این میری شمل،گوئٹے انسٹیٹوٹ اور جرمن زبان (تیسری قسط) احمد رضوان سیالکوٹ کا ایک اکہرے بدن والا لمڈا جواپنی طوطا ناک اور عقابی نگاہ کی وجہ سے سب کی آنکھ میں کھٹکتا تھا۔ مردہ چمڑے کا بیوپار ، زندہ چمڑے← مزید پڑھیے
پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں← مزید پڑھیے
سوگ یثرب کی دلگیر فضا میں ایک عجیب سا کرب چھپا ہے ایک عجیب سا سوگ بپا ہے کالی رات کی تاریکی میں اس گھر میں ماتم برپا ہے جس گھر کے کل رنگ دریچے پانچ چراغوں سے روشن تھے← مزید پڑھیے
اچانک آنکھ کھلی دیوار پرلگی گھڑی پر نظر پڑی تو رات کے 2 بج رہے تھے ۔آنکھ کچھ اس طریقے سے کھلی کہ دوبارہ نیند نے آغوش میں لیا ہی نہیں ۔ خیال آیا کیوں نہ مکالمے کے لیئے کچھ← مزید پڑھیے
میں جب سے وقاص اور حسن کےساتھ رہ رہا تھا, گھر کم اور چڑیا گھر زیادہ لگتا تھا۔ دونوں کو جانور پالنے کا شوق تھا۔ ایک دن ایک جانور گاڑی کے نیچے آگیا۔ مرتا کیا ناکرتا مجھے ہی اُس کو← مزید پڑھیے
محبت کی ازلی کہانی شعبان احمد سنو!!! "میری محبوبہ میں جب اپنی تیسری شعوری آنکھ سے اپنی روح کی گہرائی تک جھانکتا ہوں تو نیلگوں شفاف بہتے پانی کی ندی پر تمہارا عکس پاتا ہوں"۔تم ایک ایسا نغمہ ہو جو← مزید پڑھیے
ہر سو ہجوم عاشقاں اگر آپ نے ویلنٹائن ڈے کے حساب سے سرخ رنگ بلاتفریق مرد و زن ترتیب دے لیا ہے جو بروز منگل مورخہ چودہ فروری کو آپ زیب تن کرنے والے ہیں تو آپ اس جہان فنا← مزید پڑھیے
خدائے عشق کی گدائی شاد مردانوی روحی جی۔۔۔!!!! تو تم مجھے بتاؤ…! میں تمہیں کیوں نہ تکلم کی جکڑن کا بندی بناؤں؟ تم جب کہ مانسونی رُتوں میں ٹپٹپاتی نرکل اور پھونس کے چھپروں میں سوکھا چھپر ہو. تمہارے شریر← مزید پڑھیے
ڈاکٹر درمش بلگر کے تحقیقی کارنامے اعجازالحق اعجاز ڈاکٹر درمش بلگر ایک ممتاز ترک سکالر ہیں۔وہ دیار ِرومی قونیہ کی سلجوق یونیورسٹی کے شعبہ اردو زبان و ادب سے بطورپروفیسر وابستہ رہے ہیں اور پچھلے چند سالوں سے پنجاب یونیورسٹی← مزید پڑھیے
بیسیویں صدی کے ایک نابغہءروزگار صاحب کلام صوفی غلام مصطفی تبسم کی آج سات فروری کو انتالیسویں برسی ہے.صوفی غلام مصطفی تبسم امرتسری کشمیری خاندان کے چشم و چراغ تھے…. 4 اگست 1899 کو امرتسر میں آنکھیں کھولیں.اوائل عمری میں← مزید پڑھیے
مجھے بچپن سےاپنےمستقبل کی فکر تھی۔ پتانہیں کیا ہو گا میرے ساتھ زندگی میں۔ افراتفری کا عالم میرے خوف میں اضافہ کرتا رہتا تھا۔ اپنے مستقبل کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے حسین احساس کومحسوس کرنا چاہتا تھا۔ ہر کسی← مزید پڑھیے
اشفاق کی بانو وثیق چیمہ آپا کو کیا خراج عقیدت پیش کروں کہاں میں بدذوق جاہل کہاں قدسیہ، بقول ممتاز مفتی بانو اور تھی قدسیہ اور تھی اشفاق اور تھا اشفاق احمد اور تھا مگر میں کہتا ہوں بانو اشفاق← مزید پڑھیے
آج میں اور میری پیاری سہیلی بہت دنوں بعد ڈیپارٹ کے اوپر حصے میں ظہر کی نماز کے بعد پڑهائی سے ہٹ کر عام زندگی کی باتیں کر نے بیٹهے۔ آج اس سے باتیں کر تے ہوئے ایسا لگا جیسے← مزید پڑھیے
این میری شمل ، گوئٹے انسٹیٹوٹ اور جرمن زبان(۲) احمد رضوان کلاس میں مختلف العمر و خیال کے کوئی بیس مرد و زن اسٹوڈنٹ تھے ،ہر کوئی اپنی اپنی افتاد طبع اورمطمع نظر کے ساتھ کلاس میں آتا تھا۔ان میں← مزید پڑھیے
(بانو قدسیہ کا اس دار فانی سے کوچ کرنا دنیائے ادب کے لئے ایک عظیم سانحے سے کم نہیں ، ان کے وصال کے موقع پر ان کا ایک افسانہ بطور خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ) توبہ← مزید پڑھیے
بانو قدسیہ وفات پاگئیں بانو قدسیہ زندہ رہیں گی داؤد ظفر ندیم بہت سے لوگوں کے لئے تو شاید بانو قدسیہ صرف ایک نام ہوں مگر جنہوں نے 80 کے اواخر یا 90 کی دہائی میں لاہور کی ادبی محافل← مزید پڑھیے
کراچی کی سرزمین پہ قدم رکتھے ہی قائد سے ملنےکیلئے روانہ ہوا۔ قائد سے مزار کی سیڑھیوں پر ملاقات ہوگئی قائد نے بڑے تپاک سے گلے لگایا۔ قائد:میرے ملک اور قوم کا کیا حال ہے. میں: قائد آپ کے لوگ،← مزید پڑھیے
غریب آدمی سنبلہ ممتاز اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور کچھ دیر بعد بولا عجب مساوی حقوق ہیں جو صاحب حیثیت ہے اسکا حج عمرہ علاج سرکاری خرچ پر،اور۔۔۔ غریب آدمی کو گھر چلانے کے لیے اپنا← مزید پڑھیے
صبح کی سیر عادت تھی۔ اُس جگہ جا نکلا جہاں سے لوگ ڈرتے ہیں۔ حیران رہ گیا کہ یہاں آ کر تو روح کو تازگی سی ملی ۔ ایک جیسے مکانات تھے، ایک جیسا نقشہ۔۔۔ کچھ ایک منزلہ ، کچھ← مزید پڑھیے
(سو لفظوں کی کہانی) تعلیم میں اپنے استاد صاحب کے پاس گیا سوال کیا ، استاد محترم ! ہمارے ملک میں تعلیم کے فقدان کی وجہ کیا ہے ؟ ہمارا شمار دنیا کی کم پڑھی لکھی اقوام میں کیوں ہوتا← مزید پڑھیے