ادب ایک رویہ۔۔حسان عالمگیر عباسی

ادب محض جمالی ضرورتوں کو پورا کر لینے اور اس کے لیے خدمات سر انجام دینے والوں کے اقوال زریں کو از بر کر لینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک رویہ ہے جو زندگی میں ایک مقام و مرتبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ادب ہماری سوچ کو تنقیدی نقطہ نظر اور تنقید کو اصلاحی نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔ ادبی شخصیت معاشرے کی عکاسی اور نمائندگی کرتا ہے۔ وہ معاشرتی مسائل کی فہرست میسر کرتا اور مسائل کے حل کی تجاویز دیتا ہے۔ ادب ہمیں سکھلاتا ہے کہ ہم نے کیسے سیکھنا ہے۔ ادب ایک کیفیت کا نام ہے جو معاشرتی حقائق پر نظر جمانے کا موقع عنایت کرتا ہے۔ ایک انسان کی تنقیدی صلاحیت و قابلیت ادب میں دلچسپی سے چسپاں ہے۔ یہ ایک سوچ ہے جو ناقد کو عمارت گر جبکہ تنقید کو صنعت تصور کرتا ہے۔ یہ وہ تعریف ہے جو ادب کی دی گئی سوچ کی آزادی کی بیان کردہ ہے۔

ادب آپ کو سوچ کی آزادی ہی نہیں بلکہ جو سمجھ آنے لگے اس کو سمجھانے کی بھی قدرت عطا کرتا ہے بشرطیکہ”‘ہدف” سمجھنا چاہے۔ ادب اہداف کا تعین ہی نہیں بلکہ ان تک پہنچنے کے لیے اعتماد فراہم کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ تجدید و تحقیق کے میدان میں جد امجد کے “کہے”کہتے جانے کے ساتھ ساتھ “خلق'”کو تخلیق سکھاتا اور ریت روایات کی روانی کا بھی قائل ہے۔ ثقافتی ورثوں کے تحقیقی مطالعے سے لے کر اس کے وارثین تک رسائی کو ممکن بناتا ہے۔

اس سب کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ طلباء کو سوالات اٹھانے اور جوابات ڈھونڈنے کے لیے اُکسایا جانا از حد ضروری ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب اساتذہ طلباء کے سوالات لینے میں دلچسپی لیتے ہوں اور طلباء ان سوالات کے جوابات دینے میں کسی بھی طرح کی اکتاہٹ نہ محسوس کرتے ہوں۔ دیکھنے کو عموماً یہی ملتا ہے کہ طلباء سوالات اٹھانا تو دور بلکہ ان کا سوالات سے قبل اجازت طلب کرنے کی غرض سے انگلی اٹھانا بھی اساتذہ کو کھٹکنے لگتا ہے۔ ایسے میں کچھ اساتذہ پائے جاتے ہیں جو نا صرف سوالات لیتے ہیں بلکہ ان طلباء کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں جو تنقیدی جائزہ لینے والے اور سوالات کے انبار لگانے والے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کھلے دل سے کسی کی بھی طرف سے کسی بھی قسم کے سوال کو سننے اور مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب اساتذہ اپنے مرتبے و ذمہ داری کو محض عہدہ سمجھنے لگیں تو تفریق جنم لیتی ہے۔ طلباء اساتذہ سے سوالات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب رویوں سے علم کا غرور نظر آنے لگے۔ دوسری جانب کچھ اساتذہ تفریق پہ یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی غرور کی چادر اوڑھنے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ ادب کی روح اور اس کے مطالبات سے واقفیت رکھتے ہیں ۔وہ ایک ذمہ داری نبھاتے ہوئے اور تفریق مٹا کر اعتماد کرتے اور دلاتے ہیں۔ طلباء بڑے اعتماد کے ساتھ جو کچھ پوچھنا چاہیں پوچھتے اور ، بااعتماد اداروں کی جانب سے ،با اعتماد جواب ملنا یقینی ہوتا ہے۔

اساتذہ اگر سمجھنے لگیں کہ کبھی وہ بھی طلباء کی جگہ پر ہوا کرتے تھے اور اساتذہ سے حتی الامکان علمی تعاون کی امید لگائے بیٹھے رہتے تھے تو سمجھنا قدرے آسان ہے کہ “سیکھنا” دراصل ایک “طریق عمل” ہے جو قید و بند سے آزاد ہر وقت لچکدار ہی رہتا ہے۔ اس ضمن میں طلباء بھی کبھی کبھی کچھ سکھلانے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔اساتذہ طلباء کو نہ صرف سکھاتے ہیں بلکہ ان کو طلباء سے سیکھنے کو بھی ملتا ہے۔ اکثر و بیشتر طلباء ہی بات چیت رکھنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے اور اساتذہ کو اصلاح کا کام کرتے رہنا چاہیے۔ کچھ اساتذہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ طلباء کو جواباً مطمئن نہ کر پائے تو مسائل جنم لیں گے لیکن ایسی صورت میں طلباء سے مدد لے لینےہی کو عزت افزائی تصور کرنا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *