پینڈو کا فسانہء دل۔عظمت نواز

اسلام آباد  شہر میں موجود ایک بینک کے تہہ خانے میں موجود ایک شعبے میں داخل ہونے کے بعد تیسری قطار کی  دوسری کرسی پر موجود چہرہ ایک ہی بار اوپر کی جانب اٹھتا ہے اور شدید قسم کا پینڈو گاؤں سے وہاں کسی نوکری کے چکروں میں دھکے کھانے کو آیا ہوا ہے، مگر وہ وہیں رہ جاتا ہے، اور شومئی قسمت  وہ نوکری عارضی طور پر پینڈو کو مل بھی جاتی ہے -پینڈو کا مقصد اب نہ کام ہے نہ تنخواہ، اس کا من تیسری قطار کی دوسری کرسی میں اٹکا ہوا ہے –
اگلے چار روز گھامڑ کی نگاہیں قرار ڈھونڈتی رہتی ہیں مگر ندارد کہ پانچویں روز سبز و سفید رنگوں میں ملبوس وہ جہاں زاد نظر آتی ہے – اس دلبر چہرے کے تصور میں  نگاہ اول سے پینڈو یوں غرق ہو جاتا ہے کہ اسے یاد ہی نہیں رہتا اس سترہ ہزار کی نوکری کے لئے موٹر سائیکل کا بندوبست کرنا ہے اور پچاس ہزار روپے کسی طور  اس کے باپ کے پاس نہیں ہیں، بہر صورت کہیں سے ادھار لینا ہے چاہے خود لے ،چاہے اس کا باپ لے،پرائے شہر میں ٹھکانے کا بندوبست کرنا ہے، مگر نوکری چاہیے تو جگاڑ کرنا ہی پڑے گا، لیکن  اس سب سے بے خبر پینڈو دن بھر خوشی میں گزار دیتا ہے جب دیدار کی دولت مل جاتی ہے- ورنہ دن بھر اکتایا ہوا پھرتا ہے  اور کسی کام میں جی نہیں  لگتا –
اس عمر میں دن بھر کی کمائی صبح سے شام تک کہیں ایک بار اس کو دیکھ کر باقی وقت گزاری اس لمحہ دیدار کی قید میں گزرتی، وہ سرکتا دوپٹہ اور اس میں سے جھانکتے ہوئے قدرے  خوبصورت بال، لباس کا انتخاب حسن کو حسین تر بناتا تھا، پینڈو کو اپنی اوقات اکثر یاد دلاتی کہ ، اپنی صورت و حیثیت دھیان  میں رکھیو، جتنی بھیک دیدار کی صورت ملتی ہے اس متاع بے بہا پر قناعت کیے رکھ، آگے مت سوچیو – مگر مرد کی فطرت پینڈو کے خیالات پر غالب آتی ہے اور وہ آواز کا متمنی ہے،، قرب چاہتا ہے، قدم ایک اور سراپا  مہربان عورت کی جانب اٹھتے ہیں اور اس سے ان الفاظ میں گویا ہوتا ہے۔۔
“شاہ جی مرشد کچھ کرو،جان پر بن آئی ہے، کوئی بلا چمٹ گئی ہے، واقعتاً کھانے پینے سونے جاگنے کا کچھ پتہ نہیں چلتا” مہربان عورت اسے بتاتی ہے کہ بالک بات یہ ہے تو کس  کے  پیچھے بھاگ رہا ہے جو خود کسی کے  عشق میں مبتلا ہے، اور سر سے پیر تک ڈوبی ہوئی ہے، بالک یہ روگ نہ پال اپنے دھیان میں رہ،  شاہ جی  آپ بات تو کریں، قرب کی خواہش اسے کچھ اور سوچنے نہیں دے رہی وہ کچھ سننا، سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔
اس کی عرضی کسی  طور پہنچتی ہے مگر شرف قبولیت ندارد – پینڈو دن بھر شہر حکمراں کی سڑکوں کی خاک چھانتا ہے، بھاگ بھاگ ٹاسک پورے کرتا ہے کہ دفتر ی وقت   ختم ہونے سے پہلے سبز رنگ کی وین نمبر rwp 2611 میں بیٹھتی ہوئی  ایک سواری کو شام روانگی سے قبل دیکھ لے تو رات کٹ جانے کا سامان پیدا ہو جائے گا – کبھی سبیل پیدا ہوتی ہے اور کبھی دیر کر دیتا ہے کہ  سبب ڈیسک نمبر تین کی دوسری کرسی پر جا کر براجمان ہو جاتا ہے اور بینک سیکورٹی کے سوا کوئی موجود نہیں ہوتا، اس سسٹم کے کی بورڈ پر ادب سے کسی انجان احساس کے ساتھ انگلیاں رکھتا ہے اور گاہے خیال میں ٹائپ کرتا ہے  کہ کیسے، ایسے، نہیں ایسے،
ہمم شاید ویسے-
دراز کھولتا ہے تو اسے بالوں والا برش ملتا ہے فورن سے اٹھا لیتا ہے، اسے جوڑا بنانے والا کلپ کبھی ملتا ہے وہ اٹھا لیتا ہے، وہ اس قلم کو بھی اکثر اوقات وہاں سے اچک لیتا ہے جو دن بھر کسی وقت ان ہاتھوں نے چھوا ہوتا ہے – وہ سب کچھ اٹھا کر لے جاتا ہے -،  کبھی اسے بالوں میں  لگانے والی پنین  ملتی ہیں اور عاشق صادق سنبھال لیتا ہے-
وقت گزرتا ہے اور پینڈو معشوق کے عشق کو تلاش کر لیتا ہے اور خواہ مخواہ اس کا ادب کرتا ہے، اسے احترام دیتا ہے، اور اس سے کچھ حسد نہیں کرتا بلکہ پینڈو اسکی بہت قدر کرنے لگتا ہے –  گاہے موقع پر پا کر وہ بھاگتا ہوا اس گلاس میں پانی پینے جاتا ہے جس میں ابھی چند لمحے پہلے اس نے پیا ہوتا ہے-ایک تعلق بنتا ہے کیوں ،کیسے، کب کچھ خبر نہیں مگر وہ عاشق صادق کو وقعت دینا شروع کرتی ہے، وہ عشقاں پٹی  اپنی پیڑ کے کارن پینڈو کا درد سمجھتی  ہے اور ہمدردی کا اظہار بھی کرتی ہے اور دل کے روگ کا تذکرہ کرتے ہیں دو مریض  –
وہ ان دنوں جان نچھاور کرنا چاہتا ہے، مر مٹنا چاہتا ہے، جہانِ  بے بقا کی کسی شے سے اسے دلچپسی نہیں رہتی وہ ایک بت کا پجاری بن کر رہ جاتا ہے اور اسی کے دائرے میں اسے سکون ملتا ہے، اسے طلب ایک ہی ہوتی  ہے،دیدار کی دولت اور دو بول۔۔ یہ اسے مل جایا کرتی تھی کسی نہ کسی روز –
پینڈو پنڈی کی اس سڑک کے شروع ہونے سے پہلے ہی عجیب سی گھبراہٹ کا شکار ہو جایا کرتا جہاں اس کا مسکن تھا، بعد از روز گار وہ اس سڑک پر موجود ڈھابوں پر بلاوجہ  بیٹھا رہتا، چائے اور سگریٹ اور سجن کا خیال، اس کا خیال اب بھی یہ ہے کہ عشق کے زمانے میں تخیل جس عروج پر ہوتا ہے اور وہ کسی زمانے میں ممکن نہیں رہتا- وہ اس لمبی سڑک کو ہمیشہ دھیرے دھیرے سے گزارتا کہ اس کا کوچہ جلدی گزر گیا تو نہ جانے کیا ہو ۔۔۔۔سو جتنا دھیرے چل سکو اتنے دھیرے چلو ، بارہا اس طویل تنگ گلی کے باہر نکڑ پر موجود مسجد میں ماتھا ٹیکا تھا، خدا یاد اپنے عشق کے سبب آیا تھا ورنہ اپنی راہ و رسم نہ تھی –
 پھر یونہی کسی روز وہ خفا ہو گئے اور پینڈو کی جان پر بن آئی، ہر عاشق صادق مشکل اوقات میں کسی سیانے یار کے پاس جا پہنچتا  ہے اور وہ بھی اپنے تئیں ایک ایسے کے پاس جا پہنچا اور اس درد کی دوا پوچھی- اگلے روز صدر کے ایک مقام سے پانچ پانچ کلو کی دو تھیلیاں گلاب کی پتیاں لے کر ٹھکانے پر رکھ لی گئیں اور اذان مرغ سے کچھ دیر پہلے سردیوں کی بارش اسی لمحے کہیں برس کر تھمی تھی،  دوست کے پیچھے بیٹھا ان پتیوں کو سنبھالے گم سم تھا – دوست نے اس شہر کی اس گلی کے اس آخری مکان کے عین دروازے کے سامنے اتار دیا، پینڈو کے ہاتھ شل تھے مگر عجیب کسی کیفیت میں تھا ۔۔اس چوکھٹ کے بالکل باہر پتیاں پھیلانا شروع کیں  اور خبر نہیں کتنی دیر لگی اس طویل گلی کے ذرے ذرے پر گلاب کی پتیاں بکھیرنے میں اور بڑی سڑک تک بکھیر کر، حسن سے ایک استدعا کی ۔۔بس کہ ہر پتی پر پینڈو کا احساس دھرا ہے اور کچھ نہ ہو تو کسی پتی پر اپنا پیر ضرور رکھیو کہ بے چینی کم ہو سکے –
 پینڈو کی نوکری ایک دن اسی دیدار کی چاہت کی نظر ہو گئی اور بوریا بستر لپیٹ کر گاؤں چلا گیا، لیکن چند ماہ  میں نوبت فاقوں کے قریب آگئی اور اسے راولپنڈی شہر میں آنا پڑا، اس بار کی نوکری کا عذاب یہ تھا کہ بینک کی عمارت معشوق کے گھر جاتی سڑک کے بالکل مقابل تھی، وہ جہاں زاد بھی پرانی جگہ سے جا چکی تھی – بیس دن صرف بیس دن اس شہر میں گزرے لیکن پینڈو کا دم گھٹنے لگا، وہی شہر اسے کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا، اتنی وحشت کہاں سے در آئی تھی اس شہر میں اچانک، وہ بیسویں دن بیگ اٹھا کر گاؤں چلا آیا اور تگ ودو سے کسی دور دیس بھاگ گیا مگر شاید بھاگا نہیں وہ وہیں اسی بینک کے تہہ خانے میں موجود تیسری قطار کی دوسری کرسی میں کہیں اٹکا ہوا ہے –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *