محبت کی کہانی۔۔۔مریم مجید ڈار

میں اس سرد شام اپنے پسندیدہ ریستوران میں اپنے واحد دوست کے ساتھ بیٹھی تھی اور ہمارے سامنے رکھی سیاہ کافی اپنی ساری حرارت کھو چکی تھی۔۔ہم ہمیشہ کی طرح ریستوران کے باغیچے میں مروا کے پیڑ تلے اپنی مخصوص میز پر بیٹھے تھے ،اپنی مخصوص نشستوں پر۔۔اور اس سارے منظر نامے میں اگر ہماری دوستی کے اتنے برسوں میں کوئی تبدیلی آئی تھی تو وہ اس شام ہمارے بیچ ٹھہری وہ بھید بھری چپ تھی جس کی تہہ میں ان کہے المیے ماتم کناں تھے۔۔مگر نہیں!!! آج صرف وہ بھید بھری چپ ہی نہیں تھی ۔۔کچھ اور بھی تھا ۔۔کچھ بد ترین۔  جو مجھے فی الوقت سمجھ نہیں آ رہا تھا۔وہ سر جھکائے اپنے انگوٹھے کے ناخن سے میز پوش پر نادیدہ لکیریں کھینچ رہا تھا اور وہ خراشیں مجھے اپنے دل پر لہو اگلتی لکیروں کی مانند محسوس ہوتی تھیں ۔میری بے چین فطرت مجھے اکسا رہی تھی کہ میں اپنے واحد دوست پر پڑی خاموشی کی یہ چادر ایک جھٹکے سے کھینچ کر پرے پھینک دوں اور اس کے شانوں کو جھنجھوڑ کر،چلا کر کہوں” کیا اسی لیئے تم نے مجھے اس سرد شام میں سفید رقعے کے ہمراہ جامنی پھول بھیجے تھے کہ تم یوں ابد کے بھید کھوجنے لگو اور میں ٹھنڈی ہوتی کافی کی مردہ خوشبو کے ساتھ اکیلی کڑھتی رہوں”؟؟؟ مگر وہ اس وقت اتنا معصوم اور ہراساں لگ رہا تھا کہ میں نے اس کو اس سٹوپا سے باہر لانے کا ارادہ ترک کر دیا۔۔۔اور اب جب تک وہ اس کیفیت سے نکل کر سگریٹ نہیں سلگا لیتا، میں آپ کو ہمارے ماضی میں لیئے چلتی ہوں۔۔۔۔

وہ میرا واحد دوست تھا ۔یوں سمجھ لیجئیے کہ پوری کائنات میں مجھے صرف وہی میسر تھا۔۔مجھے یہ یاد نہیں کہ ہم پہلی بار کہاں اور کب ملے تھے ۔۔مگر یہ ضرور یاد ہے کہ تب بھی وہ پہلی بار نہیں تھا۔۔خیر۔! اس کی اور میری دوستی کی بنیادیں بہت انوکھی زمین پر رکھی تھیں ۔ اور بس ہم دوست تھے۔ہم میں بہت زیادہ رابطہ کبھی نہ رہا مگر ربط۔۔۔ہاں ربط کائنات کے وجود میں آنے کی پہلی گھڑی سے قائم تھا۔

ہم میں جو قدریں مشترک تھیں ان میں سے ایک ان لکھی کہانیاں تھیں ۔۔کہانیاں جو ہم میں سانس لیتی تھیں اور کہانیاں جو کبھی لکھی نہیں گئیں ۔۔ہم گھنٹوں کہانیوں پہ بحث کرتے۔۔کرداروں کو تخلیق کرتے ان کے ساتھ ہنستے روتے اور پھر ریستوران کے دروازے سے نکلتے ہوئے انہیں کافی کی خالی پیالیوں میں اوندھے منہ دھکیل کر پیچھے مڑ کر نہ دیکھتے۔۔کیسے کیسے لازوال کردار اس کافی کی میز پر تخلیق و فنا کے مراحل سے گزرے جس پہ ہم اس وقت موجود تھے۔

ذرا ٹھہریے!!  میں اپنے دوست کو اک نظر دیکھ لوں۔۔ نہیں!!!  وہ ابھی اپنے یوٹوپیا سے باہر نہیں آیا۔۔۔ہاں تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ میرا واحد دوست بہت پراسرار سی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ کسی اور ہی زمانے میں جیتا تھا۔۔لاسلکی رابطوں کے اس دور میں بھی وہ کاغذپہ لکھے حروف، کو معتبر جانتا تھا۔اور جب بھی ہم نے ملاقات کرنی ہوتی وہ مجھے ایک سفید رقعہ جس کے ہمراہ جامنی پھولوں کی چند ڈنڈیاں ہوتی تھیں، کوریر سروس کے نمائندے کے ذریعے بھجواا دیتا اور پہلی بار ایسا رقعہ وصول، ہونے پر میں بہت ہنسی تھی۔۔”آج کے، دور میں ایسے لوازمات!!  خوب ہے بھئی” لیکن اب تو مجھے یاد بھی نہیں کہ میری الماری کی نچلی دراز میں کتنے رقعے اور کتنی سوکھی ڈنڈیاں ہیں ۔۔

میرا دوست کچھ کچھ واپس آنے لگا، ہے لہٰذا میں ذرا، اختصار سے، کام لیتے ہوئے بات، آگے بڑھاتی ہوں

وہ ایک اچھا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فطرت شناس آوارہ گرد بھی تھا۔۔معمول کی زندگی جیتے جیتے وہ جب اکتا جاتا تو پیراشوٹ کا بنا ایک تھیلا اٹھاتا، اپنے بوٹ جھاڑتا اور ان دیکھی دنیاوں کی تلاش میں نکل پڑتا۔ ۔اور، ان دنوں میں، ہاں صرف انہی دنوں میں وہ اس قدر خود غرض،  کٹیلا، اور تلخ ہو جاتا تھا جیسے غاروں کے دور کا چونکیل انسان۔۔بھڑکتا، ہوا۔۔نتھنے پھلا پھلا کر ہوا کا مزاج سونگھتا ہوا۔۔وہ ایسا کیوں ہو جاتا تھا مجھے اس کی وجہ کبھی سمجھ نہ آ سکی۔

ہم کائنات میں تیرنے والے دو اجرام فلکی تھے ۔۔بغیر کسی وجہ کے کبھی ہم قریب آ جاتے اور اسی طرح بنا وجہ ہی ا یک دوسرے سے دور اپنے اپنے دائروں میں گردش کرنے لگتے۔وہ اپنی جھیلوں، آبشاروں اور برف زار میدانوں سے ملنے چل پڑتا اور میں ۔۔۔؟؟؟میں بھی اپنے سفاکی، کی حد تک لاپرواہ خاندان کے ساتھ صبح سے شام کرنے لگتی۔۔۔تبھی اچانک سے وہ سفید رقعہ جامنی پھولوں والی ڈنڈیوں کے ہمراہ میرے دروازے پر دستک دیتا اور ہمارے مدار کچھ دیر کے لئے یکجا ہو جاتے۔۔
وہ جب سیاحت سے لوٹتا تو بے حد شانت،  خوش مزاج اور پرسکون ہوتا ۔وہ چونکیل کڑواہٹ اس کے وجود سے سگریٹ کے گل کی طرح جھڑ چکی ہوتی۔۔میں بھی اسے وہ تلخ دن کبھی یاد نہ دلاتی اور کافی کی اس میز پہ وہ مجھے اپنے حیرت کدوں کی سیر کو لے جاتا۔ اس کے سیاہ چرمی تھیلے میں ہمیشہ میرے لئے تحفے ہوتے تھے ۔ وہ ایک پتھر نکال کر اسے میز پہ رکھ دیتا اور بچوں کی سی مسرت لیے مجھے بتانے لگتا” جانتی ہو۔۔؟؟؟یہ مجھے کہاں سے ملا؟؟ ” میں نفی میں سر ہلاتی تو وہ اپنے ذہین آنکھوں سے مزین چہرے کو ہاتھوں کے پیالوں میں سجا لیتا اور پرجوش ہوکر لہجے کو ذرا پراسرار بنا کر کہتا ” یہ ایک گلیشیائی ندی کی دھارا میں کائناتی راز کی طرح چمک رہا تھا۔اور میں نے بدن کاٹتے یخ پانی میں اتر کر اسے اٹھا لیا” کچھ توقف کے بعد وہ اپنے الفاظ میں “تمہارے لیئے” کا اضافہ کرتا اور کائناتی راز میری آنکھوں میں چمکنے لگتا ۔۔
وہ چرمی تھیلے سے تحفے نکال نکال کر میرے سامنے رکھتا جاتا ۔مختلف پیڑوں کے پتے، ٹہنیاں، پتھر، انوکھی وضع کے پھول، کئی طرح کے چھوٹے بڑے رنگین پر، تتلیوں کے جھڑ چکے پنکھ ۔۔۔اور ایک بار تو اس نے حد ہی کر دی.  وہ دیوسائی سے میرے لئے سانپ کی کینچلی کا، ایک ٹکڑا لایا تھا اور وہ اس قدر حسین تھا گویا دیوسائی کے سبھی پھول اس کی سرخ اور نیلی کھال میں جنم لیتے ہوں۔۔۔اور سب سے بڑھ کر، تو وہ ننھی بوتلیں تھیں۔۔۔وہ جن جھیلوں آبشاروں اور دریاوں سے ملنے جاتا تو ان کا ایک حصہ ایک نازک کانچ کی بوتل میں بھر کر میرے لئے لے آتا۔ رتی، کرومبر، سرال اور نجانے کتنی ہی جھیلیں اور آبشاریں ان ننھی بوتلوں میں مقید میرے کمرے میں آرام کرتی تھیں ۔   ۔۔وہ اپنے سفر میں سے میرا حصہ میرے آگے دھر دیتا اور ہم کافی کی پیالیوں کے ساتھ محو گفتگو، ہو جاتے۔۔۔وہ مجھے اپنی ان دیکھی دنیاوں کی سیر پہ لے جاتا۔ان جھیلوں کی داستان سناتا جہاں دھند جنم لیتی ہے۔۔کبھی ان ازلی برفوں کے بسیروں کا رخ کیا جاتا جہاں گرنے والی بارش تیسرے سر میں بجتی ہے اور گہری ہوتی شام میں کبھی وہ کائل اور پڑتل کی بھید بھری مہک کے راز کھولنے لگتا ،جن کے پتوں میں سے جب زمستانی ہوا گزرا کرتی ہے تو وہ منی پوری گت سناتے ہیں ۔۔
کبھی وہ مجھے ایک طویل میدان میں کھلنے والے واحد جامنی پھولوں کے سٹے کی تنہائی و یکتائی کا دکھ بتانے لگتا اور میں اس کی تنہائی کے زہر سے نیلی پڑنے لگتی۔۔۔تنہائی کے ز ہر کو مجھ سے بڑھ کر کس نے پیا ہے؛؟؟؟؟اور پھر یکدم ہی وہ میرا ہاتھ تھام کر مجھے ان آفاقی ڈھلوانوں پر پٹخنیاں دینے لگتا جہاں کھلنے والے پھولوں کے سرخ سٹے دلہن کی مہندی کی طرح پاکیزہ اور لازوال ہوتے ہیں ۔۔۔دلہن!!! جو سرخ ہوتی ہے۔۔۔اور دلہن۔۔جو میں کبھی نہیں بن سکتی تھی۔۔!!!
وہ بولتا جاتا اور میں ان دنیاوں میں اس کے ہمراہ پھرا کرتی۔۔
پھر کہانیوں پہ بحث ہوتی ۔۔کرداروں کی تخلیق ان کا کرب مجسم کیا جاتا۔۔ان کی خوشی میں مزید سیاہ، کافی منگوائی جاتی۔۔اور باتیں۔۔۔باتیں۔۔۔۔جو اسکی غیر موجودگی میں میری زبان کے ذائقے کو کھارا کرتی رہتی تھیں ۔۔
لیجئے!! میرا، دوست اب اپنی کیفیت سے باہر آ چکا ہے اور میری بے چین فطرت آپ سے وداع لیتی ہے۔۔۔
اس نے اپنے سگریٹ کیس سے اپنا پسندیدہ سگریٹ نکالا، اسے چند لمحے انگلیوں میں گھمانے کے بعد ہونٹوں میں دبا کر اس نے لائٹر کو رگڑا تو ننھا سا شعلہ فورا سگریٹ کے کورے وجود کو سلگا گیا۔۔۔اس نے ایک چھوٹا سا کش لیا اور سرد شام میں بینسن اینڈ ہیجیز لائٹ کی کڑوی مہک پھیلنے لگی۔۔وہ اپنی پسندیدہ نیلی جیکٹ پہنے ہوئے تھا مگر کچھ کچھ بے آرام لگ رہا تھا۔میرا ضبط اپنی آخری سرحدوں کے قریب پہنچ چکا تھا اور اس شام میں برہا راگ کو جھیلتی میں اتنا گھبرا گئی تھی کہ قریب تھا کہ میں اس جھنجوڑ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی کہ وہ آخر، اس بات کو اپنے لبوں کی دہلیز پہ کیوں یوں روک کر بیٹھا ہے کہ اس کے رخسار بھنچے ہوئے ہیں ۔۔جو کہنے آیاہے، کہہ کیوں نہیں دیتا؟؟؟  میں نے کڑھ کر سوچا اور تبھی اس نے ہاتھوں کی انگلیوں کی قینچی سی بنائی اور آج کی ملاقات کا پہلا جملہ اس کے ہونٹوں سے، ادا، ہوا “
کیسی ہو تم”؟؟؟؟ میرے دل کو دھکا سا لگا۔۔آج، سے پہلے ہماری گفتگو کا آغاز کبھی اس سوال سے نہ ہوا تھا۔میں کوئی جواب دئے بغیر اسے دیکھتی رہی اسے شاید جواب کی تمنا بھی نہیں تھی ۔۔”اور یہ تمہارے بال؟؟؟ یہ اخروٹی کیوں لگ رہے ہیں ۔۔۔مجھے یاد ہے پچھلی بار، جب ہم ملے تھے تو ان کا رنگ کتھئی تھا۔۔؟؟؟؟  ” اب میں اسے کیا بتاتی کہ پچھلی، ملاقات کو بھی چھ ماہ گزرچکے ہیں اور میرے تیزی سے سفید، ہوتےبالوں کو اب کتھئی شیڈ چھپانے سے، قاصر ہے.  میں خاموشی سے، اس لمحے کا انتظار کرنے لگی جب وہ ہونٹوں پہ روکی ہوئی بات کو میز پہ پھینکے گا، اور میں اس دم سادھ سناٹے کو جینے  لگی،ممم مم ایک ۔۔۔دو۔۔۔چار۔۔۔جانے کتنے زمانے ،ریستوران میں کافی کی میز پہ بیٹھے گزر گئے اور مجھے یقین تھا کہ اگر اس پل میں اپنا چہرہ آئینے میں دیکھوں تو اس پہ صدیاں منجمند ہو چکی ہوں گی۔۔اور تبھی جب میں اس میز کو الٹانے کا ارادہ کر رہی تھی، اس نے ہلکا سا کھنکھار کر اور پھر مسکرا کر مجھے دیکھا اور جیب سے ایک خاکی لفافہ نکال کر میری جانب بڑھا دیا۔۔اف!!!  میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا اور میرا گرم بھورا کوٹ بھی میرے بدن کو یخ بستگی کی لہر میں بھیگنے سے نہ بچا سکا۔۔۔ میں اس منہ بند خاکی لفافے کو نہیں چھو سکتی تھی۔۔۔میری زندگی میں سب سے زیادہ نحوست انہیں بند خاکی لفافوں کی بدولت تھی۔۔بیمار، ملعون خاکی لفافے۔۔۔مجھے ان سے نفرت تھی۔۔۔وہ ہاتھ بڑھائے ہوئے منتظر تھا۔”یہ۔۔کیا ہے ؟؟؟۔میں نے پھنسی پھنسی آواز میں اس سے دریافت کیا۔۔” خود ہی دیکھ لو۔۔”
اس نے اپنی مخصوص نرم آواز میں کہا مگر میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے قدرے سخت آواز میں اسے جواب دیا” نہیں ۔۔میں اسے نہیں لوں گی۔۔۔تمہیں  جو کہنا ہے کہو۔۔ورنہ میں چلتی ہوں۔۔” میں نے اپنا بیگ جو میز پر ہی رکھا تھا ،تھام لیا۔ اس نے میرے اس انداز کو حیرت سے دیکھا پھر میری پیش قدمی کو روکنے کی خاطر  خاکی لفافے کو کھولا اور ایک تہہ شدہ کاغذمیری جانب بڑھا دیا۔۔میں نے اسے جھپٹنے کے سے انداز میں پکڑا کہ اب مجھ میں   اس بھید بھری شام کو جس کے سناٹے میں المیے ماتم کناں تھے، مزید جھیلنے کی تاب نہ تھی۔۔
میں نے اس کی تہوں کو کھولا۔۔ میں نے سیاہ چھپے ہوئے حرفوں پر ایک پھسلتی سی نظر ڈالی۔۔وہ ایک اچھی امریکن کمپنی میں ملازمت مل جانے کا اطلاعی خط تھا۔۔۔میرے وجود میں گلیشیئرز تڑخنے لگے اور آنکھوں کی سطح پہ برفیلی دھند اکٹھی ہونے لگی۔۔۔تو گویا یہ طے تھا کہ بند خاکی لفافوں نے میری زندگی کو جہنم بنانا ہی تھا، چاہے میں انہیں تھامتی یا نہ تھامتی۔۔۔منحوس۔۔۔خاکی لفافے۔۔۔۔میں نے ساری رگوں سے توانائی نچوڑی اور انہیں آنکھوں میں دھکیل کر اسے دیکھا۔۔۔میرے ہاتھ سے کاغذلے کر اس نے اسے دوبارہ خاکی لفافے کی قبر میں دھکیل دیا اور ایک نیا سگریٹ سلگا کر دھیمی آواز میں کہنے لگا۔۔” تم تو جانتی ہی ہو۔۔مجھے اپنے دیس سے کتنا لگاو ہے۔۔میں اپنی جھیلوں، دریاوں اور آبشاروں کو چھوڑ کر جانا تو نہیں چاہتا مگر۔۔۔” اس نے ذرا توقف کیا اور میرا دھیان اس بات پہ تھا کہ اس نے میرا ذکر نہیں کیا۔ایک طویل کش کے بعد اس نے سلسلہ  کلام دوبارہ شروع کیا۔” مگر ماہم کا خیال ہے کہ میری موجودہ ملازمت ہمیں ایک اچھا مستقبل فراہم نہیں کر سکتی لہٰذامجھے اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔۔۔” ہاں ۔۔اسے ضرور اٹھانا چاہیے۔۔”اور آنے والی سترہ تاریخ، کو روانگی ہے” اس نے بات مکمل کی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر ہولے ہولے پاوں ہلانے لگا۔  میں نے اسے دیکھا اور مجھے ادراک ہوا کہ آج اس کا پہلو اس سیاہ چرمی تھیلے سے عاری تھا جس میں میرے لیے تحفے ہوا کرتے تھے۔۔۔”تو اس کے سفر سے میرا حصہ تمام ہوا۔۔”
میں نے سوچا اور اس لمحے میں ٹوٹ کر رونا چاہتی تھی۔۔۔مگر ایک کھلی جگہ پہ دھند میں مدغم ہوتی روشنیوں میں گھلتی شام میں رونا سخت کور ذوقی ہوتی ۔۔اس لیے میں  نے چہرے پر ایک زبردست سی مسکراہٹ سجائی اور  بہت ہی سجا سنوار کر مبارکباد کے لفظ  اس کی سماعتوں کی نذر کیے۔۔اگر چہ اس وقت اس کے چہرے کی حیرت مجھے بتا رہی تھی کہ میں کس قدر احمق لگ رہی ہوں مگر میرے پاس اب اتنا وقت نہیں تھا۔میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور اس سے معذرت کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی کہ مجھے ایک دوست کی والدہ کو دیکھنے اسپتال جانا ہے۔ لہٰذامجھے جانا ہو گا۔۔وہ حیرت زدہ سا مجھے دیکھ رہا تھا۔۔
میں نے، اپنی کرسی کے برابر میں رکھی بیساکھی اٹھائی اور ریستوران کے خارجی راستے کی طرف چل دی۔۔وہ میرے لیے آسکر وایلڈ کا ابابیل تھا جو میری اندھی آنکھوں کے لیے کہانیوں کی روشنی لاتا تھا۔ ۔۔اور اب وہ جانے کو تھا تو مجھے اس کا سفر آسان کرنا چاہئے تھا۔۔میں ایک ایک قدم چلتی اس سے دور ہوتی گئی۔۔۔مجھے ابھی گھر جا کر ان سفید رقعوں کو بھی گننا تھا اور آخری رقعے پر گنتی بھول کر پھر سے گننا تھا۔۔
دروازے کے قریب پہنچ کر میں نے آخری بار مڑ کر دیکھا تو میز پہ اس ٹھنڈی ہوتی کافی کی پیالی کے ساتھ جہاں ہم اپنے کردار تخلیق کرتے تھے۔۔میری لاش پڑی تھی۔۔میں نے اس منظرکو بہت سکون سے دیکھا اور باہر کو چل پڑی۔۔۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *