گالی، میڈیا اور جذبات۔مظفر عباس نقوی/مختصر کہانیاں

گالی، میڈیا اور جذبات
1-میڈیامنڈی
جب تم ہر کسی کے ساتھ اپنی مرضی سے جاتی ہو۔
پھر کیوں ہر صبح اتنا واویلا اور شور کرتی ہو؟
صاحب یہ میڈیا منڈی ہے.
میں ہر رات اپنی پسند کے گاہک کو خوب لبھاتی ہوں اور ہر رات اپنی بڑھتی خواہش کی  بدولت اپنے ہی پسند کے گاہک سے مطمئن نا ہونے کی وجہ سےزیادہ ریٹ کا تقاضا کرتے ہوئے ناراض ہوجاتی ہوں۔
پھر ہر صبح بالجبر کا شور ڈال کر گاہک کو بدنام کرتی ہوں۔.
میں مسکرایا
رانی جبکہ منڈی کا ہر فرد تمہارے اس شور اور ریٹ کا وقفے وقفے سے مزا چکھ چکا ہے تو کیوں لوگ باری باری تمہارے پاس آتے ہیں.
اب کی  بار رانی مسکرائی۔۔ صاحب سب ٹی آر پیز کا چکر ہے۔
میں لبھاتی ضرور ہوں مگر لوگ تو بس یہاں بدنام ہونے آتے ہیں۔
نوٹ: اس واقع کوموجودہ حالات کے پیش نظرمیں نہ  دیکھا جائے۔

2-مسلمان اورکفار
علامہ صاحب واعظ اور دعوت مذہب میں بہت اعلیٰ ہیں۔
بعض اوقات اتنا آگے چلے جاتے ہیں اور ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کے حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔
کچھ دن پہلے بہت خوبصورت انداز میں مسلمانوں اور کفار کا تعلق بیان کیا۔
کفار اور مسلمانوں میں اتنا تعلق ہے جتنا لیٹرین اور انسان کا کہ وہاں جا کر کستوری نہیں سونگھتے۔
اس بیان کے بعد مولانا نے مشرف با اسلام مائیک سائیڈ پے کیا،
کندھے پے رومال رکھتے ہوئے کافر وئیل چیئر پے باتھ روم روانہ ہو گئے

3۔حیدرعلی اور تربت
میں گولیوں کی آواز سن کر تیز بھاگ رہا تھا۔
اتنا تیز جتنا بھاگا جا سکتا ہے۔
جتنا انسان اپنی زندگی کے لئے آخری کوشش کرتا ہے۔
اتنا تیز کہ  سانس لینا بھی مشکل مگر مجھے بھاگنا تھا۔
گولیوں کی تڑ تڑ۔۔۔
اور اگلی بس میں موجود پندرہ انسانوں کی درد بھری چیخیں
یا میری سانسیں
کس کی آواز بلند تھی مجھے کچھ خبر نہیں
میں تو بھاگ رہا تھا۔
اتنا تیز جتنا میں معاش کی غرض سے اپنے گھر سے نکلا تھا۔
اپنی زندگی بچانے کے علاوہ ایک اور سوچ کا سفر
اگر بچ گیا تو ڈیڑھ لاکھ کا قرض جو ایجنٹ کو دیاتھا کیسے ادا ہو گا۔
مر گیا تو لاش یا خبر گھر تک پہنچ پائے گی۔
زخمی ہوا تو کوئی امداد ہو گی بھی یا نہیں۔
اورمجھ جیسے اور کتنے حیدر علی کب تک یونہی بھاگتے ہوں گے۔

4۔آتشدان اورجذبات!
دسمبر کی سردی جسم کو کم اور جذبات کو زیادہ اثر انداز کرتی ہے۔
میں نے آتش دان میں رکھی لکڑیوں میں آگ سلگائی۔
جلد ہی لکڑیاں شعلوں کی صورت بلند ہونے لگی۔
ہوٹل کے بند کمرے میں آتش دان میں دھکتی آگ اورہم دونوں کے جذبات کی عجیب کیفیت تھی۔
شعلے اور جذبات دونوں بھڑک رہے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ شعلے بھی جذبات کی صورت بلند ہوتے رہے۔
اور اپنی نہج پر پہنچ کر خودہی ٹھنڈی راکھ میں تبدیل ہو گئے۔

5۔توہین انسان!
مولانا صاحب نے کہا۔
انسان کی نیکیوں اور اچھے اعمال کی جزا اس کوجنت کی صورت میں ملے گی۔
میں نے کہا حضوریہ کیسی جزا ؟
جس جنت سے نکل کر انسان کی عظمت میں اضافہ ہوا۔
خداکا نائب اور زمین پر اس کا خلیفہ مقررہوا۔
زمین و آسمان کو تسخیر کرتاچلا گیا۔
چاند پر قدم رکھ کر مریخ کے سفر پر روانہ ہوا۔
پھرمرنے کے بعد
اسی جنت کا سفر کہیں جزا کی بجائے حضرت انسان کی توہین تونہیں ۔

6۔ گالی!
میں اسے ہمیشہ گالی کے ذریعے مخاطب کرتاہوں ۔
کہ کوٹھے پے بیٹھی رنڈی کو گالی دینے کا اپنامزا ہے۔
آخرمجھے بھی تو اپنے دماغ کا تعفن نکالنے کے لئے
کوئی جگہ چاہیے ہوتی ہے ۔
اب گالم گلوچ میں اپنی بیوی کے ساتھ تو نہیں کر سکتا۔
کہ وہ ایک عزت دارگھر سے ہے ۔ اورمیری چچا زاد بھی ۔
ویسے بھی عزت دار گھروں کی عورتوں اور کوٹھے پرموجودرنڈیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
وہ گھر چلاناجانتی ہیں ۔
ان کو کیا سلیقہ بس کوٹھا چلانا اوردل لبھانا۔

مظفر عباس نقوی
مظفر عباس نقوی
سیاست ادب مزاح آذادمنش زبان دراز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *