یادوں کے جگنو۔رفعت علوی/قسط5

طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں!

اور انسان کے نجات دھندہ نے یہاں بپتسمہ لیا۔۔جان دہ بیپٹسٹ نے یسوع کو اس چشمے کے پانی سے پوتر اور طاہر کیا،یوحنا کا چشمہ ایک نالے سے چوڑا نہ تھا۔۔۔
ہم نے غور سے دیکھا دریائے اردن کے نام پر نو دس گز چوڑا نالہ دور تک بہتا چلاگیا تھا۔گرم گرم توے سے اترتی روٹی کی مہک سے میری بھوک کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا اور امی برابر یہ کہے جائیں ذرا صبر کرو تمھارے ابو دسترخوان پر آئیں تو کھانا نکالتی ہوں،
“صبر ہی تو نہیں ہوتا امی” میں نے گرم روٹی کی بھاپ سینکتے ہوئے کہا۔
تب امی نے صبر ایوب کا قصہ چھیڑ دیا، ہم بہن بھائیوں نے امی سے یہ اور بہت سی ایسی مذہبی اور رویتی کہانیاں قصے اسی  طرح سنے  تھے، آج امی تو نہیں رہیں مگر بچپن میں ان کے سنائے ہوئے یہ قصے آج بھی ہمارے ذہن کی بیک میموری میں موجود ہیں
بچپن سے بڑے ہونے تک مجھےیہی غلط فہمی رہی کہ صبر والے ایوب علیہ سلام اور حضرت ایوب انصاری ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں، اس غلط فہمی کا خاتمہ اس وقت ہوا جب میں نے پہلی بار صلالہ میں بوب یا جوب یا حضرت ایوب علیہ السلام کا چھوٹا سا مزار دیکھا جو صلالہ کی اونچی پہاڑی”جبل التین” پر بنا ہوا تھا، یہ وہ پیغمبر تھے جن کا مال و دولت سے محرومی پر، اولاد کا داغ مفارقت دے جانے پر اور پھر آٹھ سال تک جذام جیسے موذی بیماری میں مبتلا رہنے پر صبر تحمل اور اللہ توکل مشہور ہے۔ ان صابر نبی کا ذکر نہ صرف بائبل میں بہت تفصیل سے موجود ہے بلکہ قران الکریم کی مختلف سورۂ میں بھی نصیحت اور صبر کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔

پھر میں نے استنبول میں ایک جالی دار نیم تاریک مستطیل سفید کمرے میں حضرت خالد بن زید بن کعب کی آخری آرام گاہ دیکھی، جی ہاں یہ خالد بن زید وہی میزبان رسول مشہور صحابی حضرت ابو ایوب انصاری کا مقبرہ تھا جن کو یثرب میں میزبان رسول ہونے کا شرف حاصل ہوا تھا۔یہاں روضہ ابو ایوب انصاری کے صحن میں مجھےدرجن  بھر چھوٹے چھوٹے سات آٹھ سال کے سجے بنے بچے بچیاں بھی دکھائی دیے جن کے سروں پہ تاج سجا تھا اور وہ قیصر و کسری جیسے زرق برق گاؤن پہنے، گلے میں ہار سجائےجوش اور دمکتے چہروں کے ساتھ ادھر سے ادھر بھاگتے پھر رہے تھے، یہاں ان بچوں کی موجودگی مجھے عجیب سی لگی کہ آخر وہ بچے وہاں کیوں تھے اور کیا کر رہے تھے، اس سوال کا حیرت انگیز جواب مجھےآرمینیا کےایک ایسے بڑے میاں سے ملا جو تھوڑی سی عربی اور کچھ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بول اور سمجھ سکتےتھے،
” یہ بچے “بپتسمہ” کے لئے یہاں آئے ہیں” میرے سوال کے جواب میں بڑے میاں نے کچھ سوچ کر اپنی ٹوٹی  پھوٹی انگریزی میں جواب دیا۔۔
بپتسمہ؟؟ مگر یہ تو کرسچنز کا مذہبی فریضہ ہے، محمڈنز کا بپتسمہ سے کیا تعلق، میں نے حیرت سے پوچھا
بڑےمیاں میری بات کچھ سمجھے یا نہ سمجھے مگر اپنا سر ہلاتے کوئی جواب دیے بغیر آگے بڑھ گئے۔
مجھے یقین تھا کہ یہ آرمینیائی بڑے میاں کو غلط فہمی ہوئی ہے وہ میرا سوال سمجھے ہی نہیں مگر میں غلط تھا، مگر کیوں غلط تھا اس کا ذکر ذرا بعد میں ہوگا، ابھی تو ہم اس تاریخی دریائے اردن کے کنارے کھڑے تھے، جو بیت الحم اور یروشلم کے بعد عیسائیوں کے لئے سب سے متبرک اور مقدس جگہ تھی۔

اردن اور اسرئیل کا مشترکہ سرحدی علاقے میں بہتا  ہوا یہ دریائے اردن جو شام اور اسرائیل سے یہاں تک پہنچتے پہنچتے دریا سے سمٹ کر نالہ بن گیا تھا حضرت عیسی کے زمانے سے مقدس سمجھاجاتا ہے، اس جگہ کئی پادری اور پریسٹ حضرات موجود تھے جو نہ صرف لوگوں کو بپتسمہ کے عمل سے گزارتے ،دعائیں پڑھتے بلکہ ہم جیسے نادان گمراہ لوگوں کو بپتسمہ کا طریقہ اس کی اہمیت اور تاریخ بتلا کر راہ راست پہ آنے کی ترغیب دیتے تھے ، ان میں سے ایک مقدس باپ نے مجھے بتایا کہ انجیل مقدس کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں یوحنا( یحیٰ ) نے مریم کے بیٹے یسوع مسیح ، انسانیت کے نجات دھندہ کو بپتسمہ دیا تھا۔ ان کو نہلا کر پاک صاف کیا گیا تھا۔

دریائے اردن کی ہری بھری چڑھائی پر پانچویں یا چھٹی صدی کا لکڑی کا بنا ہوا ایک متروک گرجا گھر بھی موجود تھا جو یسوع مسیح کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ ہم نے اس تاریخی گرجا میں بھی موزائک کے فرش پر کئی تصاویر اور نقشے دیکھے،بپتسمہ کا اصل مقام گہرائی میں تھا۔ ایک طرف اس متبرک جگہ کا نقشہ بھی بنا ہوا تھا جس  کے مطابق دور عیسوی میں دریائے اردن سے پانی کی ایک شاخ اس مقام تک آتی تھی۔ یہ شاخ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے چشمے کے نام سے مشہور تھی کیونکہ یحییٰ نے برسوں یہاں قیام کیا تھا اور اسی جگہ سے عیسائیت کی تبلیغ کی تھی، حضرت عیسٰی کے بپتسمہ کے بعد  یہ بات  طے ہوگئی تھی کہ مسیحی عقیدے کے ماننے والے اس وقت تک مکمل طور پر مسیحیت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک ان کا بپتسمہ نہ ہوجائے گویا سنت ابراہیمی کی تکمیل اور بپتسمہ کے عمل سے گزرنا عیسائیت کا جزوِ  لازم ہے۔

انسان کی فطرت عجیب ہے۔ زورآور بنتا ہے۔۔۔شہہ زور کہلاتا ہے،مہروز پر کمند ڈالتا ہے،مذہب اور سیاست کے نام پر ایک دوسرے کا گلا کاٹتا ہے مگر۔۔وہ اپنے آپ کو گناہگار بھی مانتا ہے اور پاکی کی تلاش میں رہتا ہے،
اہلِ ہنود کاشی جاکر گنگا جل میں ڈبکی لگاتے ہیں، مال، مایا جال اور استری سے منہ موڑتے ہیں تو ان کو نروان ملتا ہے، عرفان و آگہی ملتی ہے، بدھ بھکشو جب بھنا ہوا غلہ کھاتا ہے، کاسہ گدائی پھیلا کر بھیک مانگتا ہے، تپسیا میں دھیان لگاتا ہے تو اس کی روح پاک ہوتی ہے اس کی نجات ہوتی ہے، سکھ جب چار پدارتھ کا گیان کرلیتا ہے تو اس کو مکتی مل جاتی ہے، پارسی کے لئے پاکیزگی کی مقدس علامت آگ ہے، ان کے معبد اور گھروں میں ہر وقت آگ روشن رہتی ہے۔اوستا کے ماننے والے زرتشت کے پجاری آتش پرست آگ کے سامنے پاک و طاھر ہوجاتے ہیں، اہل یہود دیوار گریہ پر اشکوں کے موتی لٹاتے ہیں تو گناہوں اور دنیاوی آلائشوں سے پاک و صاف ہوجاتے ہیں۔اور رائیڈر ہیگرڈ کی “شی” عائشہ بھی آگ میں جل کر پاک و صاف ہوکر لافانی اور امر ہونے کی تمنا میں جل کر خاک ہوجاتی ہے، خضر الیاس اور سکندر اعظم کو بھی پاکی طہارت اور لافانی زندگی کےلئے آب حیات کی برسوں تلاش رہی، عیسائی جب دریائے اردن کے پانی سے بپتسمہ لیتا ہے تو پوتر ہوجاتا ہےاور مسلمان زم زم سے نہا کر رب کعبہ کے نام پر سیاہ چوکور بڑے پتھر کے سات چکر لگا کر اپنا طواف پورا کرتا ہے تو اتنا معصوم اور پاک ہوجاتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے نکلنے والا معصوم بچہ ہو۔

ایک خالق کائنات عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار، اے کارسازِ دہر و خداوندِ بحر و بر، اے اِدراک و آگہی کے لیے منزلِ مراد، اے بہرِ مسافرانِ جنوں کے لئے حاصلِ سفر سُن۔۔ اس عاجز کی بھی تو سُن ذرا،

ظاہر کہاں کہاں نہ ہُوا رنگ و بُو میں تُو،

شہ رگ میں گونجتا ہے لہُو یا لہُو میں تُو

اے رب عالم اے دنیا کے یزداں تو یہ بتا کہ تیری دنیا میں یہ تضاد انسانیت کیا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے قاتل، مرے دلِدار مرے پاس رہو!
پسینہ میری گردن سے بہہ کر میرے بلاؤز میں جذب ہو رہا تھا، میں ٹکٹ گھر کی کھڑکی سے  ذرا فاصلے پر ایک طرف کی دیوار سے لگی کھڑی تھی اور کوشش کر رہی تھی اس کی نظروں کی تپش سے دور رہوں، میں اس سے بچنا چاہتی تھی کہ مجھ میں اب کسی اور امتحان سے گذرنے کی ہمت نہ تھی۔۔۔محبت گزیدہ جو تھی، مجھے یہ زہریلا سانپ ایک بار پہلے بھی ڈس چکا تھا۔۔
سیاحوں کی گاڑی واپس آرہی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنی مقررہ جگہ پہنچ کر رک گئی اور ان پانچ آدمیوں کا قافلہ قریب کھڑی ویگن کی طرف بڑھ گیا جب کہ ان کا شریر گائیڈ ہلکے ہلکے جھولتا ہوا میری طرف آنے لگا، اور وہ اب خالی کھڑکی پہ کھڑا کمرے کے اندر موجود لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے اپنی چابی سے کھٹ کھٹ کر رہا تھا، میری ساتھی خولہ نے دوسرے کمرے سے آکر مجھے بڑی حیرت سے دیکھا اور کھڑکی کی طرف بڑھ گئی وہ ایک ادھیڑ عمر کی شادی  شدہ سنجیدہ عورت تھی، میں نے صاف دیکھا کہ خولہ کو دیکھتے ہی کھڑکی پر کھٹ کھٹ کرتے اس کے شوخ چہرے پر مایوسی کی لہر سی دوڑ گئی، اس کی مایوس شکل دیکھ کر مجھے ایک نامعلوم سی خوشی  ہوئی اور اس پر ترس بھی آیا مگر میں چپ چاپ دیوار سے پشت لگائے اس کو سر جھکائے ایک طرف جھک کر چلتے ہوئے واپس لوٹتےدیکھتی رہی

یہ عقدۂ دل بھی خوب ہے، عکس بہاراں، ابر نگاراں، خال رخ یار اور دلدار سب کا امتحان لیتا ہے خود اپنا بھی، وہ چلا گیا مگر لگتا تھا نہیں گیا، اس کی شوخ مسکراہٹ کی دھنک ابھی تک کھڑکی سے باتیں کرتی تھی، اب مجھے افسوس ہو رہا تھا، میں نے اس کا پر شوق روشن چہرہ مایوسی سے بجھتے دیکھا تھا پر مجھے یقین تھا کہ اگر میری سادہ سی چال ٹھیک پڑی ہے تو وہ لوٹے گا اور ضرور لوٹے گا اگر میرا معاملہ اس کے لئے دل لگی نہیں ،دل کی لگی ہے
“وہ تم سے ملنے آیا تھا” سنجیدہ خولہ ایک زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ بولی؟
میں چونک پڑی۔۔
تمھارے لئے میسیج چھوڑ گیا ہے، اس نے ایک بزنس کارڈ میری طرف بڑھادیا، میں نے کارڈ لے کر پڑھا۔۔
سعید بصام البدوی
اٹلاس ٹریول اینڈ ٹوریسٹ ایجنسی
ٹیلیفون نمبر۔۔۔۔
کارڈ پر قلم سے ایک میسیج بھی لکھا تھا
“کیا تم میری دلہن بنو گی”
شرم سے میرا چہرہ لال ہو گیا، پاگل ۔۔۔آخر کسی فقیر راہگزر سے تعلق کیسے جوڑا جاسکتا ہے، میں اس کو جانتی نہ تھی۔پہچانتی نہ تھی، اور وہ اتنی غیر سنجدگی سے ایک بےحد سنجیدہ پیغام دے کر واپس لوٹ گیا تھا۔۔

میں نے چور نظروں سے ایک بار پھر کھڑکی سے باہر دیکھا، چاروں طرف چمکیلی روشن دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور حد نگاہ صرف گرد ِ راہ تھی، اس کی گاڑی جا چکی تھی پر مجھے لگا وہ اب بھی باہر کھڑا سورج کی روشنی میں کسی شریر لڑکے کی طرح چھپ چھپ کر میرے دل پر آئینے کا عکس ڈال رہا ہے۔۔۔

اگر تو اس سے مل لیتی، اگراس کی بات سن لیتی، اگر اس سے دو باتیں کر لیتی، اس کے بارے میں میں کچھ جان لیتی تو تیرا کیا بگڑ جاتا ، میں نے جھجھلا کر خود سے کہا، پھر میرا دل مجھے سمجھانے بیٹھ گیا کہ تو کیوں جی سے جاتی ہے پگلی ،تو ابھی اس سے بھاگ رہی، تجھے اس کے کندھے پر سر رکھ کر گلے شکوے کرنے کا وقت بھی ملے گا۔۔۔

اور اس سنہرے خیال پر ہر سمت بکھرنے لگیں وجدان کی کرنیں، کرنوں سے کھِلے رنگ اور رنگوں سے گلستاں
خواب سے خوشبوئے رگِ گُل بیدار ھوئی ، اور خوشبو سے مہکنے لگا دامانِ بیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
النصر لیثر لینڈ کا اسکیٹنگ ہال ادب نواز لوگوں سے بھرتا جا رہا تھا، منتظمین کی طرف سے مشاعرے میں داخلے کیا ٹکٹ سو درہم سے تین سو درہم تک رکھا گیا تھا جو 1988 میں   بہت بڑی رقم تھی،میں بھی تھیڑیکل ایرینا ٹائپ بنے ہوئے اس ہال کی درجہ بہ درجہ اونچی ہوتی ہوئی کرسیوں میں ایک طرف بیٹھا ٹھٹھر رہا تھا اور دل ہی دل میں منتظمین کو برا بھلا بھی کہے جا رہا تھا جنھوں نے قیمتی ٹکٹ لگا کر آگے کی ساری نشستیں میرے جیسے “صاحب ذوق” لوگوں کی پہنچ سے باہر کردی تھیں۔مرا غصہ اور فریسٹریشن اس وقت اور زیادہ بڑھ گیا جب میں نے آگے کی چار پانچ قطاروں کی نشستوں پر بیٹھنے والوں کےہاتھوں میں ٹکٹ کے بجائے انویٹیشن کارڈ دیکھے اور ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جن کا اردو شاعری اور ادب سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا مگر وہ اپنے تعلقات اور سوشل اسٹیٹس کی بنا پر آگے بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
مشاعرہ ختم ہوتے ہوتے میں اپنے دل میں عزم کر چکا تھا کہ رب العزت نے اگر مجھے موقع دیا اور میں جب بھی کوئی مشاعرہ کروں گا اس میں داخلے کی کوئی فیس نہ رکھوں گا اور میں آج تک اپنے اس عہد پر قائم ہوں۔۔بیاد فیض کے بینر تلے ہونے والا یہ مشاعرہ بعد میں متحدہ عرب امارات کی سرزمین میں ہونے والے سارے مشاعروں کی ماں ثابت ہوا، یہ ایک ٹرینڈ سیٹر مشاعرہ تھا اس کی کچھ جھلکیاں آپ کو دکھلاتا ہوں۔۔ مگر اگلی قسط میں!

جاری ہے!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *