مانند ہے جس کو نہ نگلا جاتا ہے نہ اُگلا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ  اگر نگل لیا جائے تو زندگی بھر اسی ہڈی کو لے کے چلنا پڑتا ہے جو بہت دشوار ہے ،اور اگر اُگل لیا جائے تو زندگی بھر در در کی ٹھکریں کھانا پڑتی ہیں اور ایسی درد ناک ٹھوکریں ہوتی ہیں کہ  ہر روز لگتی ہیں۔
ایک طالب علم کی زندگی تین سال کی عمر سے لے کے جوانی تک ایک کھلا امتحان ہے جس میں کبھی پاس تو کبھی فیل ہو کر سفر جاری رہتا ہے۔ہمارے یہاں  سکول، کالج اور پھر یونیورسٹی میں طلباء کو ایک ایسے فالتو طوطے کی مانند رکھا جاتا ہے جو دوسروں کی بولی بولنے پہ مجبور ہوتا ہے۔

کرونا کے ان نازک حالات میں بھی طلباء کو ظلم کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ کیوں کہ  رسی جہاں پہ کمزور ہوتی ہے وہیں سے ٹوٹتی ہے، تو جناب طلبا  جو  سکول کے تیرہ سال اور پھر کالج کے دو سال گزار کے یونیورسٹی پہنچتے ہیں تو انہیں ان نازک حالات میں ڈپریشن کا شکار بنایا جاتا ہے۔

پچھلے کئی ہفتوں سے طلباء کے ساتھ ایک اور زیادتی ہو رہی ہے آن لائن کلاسز کے نام پر،ایچ ای سی  نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ  وہ ستمبر تک یہ سمسٹر ختم کروا کے ہی رہے گا ،آن لائن کلاسز کا سہارا لے کر، جبکہ 50فیصد طلباء بلوچستان کے اندرونی دیہاتوں، جنوبی پنجاب، فاٹا اور اندرون سندھ سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ  اس جدید دور میں پانی اور بجلی جیسی سہولیات سے محروم ہیں، انٹرنیٹ تو دور کی بات ہے، ان کے پاس موبائل فون کے سگنلز بھی بہت مشکل سے آتے ہیں۔ ایسے طلباء ان حالات میں آن لائن کلاسز کا سوچ بھی نہیں سکتے اور جناب آپ تو کلاس لینے کی بات کر رہے ہیں۔ ایسے میں ناانصافی سے بھی بڑھ کر اگر کوئی لفظ  ہوتا تو وہ بھی آپ کے اس احمقانہ فیصلے کے آگے  بے معنی  محسوس ہوتا۔

بلوچستان پہلے سے پسماندگی کا شکار صوبہ ہے۔ جو اس جدید دور میں بھی پانی، بجلی، تعلیم اور موبائل سگنلز جیسی بنیادی سہولیات مانگ رہا ہے۔ اس صورتحال میں آپ ان سے آن لائن کلاسز کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟

بلوچستان میں انٹرنیٹ سروس کا بہت زیادہ فقدان ہے۔ جن علاقوں میں انٹرنیٹ ہے، وہ بھی بدترین سست رفتاری کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہے، تو آپ کے اس فیصلے سے تو تمام طلباء کے ساتھ سراسر زیادتی ہو گی۔۔۔ کیا ہم طلباء برابری کے مستحق نہیں ہیں؟ اور رہی بات آن لائن کلاسز کی تو جناب کلاسز تو آپ لیں گے تو کیا پریکٹیکل ورک بھی  آنلائن ہی  ہوگا ؟

ایچ ای سی نے آن لائن کلاسز اور نیٹ کے حوالے سے ایک سروے فارم تک جاری کر دیا ہے، لیکن جناب وہ فِل بھی تو آن لائن ہی ہوگا، جن کے پاس انٹرنیٹ کا فقدان ہے وہ کیسے فِل کر پائیں گے، کیوں کہ  مسئلہ تو انہی  کو ہے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کا۔

جو بچے  سکالر شپس پہ پڑھ رہے ہیں، چاہے وہ بلوچستان سے ہوں، سندھ سے یا پنجاب اور خیبرپختونخوا  سے  ، وہ غربت کے مارے ہیں، ان کے پاس انٹرنیٹ تو دور کی بات،  سمارٹ فونز تک موجود نہیں ہیں۔ جناب آپ اس پہلو کو بالائے طاق رکھ کر فیصلہ تو کر رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں طلباء کی زندگیوں کے ساتھ کھیل بھی رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط اور قانون کے بھی خلاف ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری کچھ یونیورسٹیز نے تو اپنے آن لائن  امتحانات بھی شروع کروا دیے ہیں، جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

جو لیکچرار یا پروفیسرز ہیں وہ بھی آن لائن کلاسز کے دوران دلچسپی لے کر نہیں پڑھاتے۔ ان کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ  آن لائن کلاسز کے دوران بہت شور شرابا ہوتا ہے، جس سے نہ طلباء پڑھ پاتے ہیں، نہ لیکچرر لیکچر دے پاتے ہیں۔ اسی طرح طلباء کی تعلیم جو کہ  پہلے  ہی اعلیٰ   معیار کی نہیں تھی ،مزید پستی کی طرف جا رہی ہے۔

اگر کیمبرج جیسی یونیورسٹیاں اپنے بچوں کو پروموٹ کر سکتی ہیں تو ہمیں کیوں نہیں کیا جا سکتا۔؟

یہ فائدہ اٹھانے والے کرپٹ مافیا کے علمبردار ہیں جو لاکھوں روپے کرپشن کرتے ہیں اور وہ کرپشن ہم غریب طلباء کی بڑھتی ہوئی فیسوں سے وصول کی جا رہی ہے۔
آن لائن کلاسز لینے والے طلباء کو ڈگری تو مل جاتی ہے لیکن وہ ان سوالات کے جواب نہیں ڈھونڈ پاتے جو کہیں سالوں سے ان کے ذہنوں میں دفن تھے۔ وہ طلباء گریجویٹ تو کہلائیں گے، لیکن تعلیم یافتہ نہیں بن پائیں گے۔

میری گزارش ہے کہ آن لائن کلاسز کے دوران طلباء کی ان مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ اگر یہ مشکلات آنے والے دنوں میں اسی طرح سے برقرار رہتی ہیں، تو پھر ہم طلباء بھی ان غیر معیاری کلاسز کے بائیکاٹ کا جمہوری حق  محفوظ رکھتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کے لیے ملک گیر سطح پر آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کریں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *