ایک سبق ریاضی کا۔۔۔ مدثر ظٖفر

تمھارے پاس دس روپے ہوں تو تم ایک درجن کیلے خرید سکتے ہو  ، اگر پندرہ روپے ہوں تو کتنے کیلے آئیں گے ؟

لیکن سر میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں ۔ اس کے جواب  سے  مایوسی  جھلک رہی تھی ۔

مجھے معلوم ہے کہ  تمھارے پاس  پیسے   نہیں ہیں ، تم فرض کرو کہ ہیں۔

کیا فرض کرنے سے میرے پاس پیسے آجائیں گے ، اور میں کیلے خرید سکوں گا ؟

نہیں ،  فرض کرنے سے پیسے نہیں آتے ۔

تو پھر کیسے آتے ہیں ؟

جب تم بڑے ہو جاؤ گے  تب  آئیں   گے  ۔

جب میں بڑا ہو جاؤں گا  اور  میرے پاس پیسے آئیں گے تو کیلے خرید سکوں گا ؟

ہاں تب خرید سکو گے ۔

کیا  میں  یہ بات  ماں کو بتا دوں ؟

ہاں  ،  لیکن تم  یہ بات  ماں  کو   کیوں بتانا چاہتے ہو ؟

کیوں کہ کل جب مہمان آئے اور وہ کیلے لائے ، ماں نے کچھ کیلے مہانوں کے سامنے رکھے جو بچ رہے ان میں سے ایک ایک ماں نے ہم سب بہن بھائیوں کو دے دیا، خود نہیں کھایا ۔

اس کا چہرہ دمک اٹھا  ،   اس میں ایک عزم دکھائی دیا ، اسی سرشاری کی کیفیت میں وہ بولتا چلا گیا ،  میں اسے بتاؤں گا کہ جب میں بڑا ہو جاؤں گا  اور   میرے پاس پیسے ہوں گے  ان پیسوں سے میں کیلے خریدوں گا پھر تم کیلے کھا سکو گی ، یہ کہہ کر وہ چل دیا ۔

کہاں چل دیئے ؟ میں نے پوچھا  ۔

ماں کو بتانے ۔ اس نے پیچھے مڑ کر جواب دیا ۔

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *