ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 203 )

سنگ بار ۔۔فیصل عظیم

 ہر طرف نقشِ قدم محوِ سفر تھک گئی حدِّ نظر، انتہا  سے  انتہا  تک سر ہی سر کلمۂ مانوس کی تکرار، آوازِ جرس وہ قیامت ہے، کہ بس! ایک سنگِ میل کی جانب رواں ایک بحرِ بیکراں۔۔ بیکس و بے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔ جاویدخان/قسط 8

جھیل لُولُوسَر: اگر وادی ِ لُولُو سَر کوایک اَلہڑ کہساری دوشیزہ مانیں تو جھیل لُولُو سر اُس کی وہی نیلی آنکھیں ہوں گی جس کے ذکر سے ہماری رومانوی نثر اور شاعری بھری پڑی ہے۔ہمارے ادیبوں اور شاعروں کے حُسن←  مزید پڑھیے

پیر تسمہ پا اور شہر نا پُرسان کی پرجا۔عامر کاکازئی

داستانِ امیر حمزہ کو اردو ادبِ میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ اس داستان کو کئی داستان سازوں نے اپنے اپنے انداز میں تحریر کیا۔ یہ داستان فارسی ادب سے اردو ادب میں منتقل ہوئی لیکن اسے اردو میں کہیں←  مزید پڑھیے

حدودِ طائف۔۔فیصل عظیم

 دعائیں دینا! کہ اہلِ طائف حدودِ طائف پھلانگ کر اب زماں، مکاں کی سبھی فصیلیں عبور کر کے جنوب و مشرق، شمال و مغرب پہ چھا گئے ہیں جو ہاتھ میں تھے کبھی، وہ پتھر زبان پر ہیں، نظر نظر←  مزید پڑھیے

جرنیلی سڑک ۔ابنِ فاضل/قسط7

قصہ کوتاہ، یہ برسات کا موسم تھا اور آپ تو جانتے ہیں برسات میں دریا اور جذبات پورے طمطراق سے بہتے ہیں سو جہلم بھی اس وقت پورے جوبن پہ تھا ۔اب پل تو تھا نہیں ابھی اس پر کہ←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔ جاویدخان/قسط7

جل کھنڈ 50100۱فُٹ کی بلندی پہ واقع ہے۔یہاں کوئی بڑا بازار نہیں۔یہ ایک کہساری وادی ہے۔سڑک سے ذرا نیچے دریا ء ایک آب جو کی شکل میں بہہ رہا ہے۔ہم بسم اللہ ہوٹل کے سامنے رکے۔یہ ہوٹل دیار کے تراشیدہ←  مزید پڑھیے

گالی، میڈیا اور جذبات۔مظفر عباس نقوی/مختصر کہانیاں

گالی، میڈیا اور جذبات 1-میڈیامنڈی جب تم ہر کسی کے ساتھ اپنی مرضی سے جاتی ہو۔ پھر کیوں ہر صبح اتنا واویلا اور شور کرتی ہو؟ صاحب یہ میڈیا منڈی ہے. میں ہر رات اپنی پسند کے گاہک کو خوب←  مزید پڑھیے

چندرا ۔شہزاد حنیف سجاول/افسانہ

دادا جی کے کمرے کی پچھلی دیوار میں جو کھڑکی ہے اس  سے باہر دیکھیں تو دور دور تک کھیتوں کی ہریالی نظر آتی ہے ساتھ والے جھنڈ کے درخت اپنے سر جوڑے آپس میں سرگوشیاں کرتے رہتےہیں اور ان←  مزید پڑھیے

مدینے کا سفر اور میں نم دیدہ نم دیدہ۔محمود چوہدری/قسط1

کوئی شہر بھنبھور، کوئی سیال نگر ، کوئی رانجھن کاڈیرہ ،کوئی تخت ہزارہ، کوئی پنن کاصحرا،کوئی مٹھن کی جھوک ، کوئی ماہی کی بستی ،کوئی لاکھی باغ ،کوئی شہر سیف الملوک ، کوئی ڈھولن کادیس ۔۔ الغرض کسی بھی محبوب←  مزید پڑھیے

جناح، دینا واڈیا، اور شیکسپیئر۔۔۔ کاشف محمود

پہلا منظر: وہ محل میں ہی پلا بڑھا۔ سدھارتھ نے کبھی کوئی انسان تکلیف میں نہ دیکھا تھا۔ لیکن آج کپل وستو کی گلیوں میں اس نے عجب منظر دیکھے۔ بڑھاپا، بیماری، موت، اوران سب کے بیچ ایک سادھو کا←  مزید پڑھیے

احمد اقبال کے قلم سے ایک خاکہ۔اخبار والا

بیوی نے ناشتے کے خالی برتن سمیٹ کر ٹرے میں رکھے”آپ نے جواب نہیں دیا میری بات کا” میں نے بے خیالی میں اس کی طرف دیکھا”کون سی بات۔۔” “میں نے کہا تھا کہ لائٹ  لگانی  ہے  لان میں۔۔جیسی مسز←  مزید پڑھیے

طوائف۔۔۔ مریم مجید

دسمبر کی سرد اور کہر آلود رات نے ابھی نصف سفر بھی طے نہیں کیا تھا مگر پالے نے شہر کی سڑکوں پر جو ویرانی پھیلا رکھی تھی وہ نصف شب کا سماں باندھ رہی تھی ۔لوگ باگ اپنے اپنے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔جاویدخان/قسط6

ناران بازار دریا کُنہار کے کنارے آباد ہے۔بازار کے آغاز ہی میں خیمہ بستی ہے اور ہوٹل ہیں۔شہر دواطراف سے پہاڑوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔جِست کی چادروں جوفولادی ستونوں پہ کھڑی تھیں اُن کے نیچے بجری پہ←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ ٹارگٹ ٹارگٹ ۔کرنل ضیاء شہزاد/قسط 17

چاچا کمپس رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ←  مزید پڑھیے

یادوں کے جگنو۔رفعت علوی/قسط5

طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں! اور انسان کے نجات دھندہ نے یہاں بپتسمہ لیا۔۔جان دہ بیپٹسٹ نے یسوع کو اس چشمے کے پانی سے پوتر اور طاہر کیا،یوحنا کا چشمہ←  مزید پڑھیے

اداس لمحوں کی داستانیں ۔اسماء مغل

اداسی کی کیا تعریف ہو سکتی ہے؟ فیض نے تو اسےچند لائنوں میں یوں بیان کیا ہے۔۔ نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے امید یار  ←  مزید پڑھیے

خاکی وردی آلا چن۔سائرہ ممتاز/آخری قسط

کرتار صغراں دے دکھی مہاندرے نوں تک کے اپنڑے وجود نوں سانبھیا تے کہن لگا “ایہہ کداں ہو سکدا اے، ماسی حمیداں اینی چھیتی ویاہ لئی  سوچن لگ پئی ۔ اجے تاں توں میٹرک دا داخلہ وی نہیں تاریا. ”←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔نیا روپ /ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ قسط 10

چونکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کوٹ سارنگ جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا، جہاں بقول ماں کے،سبھی مسلمان ان کے بھائی بہنیں تھے اور کوئی واردات نہیں ہو سکتی تھی، اس لئے یہی طے کیا گیا کہ آریہ محلے کے←  مزید پڑھیے

خاکی وردی آلا چن۔سائرہ ممتاز/پنجابی افسانہ۔قسط 1

اِک اُونکار سَتِ نام کرتا پُرکھ نِربھو نِروَیر اکال مورتِ اجُونی سَے بھنگ گُر پرساد آد سچ جگاد سچ رہے بھی سچ نانک ہوسی بھی سچ اک رب توں سوا کوئی سچائی نہیں، ناں اوہنوں کسے دا  ڈر ہے، اوہدی←  مزید پڑھیے

ایک سبق ریاضی کا۔۔۔ مدثر ظٖفر

تمھارے پاس دس روپے ہوں تو تم ایک درجن کیلے خرید سکتے ہو  ، اگر پندرہ روپے ہوں تو کتنے کیلے آئیں گے ؟ لیکن سر میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں ۔ اس کے جواب  سے  مایوسی  جھلک رہی←  مزید پڑھیے