کائنات کی وسعتوں میں ایک وسیع عمل تخلیق ہے جس کی سعادت اور مقصدیت ادب کے ان فرزندوں کو حاصل ہوتی ہے جو رنگِ کائنات کو رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پھر الفاظ کی مدد سے← مزید پڑھیے
بالعموم گھر رشتے داروں کے ہوں یا گہری دوستوں کے۔ میرے لیے صرف چند گھنٹے ہی وہاں گزارنے راحت و مسرت کا باعث ہوتے ہیں۔زیادہ دیر رُکنا عذاب بن جاتا ہے۔اگر مجھے کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہ ہو۔اور← مزید پڑھیے
میری اور تمہاری محبت زمیں اور آسماں کی مانند ہے، جن کے درمیان وسعتوں میں،صدیوں پر پھیلی مسافتوں میں زندگی اپنے انداز میں بہے جاتی ہے، دن نکلتے ہیں اور ڈھل جاتے ہیں، لوگ ملتے ہیں اور بدل جاتے ہیں،← مزید پڑھیے
سفر نامہ : حیرت بھری آنکھ میں چین لکھاری : سلمی اعوان ناشر : بک کارنر جہلم کچھ ملاقاتیں مقدر میں لکھ دی جاتی ہیں اور ان اتفاقی ملاقاتوں کی یادیں دلچسپی سے بھرپور ہوا کرتی ہیں۔ کھارے پانیوں کے← مزید پڑھیے
اے عزیزانِ برادرانِ فلسطین! آج ہم تمہیں اپنا احوالِ دل سناتے ہیں تم غمگین ہوتے ہو اپنے شہیدوں پر تو آنسو ہم بھی بہاتے ہیں جو حق کی خاطر مر مٹ جائیں ان شہیدوں کا مگر نہیں سوگ مناتے ہیں← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) دسمبر کا مہینہ ہے اور اِدھر کرۂ ارض کے شمالی خطے میں سرمائی انجماد کا راج ہے۔باہر سرد ہوائیں برف باری کے ساتھ مل کر ساز باز کرنے میں مصروف← مزید پڑھیے
کچھ کھو گیا تھا۔ کیا؟ کہوں گی بہت کچھ۔شاید وہ وقت ،وہ حسن ،وہ روایات جو بہت قدیم شہروں کے اندر اس کے قدیمی حصّے کا ہارسنگار ہوا کرتی تھیں۔ اس کی خوبصورتی تھی۔ اس کا حسن تھی۔ جدت اور← مزید پڑھیے
غزل ادبی قماش کی صنف ضرور ہے،لیکن من وعن ، سراپا کُل ادب نہیں ہے ۔ ہاں، کسی حد تک اس کے ڈانڈےا دب سے ضرور ملتے ہیں، لیکن دو تین صدیوں میں سوائے اس کے اور کچھ کام نہیں← مزید پڑھیے
مرزا فرحت اللہ بیگ نے “مردہ بدست زندہ” کے عنوان سے ایک انشائیہ لکھا تھا جو میٹرک کے کورس میں شامل تھا ،اس میں انہوں نے ہمارے معاشرے میں پھیلتی ہوئی اس برائی کی نشان دہی کی تھی کہ جب← مزید پڑھیے
زنداں میں اوندھے منہ پڑی ایک آزاد منش چڑیا درد کا استعارہ بنی ہوئی تھی ۔ اُس کے تندرست و توانا پروں میں طاقت پرواز تو تھی مگر فضائیں اُس کے مخالف کر دی گئی تھیں۔ایک لمبی اُڑان بھرنے کی← مزید پڑھیے
اگر کہیں آنے سے قبل تھوڑا سا یہ جان لیتی کہ چینی شاعر خزاں سے زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں۔ان کے ہاں یہ صرف خوبصورتی اور اداسی کی نمائندہ نہیں بلکہ یہ چینی معاشرے کی بہت سی تہذیبی و تمدّنی← مزید پڑھیے
ہاں یہ ٹھیک ہے کہ ابھی یونیورسٹیوں میں پھانسی چڑھی لڑکیوں کے کیس حل نہیں ہوئے ہیں، یہ بھی درست ہے کہ ابھی بلوچستان کے جوان گم شده لڑکے گھروں کو واپس نہیں لوٹائے گئے، تم جانتے ہو کہ ابھی← مزید پڑھیے
ٹیکسی ڈرائیور بھی بڑا من موجی قسم کا تھا۔دکھانے کی حامی ہی نہیں بھری بلکہ کچھ علم میں بھی اضافہ کرنے لگا۔ جزیرے پر انگلینڈ اورفرانس مسلط تھے۔جزیرے کی تاریخ تو ویسے بہت ہی پرانی ہے۔سونگ اور لیانگ بادشاہوں سے← مزید پڑھیے
میں ان کے گھر تو نہیں گیا مگر ہر ہفتہ میس میں ملاقات ہو جاتی۔ ہفتے کی ایک شام، میں میس کے لان کے ایک پرسکون گوشے میں کرسی ڈالے بیٹھا تھا۔ اچانک کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ← مزید پڑھیے
میرے اس دور کا ایک کردار ربانی چچا بھی تھے۔ یہ ریلوے میں گارڈ تھے، جسمانی طور پر نہایت نحیف پر روحانی طور پر بہت قوی۔ خالتہ پاجامہ پر قمیص پہنتے اور بے تحاشہ چائے اور سگریٹ پیا کرتے تھے۔← مزید پڑھیے
12/ دسمبر 2022 کو مجھے دہلی جانا تھا۔ صبح دس بجے کی پرواز تھی۔ٹیلیفون پر صبح پانچ بجے کا الارم لگا دیا تھا لیکن رات میں پوری طرح سو نہیں پایا۔ کچھ بے کلی سی تھی۔ جاگا تو محسوس ہوا← مزید پڑھیے
مجھے یاد پڑتا ہے اپنے ایک اور سفر سے جب میں مشرقی پاکستان کے کسی گاؤں سے شہر کے گھر لوٹا کمرے کے دروازے پہ لگا تالہ زنگ پکڑ چکا تھا انہی دنوں جب میں موجود نہیں تھا محلّے دار← مزید پڑھیے
نواب صاحب بلاشبہ ہیرو آف ٹائیگر پاس تھے۔ اس ریسکیو آپریشن کا سہرا، نیوی کے کمانڈر اسلم اور بیس بلوچ رجمنٹ کے کپتان حفیظ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد ڈھاکہ ہیڈ کوارٹر سے← مزید پڑھیے
وہ لڑکی (افسانہ) وہ لڑکی میرے اعصاب پہ بری طر ح چھا چکی تھی۔ ذہن سے اس کی صورت محو ہی نہیں ہوتی تھی حالانکہ مجھے ابھی تک اس کا چہرہ بہت غور سے دیکھنے کا نہ تو موقع ملا← مزید پڑھیے
‘‘الفاظ کب ہیں میرے پاس جو میں تیرے حضور پیش کرسکوں۔’’احسان کی سرشاری میں بھیگتی جارہی تھی۔خود سے بولتی جارہی تھی۔ جب دفعتاً عورتوں، مردوں اور بچوں کا ایک ریلا آیا۔ماشاء اللہ کوئی تیس30 کے قریب افراد پر مشتمل لوگ← مزید پڑھیے