صنوبر ناظر کی تحاریر

کتابوں کی برانڈڈ دکانیں/صنوبر ناظر

کل سے سعید بک بینک پر دھواں دھار پوسٹیں چل رہی تھیں جس پر کل شام ہمارے کتاب دوست بھائی فیصل بزدار نے توجہ مبذول کروائی تو رات اسامہ خواجہ اور حسنین جمال کی پوسٹوں کو پڑھا اور ان کے←  مزید پڑھیے

میں کس عجائب گھر میں رہتا ہوں ؟-صنوبر ناظر

آج چاند کی چودہ تاریخ ہے اور جمعہ کا دن۔۔ وکٹوریہ البرٹ میوزیم لندن صرف جمعہ کے دن صبح دس سے رات دس بجے تک کھلا رہتا ہے۔ اور اب ساڑھے دس بجنے آئے ہیں۔ دوسری شفٹ پر موجود عملے←  مزید پڑھیے

زبان حال یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے/صنوبر ناظر

دو دہائی قبل لکھنؤ کا ویزہ لگنے کے باوجود لکھنؤی تہذیب کو دیکھے بنا آجانا بدقسمتی نہیں تو اسے اور کیا کہیے؟ دلّی آگرہ سے چھ گھنٹوں کا ہی تو فاصلہ تھا لیکن کم وقت میں کیا کیا دیکھیے یہ←  مزید پڑھیے

ہیرا منڈی شاہکار یا یکسانیت کا شکار؟-صنوبر ناظر

بھنسالی جی کی “ہیرا منڈی” کی hype پتیلے میں چڑھے اس دودھ کی مانند ہے جو تیز آنچ پر اچانک ابل کر چولہے کی آنچ بھی بجھا دے اور بالائی بھی غارت ہو جائے۔ کئی دوست ہیرا منڈی کے بارے←  مزید پڑھیے

دردِ دل کے واسطے /صنوبر ناظر

ہائے ہائے ان موئے ہندو چماروں کو کون اس گلاس میں پانی دیے؟ اب انوں کے بھی چاؤ چونچلے کیے جاویں گے؟ پھینکیو اس ناس مارے گلاس کو کوڑے دان میں …ناپاک کر دیوں میرے جہیز میں چڑھے برتنوں کو،←  مزید پڑھیے

عورت کی زندگی کے ادوار/صنوبر ناظر

شش شششش چپ ، چپ وہ آرہی ہے۔ وہ جیسے ہی اپنی ہم عمر کزنز کے جھرمٹ میں پہنچتی تو ساری لڑکیوں کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ـ وہی کزنز اور دوستیں جو اس کے آنے سے پہلے سر جوڑے←  مزید پڑھیے

ببو/صنوبر ناظر

وہ پچھلے پندرہ منٹ سے میری گود میں اپنا سر رکھے سکون سے لیٹا تھا۔ میں آہستہ آہستہ اسے سہلا رہی تھی۔ اسکی آنکھیں ابھی تک نم تھیں۔ آج پہلی بار میں اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر حیران←  مزید پڑھیے

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے/صنوبرناظر

(اگر منٹو اور موپاساں ملتے تو کیا گفتگو کرتے ) آج صبح سے طوفانی بارش نے پیرس کی تمام شاہراہوں کو جل تھل ایک کیا ہوا ہے۔ ایفل ٹاور کی دوسری منزل کے ایک ریسٹورینٹ کے ایک پرسکون گوشے میں←  مزید پڑھیے

وہ جو تاریک راہوں میں ماری گئیں/صنوبر ناظر

وہ گہری نیند سے ہڑبڑا کر ایک دم سے اٹھ بیٹھی اور دونوں ہاتھ اپنے گلے پر ایسے پھیرنے لگی جیسے تسلی کرنا چاہ رہی ہو کہ گردن تن سے جدا تو نہیں۔ نظریں زمین کو بے یقینی سے تکنے←  مزید پڑھیے

نہ سر جھکائیں، نہ ہاتھ جوڑیں/صنوبر ناظر

عورت مارچ ان خواتین کے نام جو مساوات، تنوع، اور شمولیت کے لیے آواز بلند کرتی ھیں اسی لئے اس سال کی تھیم “خواتین کو آگے لاؤ، ترقی کی رفتار بڑھاؤ ” رکھا گیا ہے۔ پھر آن پہنچا ہے وہ←  مزید پڑھیے

باغی عورتیں/صنوبر ناظر

20 دسمبر 2020 کی خنک دوپہر کریمہ بلوچ نے اپنا گرم کوٹ پہنا اور حسب معمول اپنے شوہر کی طرف مسکرا کر بولی “تھوڑی چہل قدمی کرکے آتی ہوں”۔ خوبصورت چہرے اور چمکتی ہوئی آنکھوں والی کریمہ اکثر جھیل کے←  مزید پڑھیے

ناٹک پرانا چل رہا ہے/صنوبر ناظر

کم از کم الیکشن کے انعقاد کے بعد اس ابہام کا تو قلع قمع ہوا کہ آیا الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں۔ لیکن اس بار بھی ووٹنگ کے بعد چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی الیکشن کے سو فیصد←  مزید پڑھیے

نور کی سیانیاں اور دیوانیاں/صنوبر ناظر

کہتے ہیں کہ عورت حسین ہو اور پھر سمجھدار بھی ہو تو یہ ’لیتھل کومبینیشن ‘ کہلاتا ہے لیکن نور ظہیر نے اپنے نئے افسانوں پرمشتمل کتاب ’سیانی دیوانی‘ میں عورت کے انکار کرنے کی جراًت کو بھی اس ’کومبینیشن‘←  مزید پڑھیے

جمہوریت اور انتخابات تاریخ کے آئینے میں/صنوبر ناظر

بات چاہے ڈیموکریسی (جمہوریت) کی ہو یا الیکشن ( انتخابات) کی ، تانا بانا قدیم یونانی یا رومن تہذیب سے ہی ملتا ہے۔ ڈیمو کا مطلب لوگ اور کریسی کی معنی طاقت کے ہیں یعنی “لوگوں کی طاقت “۔کہا جاتا←  مزید پڑھیے