یہ مردوں کا میدان ہے ،آپ حد سے تجاوز کررہی ہیں۔۔عامر حسینی

میں ناول پہ بات شروع کرنے سے پہلے ایک بات واضح کردوں کہ میں ادب کا ایک ایسا قاری ہوں جو ادب کو ایک تو حظ اٹھانے کے پڑھتا ہے اور دوسرا اس میں سماجی حقیقت نگاری کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن میں کسی بھی طرح سے اپنے آپ کو ادب پہ کوئی فیصلہ صادر کرنے کی اہلیت رکھنے والوں میں شمار نہیں کرتا۔ اس لیے آگے چل کر ناول بارے میں جو باتیں کروں گا وہ میری رائے تو ضرور ہے لیکن یہ ناول کا کوئی ادبی ناقدانہ جائزہ اور حکم ہرگز نہیں ہے۔ آپ میری رائے بڑے شوق سے ایک طرف رکھ سکتے ہیں۔

اس کے بعد میں اہل علم و دانش کی اس مجلس میں یہ اعتراف کروں گا کہ ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے تاريخی سوانحی ناول “می سوزم” کے مطالعے سے پہلے “رابعہ خضداری” کے نام سے ہی واقف نہیں تھا۔ یہاں تک کہ اپنی لاعلمی کے سبب میں یہ خیال کر بیٹھا کہ شاید یہ ناول “رابعہ بصری” کے بارے میں لکھا گیا ہوگا اور مجھے یہ بات تنگ کررہی تھی کہ ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے اسے رابعہ خضداری بناکر کیوں پیش کیا ہے؟

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
عامر حسینی ناول کی تقریب رونمائی میں مضمون پڑ رہے ہیں

میں نے ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا  ناول جب پڑھ کر ختم کرلیا تو مجھے یہ توپتا چل گیا تھا کہ “رابعہ خضداری” کوئی اور ہے۔ اس حوالے سے جب میں نے مزید تحقیق کرنا شروع کی تو میرے سامنے یہ بات آئی کہ رابعہ خضداری ہمارے ہاں کلاسیکل محبت کی داستانوں میں سے ایک قدیمی محبت کی داستان کا مرکزی کردار ہے اور ایسا کردار ہے جس کے حقیقی وجود پر تاریخی اعتبار سے بھی کوئی شک نہیں کیا جاسکتا اور اس کی قبر بھی زمانے کی آفتوں کا شکار نہ ہوئی اور وہ آج تک خضدار شہر کے جنوب میں “مسلمانوں کے قبرستان” سے ذرا ہٹ کر “میری بھٹ” میں موجود ہے۔

ناول نگار ایک تو عورت ہیں ، پھر نسلی اعتبار سے بلوچ ہیں اور سب سے بڑھ کروہ نظریاتی اعتبار سے ترقی پسند نظریہ اور فکر سے وابستہ ہیں تو لامحالہ  ان کا فکشن “ادب برائے زندگی ” کے نظریہ کا عکاس نظر آئے گا- انھوں نے کہنے کو ایک تاریخی سوانحی ناول لکھا ہے لیکن اس ناول کے مرکزی کردار کے لیے انھوں نے جس خاتون کا انتخاب کیا وہ بلاشبہ اپنے زمانے کی ترقی پسند، انقلابی سوچ کی مالک ایک خاتون شخصیت ہے۔ جو اپنے زمانے کی انسان کی آزادی کے آڑے آنے والی تمام زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ایک ایسے سماج میں جنم لیتی ہے جو ایک طرف تو مردوں کی بالادستی  ہوتی ہے جس میں عورت بس “زنان خانے” تک محدود ہوتی ہے اور اس کی اپنی پسند ناپسند کچھ بھی نہیں ہوتی ،چاہے اس کا تعلق اس سماج کے حکمران طبقے سے ہی  کیوں نہ ہو۔

۔ ایک ترقی پسند ذہن یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے اور یہ سوال بھی ضرور اٹھاتا ہے کہ کیا رابعہ خضداری جیسی عاشق نوجوان عورتوں کے ہاں مادی محبت کے جذبے کو شدت دینے والے ہارمونز نہیں ہوا کرتے تھے یا مادی وصال کا جذبہ  ان کے جسموں میں مفقود ہوا کرتا تھا؟
 

رابعہ خضداری کی یہ خوش قسمتی تھی کہ وہ خضدار کے ایک ایسے امیر کے گھر پیدا ہوئی جس کے اندر عورتوں کے حوالے سے وہ رجعت پرستی اور جہالت نہیں تھی جو عورتوں کی آزادی کو بالکل برداشت نہ کرپاتی-  یہی وجہ ہے کہ امیر کعب نے نا صرف اپنی بیٹی رابعہ کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا بلکہ اس نے مردوں کے لیے مختص سمجھے جانے والے فنون حرب بھی اسے سکھائے۔ اس نے جب دیکھا کہ اسکی بیٹی میں شعر کہنے کا ملکہ ہے تو اس نے اپنی بیٹی کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی اور دربار میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ بیٹھی نظر آئی۔ خضدار(مکران) اس وقت ایک سخت قبیل داری سماج تھا جس میں عورتوں کی مجلسی زندگی ہوتی ہی نہیں تھی ۔ اس وقت کی ترقی کرنے والی عربی، فارسی، اور بلوچی زبان میں ہونے والی شاعری میں کسی عورت کا نام سِرے سے موجود نہ تھا۔ دور سامانیہ اور صفویہ کے آخر میں جب فارسی شاعری میں رودکی سمرقندی، شہید بلخی،دقیقی اور عبد الشکور کا توتی بول رہا تھا تو ایسے میں رابعہ خضداری کی شاعری نے خاص طور پہ رودکی سمرقندی جیسے شاعر کی شاعری کو براہ راست چیلنج کرنا شروع کردیا- امیر کعب کی زندگی میں تو وہ رابعہ خضداری کی آواز کو بند نہ کرسکا لیکن امیر کعب کے بیٹے حارث کے دور میں اسے موقع مل گیا-

پدر سری سماج میں مردوں کا شاؤنزم اس وقت اور خون خوار ہوجاتا ہے جب اس کا مقابلہ ایک ذہین عورت سے ہو اور وہ اپنی آزادی پہ اور اپنے اختیار پہ کوئی سمجھوتہ کرنے پہ تیار نہ ہو۔ ایسی ذہین عورت جو اپنے فن میں کمال کی بلندیوں پہ ہو اور وہ مردوں کے شاؤنزم کو چیلنج بھی کرتی ہو اور بڑے کاسٹیوم میں چھپے اشراف زادوں کے بالشتیے پن کو بے نقاب کرنے لگ جائے تو ایسی عورت سے نمٹنے کے لیے بونے مرد اس کے گھر کے مردوں اور اس کے قبیلے کے مردوں کی تنگ نظری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں یہ باور کرانے کی  کوشش کرتے ہیں کہ ان کی غیرت، ناموس، آن بان، شان اور ‏عزت سب خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ قبائلی سماج چاہے وہ چوتھی صدی ہجری کا ہو یا آج کا وہاں پہ ایسی ذہین عورتیں جو برملا کسی مرد سے اظہار ِِ عشق بھی کرتی ہوں ان کے لیے “کاری” کی سزا ہوتی ہے۔ ان کو مار دیا جاتا ہے یا زندہ دفن کردیا جاتا ہے۔

رابعہ خضداری کا چوتھی صدی کے مکران میں فارسی اور بلوچی زبان میں اعلیٰ پایہ کی شاعری کرنا اور ایک ترک غلام بکتاش سے اظہار عشق کرنا، اس کی محبت میں گرفتار ہوجانا بہت بڑی بغاوت تھا۔ پھر امیر کعب کا اپنی بیٹی کو اپنے بیٹے پہ فوقیت دینا ایک اور بڑی قیامت تھا جس نے امیر کعب کے بیٹے کو اس خطرے سے دوچار کردیا کہ کہیں اس کا باپ اپنی زندگی میں ہی اپنی بیٹی کو اپنا نائب نہ بنادے اور وہ اپنے باپ کے بعد مکران کی حاکم نہ بن جائے۔ یہ تو بالکل ہی ناقابل برداشت بات تھی۔

رابعہ خضداری کا غلام ترک بکتاش سے عشق اور محبت  اس کے زمانے کے اشراف حاکم طبقات کے لیے ہی پریشان کن امر نہ تھا بلکہ بعد کے زمانوں میں بھی یہ حقیقت ہمارے کئی بلند پایہ صوفیا کو بھی پریشان کرتی رہی ۔

معروف صوفی ابوسعید الخیر کا قول ہمیں ملتا ہے وہ کہتے ہیں کہ رابعہ خضداری کا غلام سے عشق عشق مجازی نہیں تھا اور یہی بات شیخ فرید عطار نیشا پوری اپنی طویل نظم “اللہی نامہ” میں رابعہ خضداری اور بکتاش کی باہمی محبت کی کہانی کو بیان کرتے ہوئے کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔

“جسمانی کشش” اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کےمادی پہلو کی مکمل نفی کرنے کا رجحان ہمیں بار بار ملتا ہے اور عشق مجازی جو عشق حقیقی تک پہنچانے کا واسطہ کہا جاتا ہے اس کے مادی پہلو کو یہ کہہ کر چھپانے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مجازی عشق پاکیزہ تھا۔ ایک ترقی پسند ذہن یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے اور یہ سوال بھی ضرور اٹھاتا ہے کہ کیا رابعہ خضداری جیسی عاشق نوجوان عورتوں کے ہاں مادی محبت کے جذبے کو شدت دینے والے ہارمونز نہیں ہوا کرتے تھے یا مادی وصال کا جذبہ  ان کے جسموں میں مفقود ہوا کرتا تھا؟ اور ایک قبائلی سماج میں ایک آزاد اشراف طبقے کی عورت کا برابری کی بنیاد پہ غلام فوجی سے عشق ۔۔۔۔ اُف توبہ ۔۔ اس پہ جتنا شور مچتا، کم تھا۔

اگرچہ ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے اپنے ناول میں رابعہ خضداری کے بیکتاش کے ساتھ عشق کو عشق حقیقی کے ایک زریعے کے طور پہ ہی پیش کرنے کے طور پہ باقی رکھا لیکن میری خواہش تھی کہ وہ بلوچ امام خاتون کے منہ سے امیر کعب سے اپنے عشق کو جس سچ بیانی کے ساتھ کہلواتی ہیں اسی طرح کی سچ بیانی اگر رابعہ خضداری کا کردار بھی ادا کرتا تو اس ناول کا سماجی حقیقت نگاری کے باب میں مقام اور بلند ہوجاتا۔

اس ناول میں امیر کعب کے بعد امیر حارث  جس طرح سے مکران کو ایک جنگی جنون میں مبتلا ریاست کے طور پہ بدلنے کو بیان کیا گیا ہے اور کسانوں، چرواہوں کو جیسے زبردستی فوج میں بھرتی کرتے دکھایا گیا ہے اور اس طرح کی جبری بھرتی سے بھرتی ہونے والے نوجوانوں کے گھروں میں عورتوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہوتی ہے اس کو بھی کئی کرداروں کے واسطے سے حمیرا اشفاق نے بیان کیا ہے۔ سالم کے  ایک غریب کسان نوجوان لڑکے سے فوجی تربیتی مشقوں کو جاتے ہوئے مکالمہ ہمارے سامنے اس زمانے کے طبقاتی سماج کی بُنت کو کھول کر نہیں رکھتا بلکہ آج کے زمانے کی حقیقتیں بھی ہم پہ عیاں کرتا ہے۔ ایک سکیورٹی سٹیٹ ، ایک ڈیپ سٹیٹ کیسے اپنے وسائل کو برباد کرتی ہے اور کیسے وہ غریب کسانوں اور چرواہوں کے لیے عذاب بن جاتی ہے؟ اس ناول میں یہ تصویر بھی ہمارے سامنے آتی ہے۔ اور ہم اسے پھیلا کر آج کی بلوچستان کی صورت حال پہ منطبق کرسکتے ہیں۔

رابعہ خضداری اپنے زمانے کے اشراف طبقے کی غدار کا کردار ہے۔ وہ اشراف طبقے کے مفادات کی بجائے عام لوگوں کے مفادات کی بات کرتی ہے۔ وہ سماج کو علم و ادب کا گہوارہ بنانے کی حمایت کرتی ہے اور سامان حرب سے بھر دینے اور جنگی جنون کی تسکین کے لیے کسانوں، دست کاروں، چرواہوں اور تاجروں پہ ٹیکسز بڑھانے کی مخالفت کرتی ہے۔ وہ اس زمانے کے سامراجیہ جس کا دارالخلافہ لاہور ہوتا ہے کی جنگوں میں مکران کے غریب کسانوں اور چرواہوں کو ایندھن بنانے کی مخالفت کرتی ہے۔ وہ حسن و جمال کی اقدار کو فروغ دینے پہ اصرار کرتی ہے۔ وہ اظہار عشق کو صرف مردوں کا غیر مشترک حق ماننے سے انکار کردیتی ہے۔ اپنی ذات ، اپنے وجود اور اپنے اختیار کا اظہار کرنے والی کچھ اور عورتیں بھی اس ناول میں ہمیں رابعہ خضداری کے ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں جن میں اللہ وسائی، زبیدہ خاتون، گل رعنا اور امام خاتون کے کردار بھی نمایاں ہیں۔

رابعہ خضداری جہاں حارث جیسے میل شاؤنسٹ، طاقت کے پچاری، جنگ باز اشراف مردوں کے کرداروں کو اس ناول میں ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں وہیں وہ امیر کعب جیسے باپ مردوں کے کردار بھی پیش کرتی ہیں جو حکومت پہ ہوتے ہوئے بھی عورتوں کے جذبہ حریت کو جلا بخشتے ہیں ۔ اور مجھے نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کے رابعہ خضداری – امیر کعب کا جو بانڈ ہے اس کی تہہ میں خود ان کا اپنے والد سے بانڈ بھی کارفرما ہے جس نے انھیں ایک آزاد،خود مختار اور طاقتور خاتون بننے میں مدد دی۔

میں نے اس ناول کی قرآت ثانیہ آج کے بلوچستان اور بلوچ قوم بارے اپنی حسیت کے ساتھ کی اور اس دوران پاکستان کی ریاست کو ڈیپ سٹیٹ اور سکیورٹی سٹیٹ میں بدلنے کی کوشش کرنے والے حکمران طبقات کے سیکشن، اس ریاست کو سامراجی جنگوں میں جونئیر پارٹنر بنانے کی کوششوں اور ہمارے سماج میں پدر سری ، میل شاؤنسٹ رویوں کے ساتھ عورتوں سے ہورہے سلوک بارے اپنے احساسات کے زیر اثر کی ہے اور اس لیے جیسے کہتے ہیں کہ بہترین اشعار اپر ٹون اور لوئر ٹون دونوں کے حامل ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی تعبیر کا پھیلاؤ دور کی کوڑی لانے والا نہیں ہوا کرتا ایسے ہی اس ناول میں مجھے تہہ تہہ در تہہ کثیر تعبیرات چھپی نظر آتی ہیں بظاہر ناول کا بیانیہ بہت سیدھا سادہ لگتا ہے۔

میں امید کرتا ہوں آنے والے دنوں میں پروفیسر حمیرا اشفاق صاحبہ اور ناول لکھیں گی جن میں ہمارے زمانے کی حسیت اور نمایاں ہوگی اور سماجی حقیقت نگاری پہ مبنی ناول لکھنے والوں میں ان کا شمار صف اوّل کی  ناول نگاروں میں ہوگا۔

“میرے بھائی!والد کی زندگی میں یہ چھوٹی سی سلطنت  علم و ادب کا گہوارہ تھی ،لیکن اب سامان حرب اسی طرح سے بھر دیے جیسے ہم دنیا کو فتح کرنے کا منصوبہ بنارہے ہوں”

“یہ مردوں کا میدان ہے، آپ حد سے تجاوز کررہی ہیں”

“ساری جھوک فنا دی”

رابعہ اگرچہ زن بود اما بفضل یزدان جھان بخندیدی فارس

تذکرہ الباب الباب از محمد عوفی

المعجم از شمس قیس بن رازی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شعر العجم از مولانا شبلی نعمانی

مجمع الفصحاء سے ماخوذ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

مثنوی گلستان ارم میں رابعہ خضداری اور غلام بکتاش کی داستان محبت کا المناک انجام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرید الدین عطار کی طویل مثنوی “اللہی نامہ” بھی اسی قصّے پہ مشتمل ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دختر کعب عاشق بود بر غلامی ، اما عشق او از عشق ھائی مجازی نہ بود

حضرت ابو سعید الخیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر رضا زادہ شفق “تاریخ ادبیات در ایران” میں اس کا تذکرہ تک نہیں کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

عبدالرحمان غرامزی “داستان دوستان”

علی اکبر سلیمی “زنان سخنور”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

“میری بھٹ”

خضدار شہر اے جنوب میں ایک چھوٹا سا ٹیلہ ہے جسے “میری بھٹ” کہتے ہیں ۔ مطلب یہ “امیر کا بھٹ/قلعہ” سمجھ لیں – یہ ا یک عسکری قلعے کی طرح لگتا ہے۔ ممکن ہے اس کا تعلق عرب یا غزنوی دور سے ہو یا اس سے بھی پہلے کے دور سے ہو۔ میر کا مطلب کسی قبیلے یا فوج یا علاقے کے سردار کا ہوتا ہے اور میری کا مطلب اس امیر/سردار کے رہنے کی جگہ۔ میری بھٹ میں مسلمانوں کا ایک قبرستان بھی ہے اور اسی قبرستان سے ذرا فاصلے پہ ویرانے میں ایک قبر ہے جسے “دختر خضدار” رابعہ بنت کعب کی قبر کہا جاتا ہے جس کا زمانہ 4 صدی ہجری کا بنتا ہے۔

دور سامانیہ اور صفویہ کے خاتمے 397ہجری سے شروع ہونے والا فارسی شعر و ادب کا دور ، اولین معمار رودکی سمرقندی، شہید بلخی،دقیقی، ابو شکور کی عمرعصر شاعرہ تھی۔

Advertisements
julia rana solicitors

پروفیسر نادر قمبرانی : بلبل خضدار

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply