ناول، - ٹیگ

اب کیا کروں ؟۔۔عارف خٹک

بچپن سے سنا کرتے تھے کہ لکھنے والوں کی بڑی عزت ہوتی ہے۔ لڑکیاں لکھنے والوں پر مرتی  ہیں۔ سو ہم نے جاوید چودھری کو دیکھا کیا اور کالم نگاری کے میدان میں کود پڑے کہ چلیں اب ہم ہوں←  مزید پڑھیے

شیطانی آیات ، سلمان رشدی اور جنرل حمید گل: چند تاریخی نکات/تحریر-رشید یوسفزئی

شیطانی آیات Satanic Verses بین الاقوامی شہرت یافتہ اشاعتی ادارے پینگوئن نے شائع کیا۔ حسن اتفاق یا سوئے اتفاق یہ کہ اسی دوران اسی ادارے نے بے نظیر بھٹو  کی کتاب" دختر َمشرق" Daughter of the East بھی شائع کی۔←  مزید پڑھیے

خفیہ منظوری-ناول(Secret Sanction) باب اوّل،حصّہ اوّل-مترجم/جیسمین محمد

فورٹ براگ (کیلیفورنیا) کا شہر اگست کے مہینے میں انتہائی خوفناک ہو جاتا ہے، آپ اس کی ہوا میں موجود سلفر کی بدبو سونگھ سکتے ہیں حالانکہ حقیقت میں یہ سلفر نہیں ہے۔ یہ اٹھانوے فیصد نمی ہے، جس میں←  مزید پڑھیے

یہ مردوں کا میدان ہے ،آپ حد سے تجاوز کررہی ہیں۔۔عامر حسینی

میں ناول پہ بات شروع کرنے سے پہلے ایک بات واضح کردوں کہ میں ادب کا ایک ایسا قاری ہوں جو ادب کو ایک تو حظ اٹھانے کے پڑھتا ہے اور دوسرا اس میں سماجی حقیقت نگاری کو ترجیح دیتا←  مزید پڑھیے

بہاؤ(مستنصر حسین تارڑ)-تبصرہ/ظفر اقبال وٹو

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک گرم رات کو آپ سائیڈ ٹیبل پر پڑے گلاس کو پانی پینے کے لئے ہاتھ لگائیں اور گلاس کی ٹھنڈک کے نشان سے یہ احساس ہو کہ بیرونی حصے میں پانی کی ٹھنڈ یا←  مزید پڑھیے

سلمان رشدی کا ناول ” شالیمار کا مسخرہ “۔۔احمد سہیل

مرقع ذات سلمان رشدی ایک ہندوستانی نژاد انگریزی ناول نگار، نقاداور اشتہاری فلمموں کے اداکار ہیں، جو مشرق اور مغرب کی ثقافتوں کے درمیان نوآبادیاتی دور کے بعد کے تعلقات کے بارے میں شاندار ناولوں کے لیے مشہور ہیں۔ احمد←  مزید پڑھیے

مشرف عالم ذوقی کا فکشن۔۔نادیہ عنبر لودھی

مشرف عالم ذوقی ایسے لکھاری تھے جن کے 14 ناول اور افسانوں کے 8 مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔مشرف عالم ذوقی کا فکشن نئی معاشرتی تبدیلیوں ، وقت کے نئے تقاضوں ، گرتی ہوئی اخلاقی اقدار ، ٹیکنالوجی کی یلغار جیسے مسائل پر اپنا نشتر چلاتا ہے←  مزید پڑھیے

حقیقت سے فرار کی ناکام کوشش۔۔بلال حسن بھٹی

بچپن میں جب آس پاس کے لوگ آپ کی تعریف کر رہے ہوں تو آپ کے اندر خود اعتمادی آ جاتی ہے۔ ایک ایسی خود اعتمادی جو آپ کو وقت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط شخصیت بنا دیتی ہے۔ لیکن←  مزید پڑھیے

عبداللہ حسین-ایک ادھو ری ملا قا ت کی کہا نی۔۔رابعہ الرّباء

عبد ا للہ حسین بھی ایک ایسا ہی د نیا وی کر دار تھا۔جو اس دنیا میں مو جود ہو تے ہو ئے بھی مو جو د نہ  تھا۔اس کی ایک اپنی کا ئنات تھی جس میں وہ مقیم نظر آتا تھااور یہ کا ئنا ت اتنی وسیع تھی کہ عا م انسان  کی دستر س ودانست سے ذرابا ہر تھی۔←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(8)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

مٹرو کے منہ سے ایک لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ وہ تو کچھ اور سوچ کر چلا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ کتنے ہی درد کے سوئے ہوئے تاروں کو چھیڑنے جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ کافی دیربعد←  مزید پڑھیے

2021 کے ادبی نوبل انعام ناول نگار عبد الرزاق گورنہ کا ناول (By the Sea) کا تنقیدی تجزیہ۔۔احمد سہیل

نومبر کی دوپہر کے آخر میں صالح عمر بحر ِ ہند کے ایک دور جزیرے زنجبار سے گیٹویک ( Gatwick)ہوائی اڈے ( برطانیہ) پر پہنچے ہیں ۔ ان کے پاس ایک چھوٹا سا تھیلا ہوتا ہے جس میں اس کا←  مزید پڑھیے

دنیا کی کم عمر ناول نگار سعودی مصنفہ ” ریتاج الحازمی”۔۔منصور ندیم

مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرے والدین جب یہ کہہ رہے تھے کہ میرا نام گنیز بک Guinness World Record میں آگیا ہے، یہ الفاظ سعودی عرب کی 12 سالہ مصنفہ  ریتاج الحازمی کے ہیں، ان سے تین←  مزید پڑھیے

آہ ! سوشانت سنگھ راجپوت : کیوں ہم زندگی کی نعمتوں سے فرار حاصل کرتے ہیں ؟۔۔مشرف عالم ذوقی

ہم ایک اندھیرے کمرے یا ڈارک روم کی گھٹن کا حصّہ ہیں ، اس لئے ان افسانوں کو تابوت یا بند کوٹھڑی سے نکالنے کا بہترین وقت ہے ، جہاں تاریخ انہیں رکھنے کے بعد ہمیں مردہ انسان میں تبدیل←  مزید پڑھیے

اداس نسلیں از عبداللہ حسین ۔۔۔۔تبصرہ:اظہر احمد

پاکستان کاایک ناول اور افسانہ لکھنے والا جسےپاکستان سمیت دنیا بھر میں پذیرائی ملی۔وہ شخص جس نے اردو ادب کے لامحدود سمندر میں اداس نسلیں،باگھ،نادار لوگ، قید،رات،سات، رنگ، واپسی کا سفر،نشیب اور فریب جیسے بہترین ناولوں کو موتیوں کے مثل←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط14)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”ٹھیک سے بیٹھو۔گھبرا کیوں رہی ہو؟ اور ہاں شیشہ نیچے کرو۔ تمہیں ٹھنڈی ہوا لگے۔“ اُس نے شیشہ آہستہ آہستہ نیچے کیا۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سختی سے بھینچے ہونٹ یوں بند تھے جیسے کبھی نہیں کھُلیں گے۔←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط7)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر میں پیدا نہ ہوتی تو خدا کی اِ س وسیع کائنات میں کیا کمی رہ جاتی؟“ یہ دُھند اورکُہر میں ڈوبی ہوئی ایک صُبح تھی اور وہ  سکول جا رہی تھی۔ اُ←  مزید پڑھیے

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(سینتیسواں دن)۔۔گوتم حیات

آج مجھ سے کچھ بھی نہیں لکھا جا رہا۔ایسا لگ رہا ہے کہ لکھنے کے لیے سب الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ اس وقت رات کے نو بجنے والے ہیں۔ میں گزشتہ دو گھنٹوں سے اس سوچ بچار میں ہوں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط3)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اب ایسی بھی کوئی بات نہ تھی کہ وہ اپنی اِس گھبراہٹ اور بے چینی کو جویوں بیٹھے بٹھائے تپ ملیریا کی طرح یکدم اُس پر چڑھ دوڑی تھی کے پس منظر سے ناواقف تھا۔ ٹھنڈے پانی سے لبالب بھرے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط2)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اپنے گھر کے بیرونی تھڑے پر بیٹھا اور وہاں محفلیں سجاتا اب وہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ ایک تو اُس نے تاڑ جتنا قد نکال لیا تھا۔ دوسرے اب وہ کوئی ارمنی ٹولہ ہائی  سکول کے چوتھے پانچویں درجے میں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط1)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اس  ناول کا پس منظر متحدہ پاکستان کی سر زمین ہے جو کبھی اپنی تھی۔اس میں سابق مشرقی پاکستان کی جھلکیاں یقیناً آ پ کو محظوظ کریں گی۔ یہ نچلے متوسط طبقے کی لڑکیوں کی نا آسودہ خواہشیں، حسرتیں، خوابوں←  مزید پڑھیے