غریب کی گودڑی کے لعل…

آج میں اور میری پیاری سہیلی بہت دنوں بعد ڈیپارٹ کے اوپر حصے میں ظہر کی نماز کے بعد پڑهائی سے ہٹ کر عام زندگی کی باتیں کر نے بیٹهے۔ آج اس سے باتیں کر تے ہوئے ایسا لگا جیسے اس کے اندر کے دکھ کسی بهرے ہوئے تکلیف دہ پهوڑے کی مانند ذرا سی سوئی لگنے سےپهٹ پڑنے کے منتظر تهے وہ مجھ سے بے پناہ محبت کر تی ہے اور اس بے لوث محبت کا تقاضا ہے کہ میں بهی ااسکی تکلیف کو دل محسوس کروں…
سناو یار تمهارے رشتے کا کیا ہوا جو لوگ تمهیں دیکھنے آئے تهے بات بنی کہ نہیں؟ (میں نے باتوں باتوں میں پو چها) نہیں یار مجهے کسی خوش شکل ، خو برو کم عمر لڑکے سے شادی نہیں کر نی، اس نے نہایت سکون سے جواب دے کر مجهے حیرت زدہ کر دیا. کیوں یہ کیا بات ہوئی کیا کمی ہے تم میں خو بصورت ہو اعلی تعلیم یافتہ ہو سلیقہ مند ہو تمهارا حق بنتا ہے اپنے جیسے جیون ساتهی کا (میں سمجهانے کے سے انداز میں کہا)۔ سنو..تم نے کبهی لال مرچ اور لہسن کو پیس کر روٹی کے ساتھ کهایا ہے (میرے سوال کا بالکل الٹا جواب دیتے ہو ئے اس نے مجھ سے پو چها) نہیں اللہ پاک نہ کرے جو کبهی ایسا وقت آئے…میں نے کهایا ہے میرے ساتھ میری بیمار ماں بهائی اور تین بہنوں نے بهی۔ جب ہمارا باپ ایک رات سو کر دوبارہ نہ اٹھ سکا، جب میری بیمار ماں کے کمزور کندهوں پر چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کا بوجھ رات ہی رات آن پڑا، تب ہم نے نجانے کتنے وقت تک پیٹ کا دوزخ لال مرچ اور لہسن کی چٹنی سے بهرا کم اور جلایا زیادہ۔ بہر حال سانسوں کا رشتہ بهی تو بحال رکهنا تها ناں..بس تب سے ہم نے عہد کیا ہم کبهی صورت، شکل ، عمر کے پیچهے نہیں بها گیں گ،ے اپنے جوڑ کےنوجون ، حسین، خوبرو مگر کم آمدنی والے لڑکے سے کبهی شادی نہیں کر یں گے۔ ہمارے والد نے زندگی بهر محنت اتنا کمایا کہ ہم عزت سے کها رہے تهے تعلیم حاصل کر رہے تهے مگر ان کے جانے کے بعد ہم معاشی بد حالی کا شکا ر اس لیے ہوئے کیونکہ ہمارے پاس کچھ نہ تها۔ ان کے جانے کے بعد حسب روایت اپنوں نے منہ مو ڑ لیا ان سے امید رکهنا فضول تها ہم نے بچوں کو دوپہر سے رات تک ٹیوشن پڑها پڑها کر خود کو ہلکان کر دیا، ملتے کیا تهے ایک بچے کے سو روپے۔ امی نے سلائی مشین سنبھال لی۔ محدود آمدنی میں گهر کا کرایہ، راشن ، بجلی گیس کے بل ہمارے تعلیمی اخراجات امی کی دوائیں یہ سب پورا کرنا ایک کٹهن مر حلہ ہو تا ہے، رات تک بچوں کو پڑهانے سے ہماری آنکهیں دکهنے لگ جاتیں، امی کی کمر سلائی کر کر لے دکهنے لگی، بهائی چهو ٹا تها وہ ہم سب کو دیکھ کر کڑتا رہتا مگر ہمیں جینے کے لیے یہ سب کر نا تها..
عورت غریب ہو ،بیوہ ہو اوپر سے اس کی پهٹی پرانی گودڑی میں ایک نہ دو پورے چار لعل ہوں، اب چاہے وہ کتنے ہی نایاب قیمتی اور بیش قیمت کیوں نہ ہوں، انهیں بیاہنے کوئی شہزادہ نہیں آتا. ہم بہنوں کے حسن ،سلیقہ، کردار کو دیکھ کر رشتے آئے بهی تو کم آمدنی والے نوجوانوں کے۔ ہماری آنکهوں میں بهی نئی زندگی کی شروعات کے خواب سجنے لگے مگر ان رشتوں پر غور کر نے کے بعد مستقبل سیاہ اور تاریک دکهائی دینے لگا۔ امی نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے سب کو منع کر دیا کیو نکہ وہ اپنے حال جیسا ہمارا مستقبل نہیں چاہتی تهیں، ہمیں بهی سمجها دیا کہ اگر ایسی ہی مشقت بهری زندگی گزارنی ہے تو ابهی کے ابهی تمهارے ہاتھ پیلے کر دیتی ہوں لیکن اگر اچهی زندگی جینا چاہتی ہو تو خود کو مضبوط بناو حقیقت کا سامنا کرو اپنے آنکهوں سے رنگین خواب نوچ کر نکال پهینکو۔ جتنا جلد ایسا کرو گی اتنی جلدی خود کو ان حالات سے نکال سکو گی، ہم نے ماں کی باتوں کو پلو سے باندھ لیا مگر سنو..عمل کر نا بہت کٹهن ہو تا ہے..جب باجی کے لیے کروڑ پتی گهرانے کا رشتہ آیا ہم خوش ہو گئے چلو ہماری بہن کے بهاگ تو جاگے۔ اب کیا ہوا جو وہ شخص پہلے تین بیو یاں بهگتا چکا تها، کیا ہوا جو ان کے پانچ بچے تهے اور کیا فرق پڑتا ہے جو وہ باجی سے پچیس سال بڑے تهے، تهے تو کروڑ پتی ناں۔ ویسے بهی ایک بیوی داغ مفارقت دے چکی تین کو طلاق دے دی انیس سالہ باجی گر یجویشن میں تهی اس رشتے کو دیکھ کر تهوڑا سا ڈگمگا ئی، بهائی بهی خوب رویا مگر امی نے انهیں سمجها دیا۔ بیوہ ماں کی بیٹی بناء جہیز کے عزت سے رخصت ہو گئی، غریب کا حسن ہار گیا، امیر کی امیری جیت گئی۔ شروع شروع میں غریب سمجھ کر خوب دبایا گیا، دوسری بیوی کے جوان سے لے کر چهوٹے بچوں کی ذمہ داری ڈالی، مگر چیو نٹی کو بهی مسلسل دبا کر رکها جائے وہ بهی کاٹ لیتی ہے۔ باجی کے ادهیڑ عمر شوہر کو رحم آگیا اور وہ اسے باہر لے گئے۔ آج وہ عیش و آرام کی زندگی گزار رہی ہے، کروڑوں کی مالکن ویل ڈیکو ریٹڈ گهر میں ملکہ کی طرح عیش کر رہی ہے۔ سسرال والوں نے لاکھ چاہا اولاد نہ ہو مگر تین بچوں نے دنیا میں آکر اس کے پیر مضبوط کر دئیے..موت بد دعا نہیں مگراگر کل کلاں کو شوہر کو کچھ ہو گیا تو اس کا اور بچوں کا کیا ہوگا؟ دیکها گیا ہے اکثر عورت کو گهر بدر کر دیا جاتا ہے.(میں نے اسکی گفتگو سنتے ہوئے کہا)ہاں امی کو بهی یہ خدشہ تها مگر باجی نے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا ہے کہ ان کہ شوہر نے ان کی وفاداری ،سلیقہ شعاری ،خدمت، قربانی کے صلے میں اپنی تمام جائداد بیوی بچوں کے نام کر دی ہے.ہمیں اپنی بہن سے ایک روپے کا بهی لالچ نہیں اور نہ وہ ہمیں کچھ دیتی ہے مگر ہمارے اطمینان کےلیے اتنا کافی ہے کہ ہماری بہن سکھ کی روٹی کها رہی ہے ہر وہ چیز جسکی کبهی ہم صرف تمنا کر سکتے تهے آج وہ خرید سکتی ہے۔ بچے بہترین اسکول میں پڑھ رہے ہیں، شاندار زندگی گزارنے کے ساته ساته ایک روشن مستقبل ان کے سامنے ہے..

صحیح وقت پر پئے گئے کڑوے گهونٹ لڑکی کی زندگی کو بنا دیتے ہیں۔ اس لیے میرا بهی یہی فیصلہ ہے کہ میں کبهی بهی ظاہری شکل و صورت اور کم عمری میں نہیں جاوں گی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت پیسہ ہے۔ اسی سے عزت ہے یہی آج کل کے دور کی تلخ حقیقت ہے تم بهی کبهی ظاہر پر مت جانا یہ حسین چکنے چمکتے چہرے ،خوش شکل، خو ش لباس بائیک ہوا میں اڑاتے من چلے اندر سے بڑے ہی کهوکهے اور باپ کمائی پر پلنے والے ہو تے ہیں سو چنا ہے تو اونچا سو چنا ورنہ ایسے ہی بهلے..
میں خلاف عادت اس کی بات چپ چاپ سنتی رہی …لیکن ہمیں اللہ پاک سے اچها گمان رکهنا چاہئیے ناں۔ تم اپنے لیے یہ بهی تو سوچ سکتی ہو کہ کوئی ایسا شخص تمهاری زندگی میں آئے جو ہر لحاظ سے مکمل ہو وہ خوبصورت بهی ہو ، خوب سیرت بهی، معاشی طور پر مصبوط بهی ہو اور ہر طرح سے خیال رکهنے والا بهی۔ ضروری ہے کہ تصویر کےایک رخ کو تاریک رکھ کر ہی سوچا جائے..(میں نے اسکی خاموشی کا فائدہ اٹهاتے ہوئے پوچها) ہاں ایسا ہوتا ہے مگر میری جان ایسا صرف بہت ہی زیادہ خوش نصیب لڑکیوں کے نصیب میں ہو تا ہے۔ میری دل سے دعا ہے کہ تم بهی ان خو ش نصیب لڑکیوں میں شامل ہو جو حقیقتا خوش قسمت ہو تی ہیں آمین..میں اس کی اس غیر متوقع دعا پر ہنس کر رہ گئی اب مزید اس موضوع پر گفتگو کی گنجائش باقی نہیں تهی۔ وہ اپنی سوچ میں پختہ تهی معصوم نظر آنے والی اس بے ضرر سی لڑکی کی سوچ کی پختگی یقینا اسے اس کی منزل تک لے ہی جائے گی مگر کیا ضروری ہے کہ ایک تاریک پہلو کو ذہن میں رکھ کر ہی روشن مستقبل کے بارےمیں سوچا جائے؟؟؟

Avatar
زرمینہ زر
feminist, journalist, writer, student

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *