تبصرہ کتاب :” رات کی بات” :تبصرہ نگار: صادقہ نصیر

آج کے ایڈوانس ٹیکنالوجی کے دور میں کتاب پڑھنا اور کسی کتاب کا ہاتھ لگ جانا اور سب سے بڑھ کر کسی کا صاحب کتاب ہونا ایک گئے دنوں کی بات لگنے لگی ہے لیکن ایسا ابھی ہے ۔سال گزشتہ انڈیا سے خورشید اکرم کی کتاب ” رات کی بات” مجھ تک پہنچی ۔ اور گوناگوں مصروفیات نے نہ تو پڑھنے کا وقت دیا اور نہ لکھنے کا ۔ اگرچہ کتاب کا عنوان کافی حد تک توجہ کھینچنے والا شاید عام قاری کے لئے کوئی چٹخارے دار چاٹ جیسا ہو لیکن مجھے پورا یقین تھا کہ يہ چٹخارے والی کتاب ہو ہی نہیں سکتی ۔ اس کو ایمانداری سے پڑھنا بنتا ہے ۔خورشید اکرم کی اس کتاب کے ناشر” عرشیہ پبلیکیشنز”دہلی ہیں اور کتاب کی طباعت کلاسک آرٹ پریس دہلی انڈیا نے کی ہے ۔
کتاب کا انتساب مشہور زمانہ ، منفرد اور شاہکار ناول “نعمت خانہ” کے مصنف خالد جاوید اورصدیق عالم کی نذر مجروح کے ایک شعر کے مصرع سے کیا ہے

ع۔ “ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح”
ایک دوسرا انتساب مشرف عالم ذوقی کے نام ایک نثری فقرہ کی صورت ہے جو یوں ہے
تم سے ملنے سے پہلے میں خود کو کتنا کم جانتا تھا”
تمہارے بعد کتنا کم رہ گیا ہوں دوست”
زیر نگاہ کتاب میں بارہ افسانے ہیں ۔
جن کے عنوانات تو منفرد ہیں ہی لیکن ان میں ایسی فسوں کاری ہے کہ پڑھتے وقت مجال ہے پلک جھپکی جا سکے ۔ ایک ایک افسانہ ایک ایک لائن اپنے نام کی طرح نظر کشیدہ ہے ۔
نام کچھ یوں ہیں:
صورت گرہن ، بلینک کال ، آپ مجھے تم کہئے ، بھول بھلیاں ، رات کی بات ، چیونٹیاں ، پیشاب گھر ، سات جمعرات ، بجھی ہوئ تیلیاں ، قصہ ایک بے لطف شام کا ، کہانی ایک محبت کی ، اور اپنے بیگانے ۔


خورشید اکرم لکھتے ہیں کہ ان کی افسانہ نگاری کو 35 سال ہوچکے لیکن صرف دو مجموعے ہی منظر پر آئے یعنی وہ اعتراف کرتے ہیں کہ کم نویس ہیں ۔ لیکن صرف دو مجموعوں میں شامل کئی افسانوں کے تراجم شائع ہو کر ایسی کتابوں کا حصہ بنے جن کا نام لینا بھی باعث صد افتخار ہے ۔ یہ بات واضح ہو کہ کسی کم نویس کی اتنی پذیرائ ہونا بہت معنی رکھتا ہے اور معیار کی بلندی کا ثبوت ہے ۔
خورشید اکرم کے افسانے بظاہر ہمارے معاشرے کے سوشیو پولیٹیکل اور حکومتی اداروں کے ڈھانچے کی بے حسی ، سفاکی ، ناکامی ، اور بے اعتنائ کے قصے ہیں ۔ اور بہت سی جگہوں پر مذہبی منافرت ، فرقہ وارانہ فسادات کے دکھڑے ہیں ۔ لیکن مصنف نے کبھی راست بیانئے اور کبھی علامتی پن سے اور کبھی فلسفیانہ انداز سے یہ بتانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ کس طرح کسی معاشرے کا سیاسی منظر نامہ معاشرے میں تناؤ پیدا کرکے انسانوں کی انفرادی اور پھر اجتماعی نفسیات کو متاثر کرتا ہے ۔ اور ان سیاسی و معاشرتی پس منظروں میں رہتے رہتے کس طرح انسانوں کی سوچ منجمد ہو کر پورے معاشرے کے ارتقائ عمل پر جمود طاری کرکے انہیں تیسری دنیا یا غیر ترقی یافتہ ممالک میں شامل کردیتی ہے اور انہی ممالک کے لوگوں کو احساس کمتری ، عدم توازن ، عدم برداشت اور کبھی جارحیت پسند اور کبھی اجتماعی ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ اپنے اپنے مقام پر ہاتھ پاؤں چھوڑ کر انرشیا کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور بڑی معصومیت سے حقیر سے حقیر کامیابیوں کو اپنی بساط کی معراج سمجھنے لگتے ہیں ۔ مصنف اس بات پر بہت خفیف انداز سے احتجاج کرتے ہوئے اس کو سیاسی ، سماجی اور حکومتی پالیسیوں کی دانستہ سازش قرار دیتے ہیں کہ ایسا جان بوجھ کر کیا جاتا ہے تاکہ ان کی غلطیوں کی طرف سے عام لوگوں کی توجہ ہٹائ جائے ۔ شاید وہ اسے حکمرانوں کے نرگسی خواص گردانتے ہیں ۔

Advertisements
julia rana solicitors london


نقطوں ، لکیروں ، لفظوں اور جملوں کو ہر افسانے میں اس طرح پرویا ہے کہ نو لکھا ہار ماند پڑ جائے ۔ یعنی عام معاملات زندگی کو انوکھے انداز سے بیان کیا ہے کہ راست بیانیہ بھی گہرائی میں لے جا کر باطن سے شعور کی روشنی پکڑنے ، سوچنے سمجھنے اور سچ سننے اور کہنے کی طرف مائل کرتا ہے ۔
پہلا افسانہ “صورت گرہن ” منٹو سے بھی اونچا لے جاتا ہے جہاں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں ” وہ ویشیا تھی ۔ اس کے گھر کی دیوار پر کوئی ایسا فریم نہ تھا جو اسے کسی مذہب سے جوڑ سکے ۔ شاید اس کا کوئی مذہب نہ ہو یا ہو جو اس نے دل کی کسی اندرونی تہہ میں چھپا رکھا ہو ۔”
گناہ کی بڑی سادہ تعریف کرتے ہوئے یہ افسانہ بتاتا ہے کہ گناہ وہ ہے جس سے کسی کو تکلیف ہو ۔
زندگی کے انجام کی تلخ حقیقت ایسے بیان کی ہے جیسے کوئی بہت بڑا مفکر ، مصلح اور گیانی ہو اور صدیوں کا مشاہدہ ساتھ لئے پھر رہا ہو ۔ جیسے
” ہم موت کی سرنگ میں داخل ہوتے ہوئے کسی نہ کسی کہانی کا انجام مرتب کر رہے ہوتے ہیں”
مذہب کس طرح اچھے بھلے باہمی امن اور سلامتی والے معاشرے میں نفرت کے بیج بوتا ہے اور کس طرح تاریخ کی نصابی کتابوں میں حقائق کو مسخ کرکے ذہنوں میں نفرت کے نقشے میدان جنگ کے محاذ کھولتے ہیں ۔
لیکن ایک بیو پاری بیو پاری ہی ہوتا ہے وہ عبادت میں بھی دنیا میں ہی بھٹکتا رہتا ہے بس مذہب کا منافقانہ لباس پہنے رکھتا ہے ۔
افسانہ ” آپ مجھے تم کہیئے ” کا کیا کہنا ۔ یہ لاجواب اور نہایت شاندار افسانہ انسانی نفسیات کی اہم پرتیں کھولتے ہوئے محبت اور جنس کے دائمی سفر پر گامزن رہنے کی خواہش کو بنیادی انسانی ضروریات میں شامل کرتا ہے اور اس افسانے میں یہ احتجاج بہت انوکھے ، مشکل فہم اور سنجیدہ انداز سے کیا گیا کہ اس ضرورت کے پورا ہونے کے حق میں عورت اور مرد کی تفریق کرکے سفاکانہ نا انصافی کی جاتی ہے ۔ مجھے ایک عام قاری کی حیثیت سے اس فہم تک پہنچنے کے لئے کئی بار غور کرکے سہ بارہ پڑھنا پڑا شاید مصنف کی پرواز تخیل اور دلی کیفیات نے اس افسانے کو تجریدیت کے رنگ میں ڈبو دیا ۔
ایک اور افسانہ بھول بھلیاں وومین ایپاور منٹ کے حق میں بڑے انوکھے اور سچے انداز میں آواز بلند کرتا ہے ۔
ٹائٹل کہانی ” رات کی بات” نے کرونا کے بھیانک خواب کا تذکرہ کرتے ہوئے ایسی فسوں کاری کی ہے کہ کبھی یہ سائنس فکشن محسوس ہوتی ہے اور دوبارہ پڑھنے پر مجبور کرتی ہے ۔ اور ایک ایسا خواب لگتا ہے جسے پہلی بار قاری کو یہ سچ نہیں لگتا لیکن آنکھیں مل کر جب کھولئے تو ایک جھٹکا محسوس ہوا کہ یہ سائنس فکشن نہیں جو آنے والے زمانے میں ہونے والے وقوعات کی پیش گوئی کرے بلکہ یہ تو وہ سانحہ ہے جو ہم سب انسانوں پر گزر چکا ہے یعنی عالمی وبا کرونا کا اس کرہ ارض پر اترنا ، انسانوں پر نازل ہونا اور پھر ڈھیروں انسانوں کا مر جانا ۔ اور اس عالمی موت نے جو ہراساں کیا تو انسان خوف کے مارے ذہنی مریض بن گئے ۔
دراصل میرے نزدیک افسانہ کسی بھی سچے وقوعہ اور حالات کو ارادتاً جھوٹ کے پیرائے میں اسطرح لکھنا اور بیان کرنا ہے کہ وہ پھر سے سچ لگنے لگے اور ہر قاری کہہ اٹھے کہ یہ تو میری کہانی ہے ۔ خورشید اکرم نے افسانے کی اسی تعریف کو اپنایا اور خاص طور پر ٹائٹل کہانی نے جو پہلی نظر میں رات کی بات یا کوئی سہاگ رات کا اشارہ دیتی ہو لیکن یہ ایک بھیانک خواب تھا جو کل عالم نے دیکھا اور شاید ہی کرہ ارض پر کوئی بشر ہو جس کو یہ بھیانک خواب نہ آیا ہو ۔ اور اس ڈراونے خواب کو سچ بنتے اسی نے دیکھا جو زندہ بچ گیا اور اس طرح بچا کہ ذہن میں اس خواب کی دہشت ابھی تک باقی ہے ۔ کرونا نے بے شمار لوگوں کو سائیکیاٹرسٹ کا راستہ دکھایا ۔
افسانہ ” چیونٹیاں” لکھنا کوئی آسان کام نہیں ۔ مصنف نے نہ جانے کتنے شب و روز ، مہ و سال چیونٹیوں کے حیوانی سماج کا مشاہدہ کرنے میں صرف کئے ہوں گے یا صرف چند لمحے کے مشاہدے سے صدیوں پر محیط علمی خزانہ ہاتھ لگا اور پھر مصنف نے اس پل بھر کے مشاہدے کو قلم اور روشنائ کے ذریعہ قرطاس پر لانے سے پہلے کتنی گہری فکر میں گزارے ہوں گے اور کتنے عرق انفعال جمع کئے ہوں گے ۔ اس میں کیا ہے یہ بتانا میرا کام نہیں قاری کو اسے پڑھ کر خود اندازہ ہوگا ۔ اس افسانے کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ مصنف کیوں کم نویس ہیں ۔ شاید وہ بہت گہرہ مشاہد کرتے ہوئے بہت طویل وقت لیتے ہوں یا اس مشاہدے کو ذہن کی درون بینی کی تجربہ گاہ میں رکھ کر شعور کی روشنی میں بہت پرکھتے ہوں یا شاید یہ اس منفرد لکھاری کا مزاج ہی ایسا ہو ۔
افسانہ ” پیشاب گھر” بے چارے غربت کے مارے بے بس لوگوں کی سوچ اور حواس کی موت کی وجہ بیان کرتا اچھوتا افسانہ ہے اور کمال افسانہ ہے ۔
خورشید اکرم اپنے افسانے ” سات جمعرات” میں کہانی کے ذریعہ دکھی ، ضرورت مند لاچار لوگوں کے خوف کا ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح اندھی عقیدت کا شرک انسانوں کو انسانوں سے کیش کرواتا ہے کہ مضبوط ذہنوں کی ڈولتی عقیدت بھی ان کے در تک لے جاتی ہے جو خدا نہیں ہوتے ۔ بات تو یہ عام ہے مگر کہانی اور واقعات نگاری کے منفرد مگر سچے انداز نے فسوں کاری کو سچا ثابت کیا ہے ۔
ایسے افسانے بھی ہیں جو کسی سیکولر ملک میں فرقہ واریت کے عفریت اور گروہی تعصبات کی نفسیات کا تذکرہ کرتے ہیں ۔
بجھی ہوئی تیلیاں انسانی معاشرے کی ایسی بدبو دارسوچ کی عکاسی ہے جس سے انسانوں کے فرقے بنتے ہیں اور وہ لڑنے لگ جائیں تو کتے لگتے ہیں ۔ بلکہ کتوں کو بھی مات کردیں ۔ لیکن اس بدبو سے نئی نسل بے زار ہوکر اپنی آبائی بستیاں اور گھر تک چھوڑ دیتی ہے ۔
“قصہ ایک بے لطف شام کا” سول سروس کے اعلی افسران اور ان کے اہل خانہ کے ذہنی خالی پن اور پسماندہ روزو شب کے ایسے مشاہدے پر مبنی ہے جو شاید آج تک کسی نہ کیا ہو ۔ مجھے ایسے میں اپنا ایک افسانہ ” ترقی کا منتظر” یاد آیا لیکن خورشید اکرم نے تو اس طبقے کی اجتماعی نفسیات کا گہرا اور عمیق مشاہدہ کرکے لوگوں تک پہنچایا ہے ۔
اگلے دو افسانے ” کہانی ایک محبت کی” اور “اپنے بیگانے” بھی کیا کہنے پڑھنے کے لائق ہیں ۔
نفسیات کی طالب-علم ہونے کے ناطے ہر افسانہ مجھے نفسیات کا باب محسوس ہوا ۔ بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خورشید اکرم ایک لکھاری ہونے سے پہلے نفسیات دان ہیں اور ایک نفسیات دان بلا شبہ ایک بہترین لکھاری ہوتا ہے ۔
کتاب حاصل کرنے کے لئے رابطہ نمبر حاضر ہے :
91 9971 7759 69
91 9899 706 640
arshiapublicationspvt@gmail.com

 

 

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply