آج کا وقت بہت ہی بے چینی بے اطمینانی اور انارکی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اس افراتفری کی صورت حال کے پیش نظر اگر کوئی اس میں اصلاح کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دے تو یہ کسی لازوال نعمت← مزید پڑھیے
نوبل انعام یافتہ سائنسدان پیٹر میڈاور کے مشہور الفاظ میں، “وائرس پروٹین میں لپٹی ہوئی بری خبر ہے”۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر وائرس بری خبر نہیں۔ یا کم از کم انسانوں کے لئے نہیں۔ وائرس عجیب ہیں۔← مزید پڑھیے
حافظ فضل محمد صاحب رحمہ اللہ بلوچستان کے دبستان علم اور مذہبی سیاست کا ایک جانا پہچانا نام ہے، کوئٹہ میں آباد معروف قبیلہ "بڑیچ" سے تعلق رکھتے تھے، بچپن میں گھر پر ہی والدہ محترمہ سے قرآن مجید حفظ کیا، پتہ نہیں والدہ نے کتنی محبت اور اخلاص سے پڑھایا تھا← مزید پڑھیے
جذباتی بندوق کے ٹریگر ہوتے ہیں جن کو دوسروں اور خاص کر قریبی لوگوں کی بات، رویے اور عمل کا ہلکا سا دباؤ چاہیے اور پھر دھڑادھڑ فائرنگ شروع ہو جاتی ہے← مزید پڑھیے
کالم نگار سمیع اللہ ملک صاحب نے کیا عمدہ باتیں لکھیں کہ عمران خان کا آج کل “ہم کوئی غلام ہیں ” ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے اس ویڈیو کو بار بار چلایا جا رہا ہے اور یہ← مزید پڑھیے
زندگی خدا کا جمالیاتی معجزہ ہے۔اسی حقیقت سے آشنا ہونے کے لئے خیالات کی مجسمہ سازی سے سوچ و بچار کا چراغ جلا کر اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اور ان تلخ حقائق کا تبادلہ خیال کیا گیا ہے← مزید پڑھیے
مولانا رومی فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے اور درس و تدریس میں مشغول رہتے پر صوفی شاعر کی حیثیت سے شہرت پائی۔ آپ نے تقریباً 3500 صوفیانہ غزلیں اور 2000رباعیات اور رزمیہ نظمیں قلم بند کرائیں۔← مزید پڑھیے
چولستانیوں کے لئے جانور کی موت خاندان کے جوان پُتر کی موت ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصویروں کو خشک سالی سے مرتے ہوئے چند جانوروں کی تصویریں سمجھ رہے ہیں تو جان لیجیے کہ چولستان← مزید پڑھیے
وطن عزیز کی سیاست میں عدم برداشت ، گالم گلوچ ، الزام تراشی ، کردار کشی اور اخلاقیات کی پامالی کوئی نئی بات نہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ اس طرح کے افسوسناک واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں سیاستدانوں← مزید پڑھیے
ایک گہرا سانس لیں۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے پھیپھڑے آکسیجن سے بھر گئے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں۔ اسی فیصد نائیٹروجن اندر گئی ہے۔ یہ فضا میں سب سے زیادہ پائی جانتی ہے اور ہمارے لئے← مزید پڑھیے
کئی بار سوچا کہ اب صرف معاشرتی اور سماجی موضوعات پر لکھوں گا. سیاسی موضوعات پر نہیں لکھا کروں گا کیونکہ اس سے محبت کے بجائے نفرتیں بڑھتی ہیں اور بہت سے دوست اپنے سے دور ہو جاتے ہیں. ہمارا← مزید پڑھیے
بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگیاں کسی کوہلو کے بیل کی طرح گزرتی جارہی ہیں یعنی گردشِ ایام ایک مخصوص گرداب کی زد میں ہے ۔ بقول شاعر کے ْرخ ہواءوں کا جدھر ہے ادھر کے ہم ہیں← مزید پڑھیے
“امی”! یہ تین حرفی لفظ اپنی وسعت میں پوری کائنات سمیٹے ہوئے ہے۔ ماں کا وجود ایک شجر سائہ دار کی مانند۔ امی کی جس خوبی نے ہمیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کی بہادری اور صاف گوئی← مزید پڑھیے
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے ماں نے سب کچھ سکھا دیا لیکن یہ سکھانا بھول گئی کہ اس کے بعد کیسے جینا ہے ـ ماں ایک ایسی← مزید پڑھیے
ایک چیز جو ہماری جلد بہت بار کرتی ہے، وہ کھجلی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات کی آسانی سے وضاحت کی جا سکتی ہے (مثلاً مچھر کاٹنا، پِت نکلنا) لیکن بہت سی ایسی ہیں جن کا علم نہیں۔ ہو← مزید پڑھیے
میں امی جان کے پیچھے بیٹھا ان کے کندھے دبا رہا تھا جب انہوں نے کہا “پتر سلیم، 80 سال بہت ہوتے ہیں, میں تھک گئی ہوں، جانا چاہتی ہوں، ” میں کھلکھلا کر ہنس دیا اور انہیں بانہوں میں← مزید پڑھیے
ہمیں بہت سا پسینہ آتا ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ عام خیال کے برعکس پسینہ خود میں کوئی بھی بو نہیں رکھتا۔ ایکرائن پسینے کو بیکٹیریا کیمیائی طور سے توڑتے ہیں جس کی بو پیدا ہوتی ہے۔ یہ بو← مزید پڑھیے
امن ایک حقیقت کا نام ہے جس کی ضرورت اور تقاضے عبادت کے مترادف درجہ رکھتے ہیں۔اگر عصر حاضر کے مطابق اس فطری تقاضے کا مشاہدہ کیا جائے تو ہمیں تصویر کا الٹا رخ نظر آتا ہے۔ہر سو بے چینی← مزید پڑھیے
سعودی عرب کا مشرقی شہر الاحساء قدیم مصری تمدن سے بھی تقریبا آٹھ ہزار برس پرانی تہذیب ہے۔ اس شہر الاحساء میں دریافت ہونے والے بعض آثار قدیمہ کے کاربن تجزیات اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ آٹھ ہزار← مزید پڑھیے
انسانی جسم میں ایک بڑی ہی اہم شے ہے جو ہمارا پسینہ ہے۔ چمپنیزی میں انسان کے مقابلے میں پسینے کے صرف نصف غدود ہیں اور یہ اپنی حرارت اتنی تیزی سے خارج نہیں کر پاتا۔ بہت سے چوپائے خود← مزید پڑھیے