یادوں کے جگنو.رفعت علوی/ قسط3

 طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں!

“ہم نے تم پر کتاب نازل کی۔۔۔اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب۔”اور تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کو چھوڑ کر دائیں طرف چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں طرف اتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ پڑے ہیں۔

” ہماری کوچ اپنے پیچھے دھول اڑاتی ایک تیز رفتار پینتھر کی طرح اڑی جا رہی تھی گاڑی سے باہر درجہ حرارت چالیس کو چھو رہا تھا اور اندر خنکی میں ہم سب کے موڈ آف تھے اس پیاسے کی طرح جس کو دریا کے کنارے سے پیاسا لوٹا دیا گیا تھا ہمارے سارے دن کا پلان الٹ پلٹ ہو گیا تھا۔۔۔اب کیا کریں؟یہ ایک بڑا سوالیہ نشان تھا،

سعید اورہمارا خوش اخلاق ڈرائیور زیدان بھی خاموش تھے، آخر بچوں نے خاموشی سے تنگ آکر کورس میں جیوے جیوے پاکستان گانا شروع کردیا، سکوت ٹوٹا اور گاڑی کے اندر زندگی لوٹ آئی مادام۔۔”دو یو نو سیون سلیپنگ مین” سعید اپنی گرن پیچھے موڑ کر انجم سے مخاطب ہوا، ویسٹ بینک نہ جاسکنے کے صدمے سے نڈھال انجم چونک پڑیں انھوں نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا گویا سعید کا دماغ تو درست ہے۔ ویسٹ بینک کے ناکام ایڈونچر میں سات سوتے ہوئے آدمی کہاں سے گھس آئے، پھر جیسے ان کے “دینی اینٹینا” نے سوال کا پس منظر کیچ کرلیا اور وہ استعجاب سے بولیں کیا تم “اصحاب کہف” کے بارے میں کچھ کہہ رہے ہو؟

یس ۔۔یس۔۔۔۔زیدان اور سعید ایک ساتھ بولے، ان کا غار یہیں ہے عمان میں۔۔۔ وہ یہاں کیسے ہوسکتا ہے؟

اب میں نے مداخلت کی، ہم کو دمشق میں ہمارے گائیڈ نے بتایا تھا کہ اصحاب کہف کا غار وہاں کے اونچے پہاڑ رقیم کے کسی کھوہ میں ہے جبکہ دو سال پہلے ترکی کے سفر کے دوران ہم ازمیر کے ایک دور افتادہ علاقے شاید “افسوں” میں اصحاب کہف کا غار دیکھ چکے تھے، ادھر اہل مصر کو بھی اس کا دعوی ہے کہ اصحاب کہف کا غار ان کے ملک میں ہے ،وہ سب غلط ہیں، اصلی غار کہف یہاں ہے عمان میں، سعید تڑپ کر بولا!

چلو چلو تو پھر وہاں ہی چلو، انجم بیتابی سے بولیں اور ہماری گاڑی ایک چلبلی گلہری کی طرح ادھر ادھر کی گلیوں اور چھوٹی سڑکوں پر مڑنے لگی، ہر دس منٹ بعد سعید گاڑی سے اتر کر جاتا اور آس پاس کے لوگوں سے غار کی لوکیشن معلوم کرتا، واپس آتا اور زیدان سے کہتا دوغری۔۔۔۔دوغری۔بہت دیر کے بعد ہماری سمجھ میں آیا کہ دوغری کا مطلب سیدھا چلو سیدھا چلو ہے،

گویا شاعرانہ انداز میں یوں کہ “چلے چلو منزل ابھی نہیں آئی” ایک گھنٹے کی تگ و دو  کے بعد گاڑی نے ایک ایسے قصبے کی طرف رخ کیا جو ایک بہت وسیع اور چوڑی سڑک پر واقع تھا اور ایک سائیڈ پر لگے سیاحت بورڈ پر “رجیب” کہف اس طرف” کا سائن بنا ہوا تھا گاڑی اسی جانب ایک چھوٹی سی چڑھائی پر پہنچ کر رک گئی ۔یہاں پہلی نظر میں تین چیزیں توجہ کھینچتی تھیں، لال اینٹوں سے بنا ایک چھوٹا سا چرچ جس کی چھت پر کراس نما مینار دھوپ میں تپ رہا تھا، اس کے پہلو سے جڑی مختصر سی سنگ مرمر کی محرابی مسجد اور ان کے دامن  میں ایک چھوٹا سا حجرہ نما غار، چلچلاتی دھوپ میں دور دور تک کوئی بندہ بشر نظر نہیں آرہا تھا، مسجد چرچ اور غار تینوں ویران پڑے تھے۔

سعید گاڑی سے اتر کر آوازیں لگانے لگا مگر بیسود سارا چیخنا چلانا صدا بصحرا ثابت ہوا، تھک ہار کر وہ اوپر چڑھا اور مسجد میں داخل ہوکر ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔

“ان کی تعداد کتنی تھی؟ وہ کتنا عرصہ سوتے رہے؟ کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب !ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کے سامان کر، تو ہم نے اس غار میں ان کو سلایا، ان کو کروٹیں دلائیں پھر ہم نے انہیں جگایا، ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی”۔

رجیب کے اس مختصر نیم تاریک غار کو ہم سب نے اصحاب کہف کا اصلی غار ماننے سے انکار کردیا، ریجیکٹ ،یجیکٹ۔۔گاڑی میں بیٹھتے ہی سب نے زور سے نعرہ لگایا وجہ؟

کیونکہ وہ صاف صاف ماڈرن زمانے کی تخلیق لگتا تھا بُھربُھری اینٹوں اور گارے کے دو چبوترے، ایک چبوترے پر رکھا شیشے کا لمبا بکس جس  کے اندر ایک بوسیدہ ٹوٹی پھوٹی انسانی کھوپڑی دھری تھی، دوسرے چبوترے پر بچھی بوسیدہ سی جانماز اور ایک تسبیح پڑی تھی جس پر جانے کب سے ریت اور گرد جم رہی تھی اور اس غار کے ایک کونے میں بنا ہوا چھوٹا سا سوراخ۔روشنی اور ہوا کے لئے۔اور پھر اس غار کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کے بوگس دلائل کہ اس سوراخ سے دھوپ کا رخ یوں پڑتا تھا اور یوں پڑتا تھا دلچسپ بات یہ تھی اس غار کی لکڑی کے چڑچڑاتے چھوٹے سے لکڑی کے دروازے پر پرانی اور بوسیدہ ہڈیوں کا ایک ڈھیر بھی پڑا تھا اور کیئر ٹیکر کا اصرار تھا یہ اس کتے کے ڈھانچے کی باقیات ہیں جو اصحاب کہف کے ساتھ ہی رب کریم کے حکم سے سو گیا تھا اور تین سو نو سال تک سوتا رہا۔

میں نے دل ہی دل میں لاحول پڑھی اور انجم نے زیرلب کوئی وظیفہ اور ہم سب پسینہ پونچھتے سر ہلاتے باہر نکل آئے سب ہی جانتے ہیں کہ میں سجود قیود میں سماجی پابندیوں کا قائل نہیں اور عبادت کسی مول تول، لین دین اور لوگوں کی خوشنودی یا ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذاتی رضا و رغبت سے کرتا ہوں اسی طرح مجھ پر اسلامی مقامات کی زیارتوں کا بہت کم ہی اثر ہوتا ہے ۔بلکہ بعض مقامات دیکھ کر تو میں فیسینیٹ ہونے کے بجائے دل ہی دل میں ہنستا ہوں اور انسان کی ضعف العتقادی پر کڑھتا ہوں مگر ڈیڈ سی یعنی بحیرہ مردار دیکھ کر مجھ پر ایک خوف سا طاری ہو گیا

 ڈیڈ سی۔۔۔ مگر ٹھہریں یہ ڈیڈ سی کہاں سے آگیا ابھی، ذرا میرے ساتھ کچھ دور اور آگے چلیں ابھی مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں بس چلتے رہیں میرے ساتھ۔۔۔۔آپ مایوس نہیں ہوں گے ۔

العین کے سفر کےسالار کارواں تو ڈاکٹر اظہر زیدی ہی تھے گو کہ مشاعرے کی اصلی جگہ کا ان کو بھی پتا نہ تھا پھر بھی العین کو وہ ہم سب سے زیادہ جانتے تھے مگر ۔۔۔العین شہر تو ابھی بہت دور تھا العین سٹی آف گارڈنز۔۔ ہر طرف کھلتے پھول، لہراتے درخت، دو خوبصورت باغوں کے بیچ سے نکلتی سڑک، سطح زمین سے نو سو میٹر بلند جبل حفیت جس پرایک پکی سیاہ بل کھاتی اسفالٹ سڑک اوپر تک چلی جاتی ھے، سنگلاخ اور بنجر پہاڑوں کو پانی کے پائپ کا جال بچھا کر حد نظر تک ہرا بھرا کردیا گیا ہے اور نیچے واد للی میں ریسٹ ہاؤس، گرم پانی کے چشمے،حمام ، فاسٹ فوڈ، ایک دنیا میں دوسری دنیا،

چالیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ایک پٹرول پمپ کا سائن دکھائی دیا اور زیدی صاحب نے یہاں رکنے کا اشارہ کیا، پٹرول پمپ کے کیفے ٹیریا کے سامنے گاڑیوں کا جھمگٹا لگا تھا ۔۔ہماری گاڑیاں بھی ایک ایک کرکے رکیں ،ابھی ہم چائے لینے کے لئے گاڑیوں سےاترے ہی تھے کہ ہمارے پیچھے ایک سفید کرولا گاڑی آ کر رکی اور اس میں سے فرزانہ سحاب صبحیہ صبا اور صغیر جعفری اترے، معلوم ہوا کہ سب کی منزل ایک ہی ہے مگر منزل کا پتا کسی کو نہیں، سب یہی کہہ رہے تھے کہ جہاں انڈین اسکول ہے اس کے آس پاس ہی ہماری منزل مقصود بھی ہے

ذرا ہی دیر بعد ایک بڑا راؤنڈ اباؤٹ آیا جس پر دلہ  بنا ہوا تھا (قہوے کی کتیلی)، اب یہاں سے آگے ہم سب زیدی صاحب کے رحم کرم پر تھے، وہ جدھر مڑتے ہم بھی اسٹیئرنگ ادھر ہی گھما دیتے، پھر ایک ہرا بھرا اونچے اونچے درختوں سے گھرا علاقہ آیا جس کی سڑک پر لگی اسٹریٹس روشنی پھیلانے کے لئے ناکافی تھیں کیونکہ ان کی روشنی گھنے درختوں کی اوٹ میں چھپ گئی تھی۔

پھر نیم تاریکی میں ایک بلڈنگ کے آثار نمودار ہوئے جس پر اسکول کا گمان ہوتا تھا، اور یہی ہماری منزل تھی، گیٹ پر آصف صاحب اپنے اسٹاف اور منتظمین کے ساتھ ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے، ابھی ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ دیکھا ایک طرف سے شلوار قمیض پر واسکٹ پہنے بغل میں ڈائری سنبھالے مسکراتے تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے ظہور السلام جاوید چلے آ رہے ہیں،

جب مجھے معلوم ہوا کہ اس مشاعرے کے ناظم وہی ہیں تو میں اور زیدی صاحب ان کو الگ لے گئے اور تجویز پیش کی کہ اگر وہ لوگ مناسب سمجھیں تو میر بادشاہ صاحب سے مشاعرے کی صدارت کروائیں اور سلمان جاوید صاحب کو مہمان خصوصی بنادیں، آصف رضوی صاحب مارے خوشی کے سخت جذباتی اور نروس ہو رھے تھے کہ ان کے خیال میں ہم سب کے آ جانے سےان کا مشاعرہ بہت معتبر ہوگیا تھا۔

نجلہ القبیسی!

 پتھروں اور پہاڑوں کی اس وادی کے اونچے نیچے میدان میں John the Baptist Spring کی مقدس سائیٹ پر سیاحوں کا ایک گروپ ابھی ابھی سرمئی کوچ سے اترا تھا اور ا ن کے ساتھ تھا ایک گندمی رنگت والا گائیڈ جو سفید کرمچ کے جوتوں اور اور سفید پینٹ میں ہاتھ ہلا ہلا کر اس گروپ کے لوگوں کو کچھ بتائے جارہا تھا یہ چھوٹا سا گروپ پانچ نفوس پر مشتمل تھا، ایک دبلا پتلا لمبا چشمہ لگائے مرد اور ایک عورت جو شاید اس کی بیوی تھی، دو بڑی ہوتی ہوئی لڑکیاں اور سات آٹھ سال کا سرخ و سفید بچہ نیکر اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے، مرد اور بچہ تو مغربی لباس میں تھے مگر اس عورت اور دونوں لڑکیوں کے لباس کچھ عجیب سے تھے،

یہاں دریائے اردن میں بپتسمہ کے مقام پر روز مختلف قوموں اور رنگ و نسل کے لوگ آتے تھے اور میں ان کے رسم و رواج اور پہناوے سے بھی واقف تھی مگر یہ عورتیں؟۔ نقش و نگار سے یہ خاندان آریائی لگتا تھا سب سیدھی کھڑی ناک اور کھلتے رنگت والے، ناک بھی ایسی ستواں کہ ہمارے  قہوے کے پیالوں  میں پھنس جائے، میں نے گردن جھٹک کر اس گروپ پر سے نظریں ہٹائیں اور گائیڈ کی طرف دیکھا جو میری ٹکٹ کی کھڑکی پر آکر کھڑا ہو گیا تھا،

اس نے دس دینار کھڑکی پر رکھے اور پانچ ٹکٹوں کے لئے اپنی ہتھیلی  پھیلا دی، “اور تمھارا ٹکٹ” میں نے پوچھا میری دلہن نے کہا تھا کہ آج ٹکٹ گھر کی کھڑکی پر ایک نیک دل حسینہ بیٹھی ہوگی جو تمھارا ٹکٹ نہیں لے گی، وہ اپنے چہرے پر معصومیت طاری کرکے بولا “کہاں ہے تمھاری دلہن” میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ابھی تلاش کر رہا  ہوں ۔یہاں بھی اس کی تلاش میں ہی آیا ہوں ہوسکتا ہے کہ شاید کسی ٹکٹ گھر میں مل جائے اس نے برجستہ کہا، میرے گال شرم سے سرخ ہوگئے اور میں نے جھینپ کر جلدی سے گائیڈ کا کمپلیمنٹری پاس پھاڑ کر اس کے حوالے کیا۔

وہ ٹکٹ لے کر مسکراتا ہوا اپنے گروپ کی طرف لوٹ گیا، میں نے ترچھی آنکھ سے اسے جاتے ہوئے دیکھا وہ چلنے میں ایک طرف ہلکہ سا جھول کھا رہا تھا۔ مجھے اس کے چلنے کا اسٹائل بھی دلکش لگا ،گائیڈ اپنے گروپ کو لے کر سائیٹ کو جانے والی بس میں بیٹھ گیا اور میں کافی دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ شاید کہیں کوئی غنچہ کھلنے کو تھا۔۔۔

دوستو! غنچے کھلنا استعارہ ہے امید کا، نوید ہے ،بدلتے موسم کا ،انتظار کا، پیغام ہے سرشاری کا، بہار کا اور محبت کا۔۔تو پھر منتظر رہیں نجلہ القبیسی کی کہانی میں کوئی گل کھلنے کا،

ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ​،

جہاں میں دردِ دل کی پھر ہوئی توقیر بسم اللہ ​ !

جاری ہے!

 

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *