تیرا سوال میرا جواب؛ ایاز مورس /تحریر-یوحنا جان

آج کا وقت بہت ہی بے چینی بے اطمینانی اور انارکی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اس افراتفری کی صورت حال کے پیش نظر اگر کوئی اس میں اصلاح کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دے تو یہ کسی لازوال نعمت سے کم نہیں۔ اگرچہ اس سرگرمی کرنے والے کے مخالف اور انارکی کے اہل لوگ مسلسل اس کے خلاف سازش اور مداخلت کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ مگر دوسری جانب اصلاح، اُمید کا دیا جلانے کا عمل جاری رکھنا بھی اس کا مشن ہے۔ آندھی ہو یا طوفان گرمی ہو یا سردی اس اعتبار سے ایاز مورس کی شخصیت اپنی مثال آپ ہے۔یہ شخصیت قومی، سماجی،مذہبی،سیاسی اور دیگر موضوعات کا احاطہ کر کے اس کا حل اور عملی نمونہ مجسم کر کے پیش کرتے ہیں۔ایک طرف اُن لوگوں کے لئے جواب بھی ہے جو انارکی کے اہل ایک سازش کا کردار ادا کرتے ہیں۔
میرے نزدیک اس سازشی اور مداخلتی عالم میں اُمید کا دیا جلانا ایسے ہی جیسا کہ اگر کوئی فرعون بنتا ہے تو خُدا موسی بھی ضرور پیدا کرتا ہے۔
کسی نے اُس سے پوچھا:
ُُ”آپ اچھا کیسے لکھتے ہیں؟“
اُس نے جواب میں کہا:
” اچھا پڑھنے سے۔“
کتاب سے منسلک ہونے، اس کی گہرائی،دیا جلانے کا عمل اور اُمید کی کرن روشن کر کے نوجوان نسل کو حوصلہ اور ہمت کے ذریعے راستے پر گامزن کرنا یہی وہ کوالٹی ہے جو ان کا اچھا پڑھنے کا متبادل نام ہے۔
میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل اولاد اور والدین کے مابین کافی دوری پیداہو چکی ہے۔ والدین کہتے ہیں کہ ان کی اولاد خراب ہوچکی ہے، یہ والدین کی نافرمان ہو چکی ہے،لوگ کہتے ہیں کہ آج اولاد تو بالکل والدین کی اہمیت سے ناواقف ہو چکی ہے۔
انہوں نے اس دوری کی وجہ یا پس منظر پر کبھی غور نہیں کیا۔
اس بات پر ایاز مورس اپنے  قلم کا جادو چلاتے ہوئے بیان کرتے ہیں:
”جو والدین اپنے بچوں کی کوششوں کو نہیں سراہتے وہ کبھی بھی ان کے نتائج سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔“
یہ صورتحال کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ہر دوسرا فرد آج کی اولاد، نوجوان نسل کو راہ راست کی بجائے ان کی عزت پامال کرنے کا دعویٰ کرتا ملتا ہے۔ جس کی وجہ سے آج پڑھا لکھا نوجوان طبقہ بالکل مایوسی کا شکار ہو چکا ہے لیکن ایاز مورس جیسی قدرتی فن سے مالا مال شخصیت اس اُمید کی روشنی سے منور کرتے ہیں جو فرعون کے مقابل موسیٰ  کا کردار ادا کرنے کی وضاحت کرتے ہیں۔ عام طور پر اس کو میں خدمت قرار دیتا ہوں جو کسی کی راہنمائی اور معاونت کرتا ہے،وہ چیز جس کو بے کار کر دیا گیا ہے وہ کارآمد بن جائے تو یہ وہ عبادت ہے جس کو کوئی بیان نہیں کر سکتا،فرشتہ لکھ نہیں سکتا اور میرے رب کے سوا اس کوکوئی جان نہیں سکتا۔
مختلف انداز اور طریقے اور رویے سے کسی بے کار کو کارآمد بنانا کسی معجزے سے کم نہیں۔
اس بات کی تصدیق وہ خود یوں کرتے ہیں:
ُُ”یہ کسی عبادت اور خدمت سے کم نہیں کہ آپ کسی انسان کو کارآمد انسان اور بہتر پروفیشنل بنانے میں رہنمائی کریں۔“
قدرت بھی اپنا رنگ دکھانے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ،وسیلہ اور کسی ذریعہ سے کام کرتی ہے۔
جب آپ کسی ایک کام میں ناکام ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کام آپ کرنے کے قابل نہیں بلکہ آپ اس بات پر غور کریں قدرت اس سے بڑھ کر کوئی خدمت آپ کے ہاتھوں کروانا چاہتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس عظیم سرچشمہ اور ایجاد کے ذریعہ سے قدرت اس انار کی کے اہل لوگوں کو دکھانا چاہتی ہے کہ آپ کسی سے کم نہیں۔
اس بات کو ایاز مورس کے الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کرتے:
”کبھی کبھی قدرت آپ کو اس لیے بھی توڑتی ہے کہ آپ کو کسی بڑے کام کے لئے کارآمد بنایا جا سکے۔“
یہ باتیں آج کے دور میں انسان کو انسان کے قریب لانے اور قدرت سے دور انسان کو قریب لا کر اسے سمجھانے میں معاونت بھی کرتی ہیں۔
دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ کلام مقدس کی تشریح بھی ہے۔جو موصوف مقامی رنگ،لب و لہجہ اور انداز میں اپنا کر آج کے لوگوں کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔خاص کر ان لوگوں کو جو انارکی کا شکار ہو چکے ہیں اور دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
آج کے موضوع کو ان الفاظ پر ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں جو اب بھی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں:
”فصلوں اور نسلوں کو بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ تباہ ہو جاتی ہیں۔“
یہ الفاظ ایاز مورس کے اس کردار کو ظاہر کرتے ہیں جو ادبی تحریروں میں چھپا ہوا مگر اہل دانش کو نظر آتا ہے۔“

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply