آپ کی کوئی بہن بھی ہے؟ شہزادی نے آنکھیں اوپر اٹھائیں۔ اس کی سبز بلوری آنکھوں سے تیز وحشیانہ چمک شہزادے کی جانب یوں لپکی تھی جیسے گھپُ اندھیرے میں آسمانی بجلی کا لشکارے مارتا کوندا کسی راہ گیر پر← مزید پڑھیے
پہلے حصّے کا لنک ناصر عباس نئیر کی کتاب “نئے نقاد کے نام خطوط”کا تجزیاتی مطالعہ/منصور ساحل(1) چھٹا خط خط کے آغاز میں بابا فرید کا شعر ترجمہ(میرا جسم تنور کی مانند تپ رہا ہے جس میں ہڈیوں کا ایندھن← مزید پڑھیے
بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصر الله خان ناصر نے اپنی اردو غزلیات میں درد، تکلیف، جبر، نانصافی اور معاشرتی نانصافیوں کے پیچیدہ موضوعات کو سمیٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔نوابزادہ کی غزل اظہار کی متضاد نوعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں← مزید پڑھیے
مسافر خدا کی تلاش میں تھا۔ جستجو جاری تھی۔ خدا کی کتاب سامنے آئی۔ ایک جگہ آیا “کیا تم تدبر نہیں کرتے”۔۔۔۔دوسری جگہ آیا۔۔۔”کیا تم عقل نہیں رکھتے “۔۔۔تیسری جگہ آیا “عقل والوں کے لیے میری نشانیاں ہیں “۔ چوتھی← مزید پڑھیے
“کتنے سال، مہینے اور دن گزر گئے، لیکن میں نے یا کسی اور نے ان کو گِننا مناسب نہیں سمجھا” وہ بہت دھیمی آواز میں بول رہا تھا میں نے اس کے بارے میں ایک دفعہ سوچنا بھی شروع کیا← مزید پڑھیے
ارشد رضوی کی تصنیف ’’زرد موسم کی یادداشت‘‘ (علامتی خودنوشت) ایک منفرد کتاب ہے۔ یہ بات مجھ سے ناول نگار، خاکہ نگار، کالم نگار اور معلّم، محترمہ نوشابہ صدّیقی نے اپنے کینیڈا قیام کے دوران کہی تھی۔ اور اس کتاب← مزید پڑھیے
اگر میٹر کا پیمانہ انسانوں کا ہے، تو جسامت میں ہم کواسارز کی بہ نسبت کوارکس کے زیادہ قریب ہیں۔ اگر سیکنڈ کو انسانی زندگیوں کی ہارٹ بیٹ شمار کرلیں، تو پھر ہم ایلیمنٹری پارٹیکلز کی پوری زندگی کے مقابلے← مزید پڑھیے
یہ کتاب نئے نقاد کے نام خطوط پر مشتمل ہے اس کتاب میں شامل ہر خط تخلیقی ادب سے شروع ہوتا ہے چوں کہ فن/آرٹ بھی ان خطوط کا موضوع ہے، اس لیے اکثر خطوط کے آغاز میں تصویریں شامل← مزید پڑھیے
حیدر آباد جیسے شہر میں مجھے بہت سے مقبرے اور سندھی ثقافت سے مزین عجائب گھر تو ملیں گے ہی لیکن ساتھ میں ایک منفرد طرزِ تعمیر کا حامل ایسا گھر بھی دیکھنے کو ملے گا یہ میں نے نہیں← مزید پڑھیے
ایسا ہوتا ہے کبھی کبھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ سالوں قرنوں کی گزری پر چھائیں اپنے کچھاروں سے نکل کر رواں دواں ساعتوں کے سینوں سے آچمٹتی ہیں۔ وقت کے بہتے ہوئے پانیوں کی گم شدہ لہریں پھر سے مخالف← مزید پڑھیے
ناصر عباس نیر کی تنقیدی بصیرت سے استفادہ کرنے کا سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ چند مہینے قبل ہی ان کی تازہ تصنیف “نئے نقاد کے نام خطوط” مطالعے کا حصہ بنی، جس پر غالب انسٹیٹیوٹ، نئی دہلی← مزید پڑھیے
راولپنڈی پاکستان کے ایک قابل ذکر اور ممتاز شاعر امین کنجاہی نے اردو نعتیہ شاعری میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کا کام حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے لیے گہری عقیدت کی عکاسی کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ← مزید پڑھیے
نومبر کا مہینہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کا مہینہ ہے۔ اِس موقع پر اقبال ہی کے مصرع: خُوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے کے مطابق اقبال کو کچھ خراج “حقیقت” پیش کیا جانا بھی ضروری← مزید پڑھیے
معروف فلاسفر و ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ جو آسٹریا میں پیدا ہوا، ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا، اسرائیلی ریاست کے صیہونی ارادوں کی بابت سگمنڈ فرائیڈ خود کیا نظریات رکھتے تھے وہ آپ کو سگمنڈ فرائڈ کے اس← مزید پڑھیے
مدت مدید ہوئی ایک دوست نے گاؤں پاک گلی سے شادی کی۔ہماری پہاڑی اور قدیم رسم کے مطابق میں شادی کادوست ٹھہرا۔رات دوست کو گانا(راکھی ) باندھنے کی رسم ہوئی اَور صبح سویرے ہم دونوں کو ایک کمرے سے اٹھاکر← مزید پڑھیے
آج کے ایڈوانس ٹیکنالوجی کے دور میں کتاب پڑھنا اور کسی کتاب کا ہاتھ لگ جانا اور سب سے بڑھ کر کسی کا صاحب کتاب ہونا ایک گئے دنوں کی بات لگنے لگی ہے لیکن ایسا ابھی ہے ۔سال گزشتہ← مزید پڑھیے
امیر جان صبوری فارسی زبان کے ممتاز شاعر ہیں، آپ نے اپنی شہرہ آفاق شاعری ” شہر خالی، جادّہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی” سے عالمگیر شہرت حاصل کی ہے۔ آپ کی فارسی شاعری خالی پن، خوف اور تڑپ کے← مزید پڑھیے
اللہ بڑا بول نہ بلوائے لیکن پِیروں سائیوں کے دھاگے تعویذ ، دم درود کی برکت سے ہم ڈَھیلے ڈوٹے، چمچے، چمٹے،پیڑھے ، کِھیڑے جیسے جدید سائنسی آلاتِ حرب وضرب سے کبھی بہت زیادہ گھبرائے نہیں ۔ مگر نِکّی بے← مزید پڑھیے
انیل ارشاد خان ایڈووکیٹ کی اردو شاعری جسے راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) شمالی پاکستان کے ضلع چترال، مٹلتان کالام اور گلگت بلتستان کے وادی غذر میں بولی جانے والی زبان کھوار میں مہارت کے ساتھ ترجمہ کرکے کھوار← مزید پڑھیے