میں اس سرد شام اپنے پسندیدہ ریستوران میں اپنے واحد دوست کے ساتھ بیٹھی تھی اور ہمارے سامنے رکھی سیاہ کافی اپنی ساری حرارت کھو چکی تھی۔۔ہم ہمیشہ کی طرح ریستوران کے باغیچے میں مروا کے پیڑ تلے اپنی مخصوص← مزید پڑھیے
طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں! “ہم نے تم پر کتاب نازل کی۔۔۔اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب۔”اور تم انہیں غار میں دیکھتے تو← مزید پڑھیے
اسلام آباد شہر میں موجود ایک بینک کے تہہ خانے میں موجود ایک شعبے میں داخل ہونے کے بعد تیسری قطار کی دوسری کرسی پر موجود چہرہ ایک ہی بار اوپر کی جانب اٹھتا ہے اور شدید قسم کا پینڈو← مزید پڑھیے
آئی ایم نان سوئمر! جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان← مزید پڑھیے
1946عیسوی۔ (جنوری تا مارچ) اس دوران میں استاذی تلوک چند محروم صاحب کی خدمت میں حاضرہونا میرا معمول سا بن گیا۔ راولپنڈی کا موسم سرما جنوری میں شدید تر ہو تا ہے اس لیے میں دو دو اُونی سویٹر منڈھ← مزید پڑھیے
انیسویں صدی کے فقیر! ڈاکٹر تارا چند لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی میں یہ فقیر آئے. سوا جانند، دولنداس، گلال، بھیکا، اور پالتو داس یہ سب کبیر کا مسلک رکھتے تھے. آگے چل کرڈاکٹر تارا چند لکھتے ہیں کہ :← مزید پڑھیے
گکھڑ سے ذرا آگے وزیر آباد ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیرآباد کسی وزیر نے آباد نہیں کیا تھا ۔ بلکہ یہ پہلے سے آباد تھا ۔ اور نگزیب عالمگیر کے وزیر حکیم لمودین نے یہاں محض ایک کسی← مزید پڑھیے
یوسفی صاحب فرماتے ہیں کہ مرغیوں کا صحیح مقام پیٹ یا پلیٹ ہے لیکن غم روزگار کا کیا کیجئے کہ مرغیاں بیچنے کی نوبت بھی یار لوگوں پہ آجایا کرتی ہے۔بات ہے آج سے بارہ پندرہ سال ادھر کی← مزید پڑھیے
ہماری گاڑیاں رُکیں تو ذوالفقار علی بھٹو برج (پُل)کے کنارے پر۔جیسے پل نے کہا ہوابھی اس سے آگے جانا منع ہے۔پل کے آغاز میں ایک افتتاحی کتبہ (بورڈ) لگا تھا۔عمران رزاق اے۔ٹی۔ایم مشین سے کچھ اُگلوانے چلے گئے سڑک پار← مزید پڑھیے
بہشت میں وہ صبح معمول سے بہت الگ تھی۔یوں جیسے کوئی طوفان آنے کو ہو۔بہشتی چرند پرند جو خوش الحانی سے رب عرش العظیم کی ثنا خوانی کرتے تھے وہ دم سادھے جنت کے پیڑوں پر دبکے بیٹھے تھے۔فرشتوں کے← مزید پڑھیے
طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں! اورہماری کاؤچ نے ہوٹل امپیریل کے پورچ سے نکل کر ایک سپاٹا بھرا، ہماری منزل تھی ویسٹ بینک۔۔۔۔مجھے لوقا یعنی انجیل مقدس کا ایک پیراگراف← مزید پڑھیے
زندگی تو کبھی ایسی چپ تو نہ تھی تھی تو بیزار سی ، دل کے اندر پڑےصاف انکار سی ، خود گراں بار سی ہاں مگر جستجو کے دریچوں میں گم بہتے پانی کی لہروں پہ آنچل سے لہریں بناتی← مزید پڑھیے
اردو ہماری قومی زبان ہے شاید اسی لیے ہمارے تعلیمی اداروں میں اسے ایک منفرد حیثیت حاصل ہے ،کیونکہ نہ ہی اساتذہ حضرات اردو میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی طالب علم ۔اردو بس محض ایک مضمون کے← مزید پڑھیے
تصوف کے ان دو اہم نظریات پر بحث کے بعد ہم واپس موضوع کی طرف مڑتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اہل ہند پر تصوف کے کیا کیا اثرات مرتب ہوئے اور کیا تصوف اسلام کے علاوہ بھی کسی مذہب← مزید پڑھیے
سن چھیالیس کے آخری مہینے میں جگن ناتھ آزاد ایک دن راجہ بازار میں تیز تیز قدموں سے جاتے ہوئے نظر آ گئے۔ میں پیچھے ہو لیا، کہ کہیں ٹھہریں گے تو بات کروں گا۔ جاتے جاتے بازار تلواڑاں کی← مزید پڑھیے
ایک آواز میرے قریب آکر کانپی: پھول لے لو باجی ۔۔ میں نے حقارت سے گندے بچے کے ہاتھ میں پکڑے گلابوں کو گھورا اپنے چمکتے ہوئے کپڑے بچائے اور آگے بڑھ گئی، میرا ننھا ہادی میری گود میں تھا← مزید پڑھیے
وہ صبح اپنے معمول کے مطابق جاگا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کا دایاں ہاتھ کچھ بھاری سا ہو رہا ہے۔۔”شاید سوتے ہوئے جسم تلے دب کر خون کا دورانیہ متاثر ہو گیا ہے” اس نے سوچا اور← مزید پڑھیے
پاسپورٹ کنٹرول پر آفیسر کے اچانک روکنے اور ساتھ چلنے کے حکم پر عبداللہ حیرت کے عالم میں آفیسر کے ساتھ چلتا رہا، سکینر پر پہنچتے ہی آفیسر نے ہیٹ کیری کو دوبارہ سَکین کیا تو کہنے لگا کیا آپ← مزید پڑھیے
پکے راگ! اگست 2012 میں جب ہم نے مجاہد آرٹلری کی ایک مایہ ناز فیلڈ یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو وہ کشمیر جنت نظیر کے حسین پہاڑوں پر ڈیپلائے تھی۔ ہمارا ہیڈکوارٹر ایک الگ تھلگ جگہ پر واقع تھا۔ نہایت← مزید پڑھیے
اگر آپ اردو زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو مندرجہ بالا محاورے اور اس کے مطلب سے بھی بخوبی واقف ہوں گے۔ ویسے تو یہ محاورہ مشکوک سا لگتا ہے کہ کاٹھ یعنی لکڑی کی ہنڈیا کا احوال جو ایک ← مزید پڑھیے