چلے تھے دیوسائی ۔جاویدخان/قسط6

ناران بازار دریا کُنہار کے کنارے آباد ہے۔بازار کے آغاز ہی میں خیمہ بستی ہے اور ہوٹل ہیں۔شہر دواطراف سے پہاڑوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔جِست کی چادروں جوفولادی ستونوں پہ کھڑی تھیں اُن کے نیچے بجری پہ کُرسیاں اورننگی چارپائی بِچھی تھی۔ہم کھاناایک ایسے ہی ہوٹل میں کھانے بیٹھے۔ جستی چادروں تلے بیٹھ کر کھانے اور گز بھر فاصلے پہ بہتے کُنہار کودیکھنے کاالگ مزا تھا۔عاصم صاحب ہمارے امام سفر تھے لِہٰذا تما م مقتدی امام کے قول و فعل کے پابند تھے۔

ناران شہر دومتوازی چوٹیوں کے قدموں میں آباد ہے اور اس کی مغربی سمت میں دوسری چوٹی کے قریب دریا ہمیشہ سرکتا رہتاہے۔ان چوٹیوں پہ سفید دُودھیا بال چھتری تانے کھڑے تھے۔ناران سے آگے دریا کی سرکشی ماند پڑنے لگتی ہے۔ایک کُھلی وادی کا منظر سامنے آجاتا ہے جو دریا کُنہار کو گود میں لیے ہوئے ہے۔یہاں بلند و بالا پہاڑوں نے اس کی آزادی پہ کوئی شب خون نہیں مارا۔آسمان  سے باتیں کرتی چوٹیوں کی کُھلی بانہوں میں یہ معصوم بچے کی طرح اٹھکھیلیاں کرتا ہوا آزاد ہے۔آلوؤں کے کھیتوں کے ساتھ ساتھ جنگلی پھولوں نے دھرتی کے حسن کو آراستہ کیا ہوا ہے۔یہاں آلوؤں کی فصل تیار ہے۔کسان اپنے خاندانوں کے ساتھ آلو نکال رہے تھے۔جبکہ کچھ پیچھے ابھی یہ عمل شروع نہ ہوا تھا۔

پہاڑی چوٹیاں برف سے خالی ہورہیں تھیں اور اپنے ٹوٹے وجود کارَس (پانی) کُنہار کو سونپ رہی تھیں۔اِک ننگی چوٹی پہ برف کاآدھا گلیشر نیم دراز تھا۔ بالکل ایسے جیسے کوئی سفید شیر نیم جان ہو کر کسی چٹان پہ اپنی ٹانگیں پھیلائے غنودگی  کی حالت میں ہو ۔دریا ئے کُنہار کی ایک معاون ندی کی زندگی یہی گلیشر ہے۔جُوں جُوں آگے بڑھ رہے تھے وادی پھیلتی جاتی تھی۔ آلوؤں اور مٹر کے کھیت  خؤبصورت لگ  رہے تھے۔کچے جھونپڑوں میں نامعلوم محنت کشوں کا حُسن ان   ڈھلوانوں پہ کھیتیوں کی صورت میں نکھرا اور بکھرا پڑا ہے۔یہی محنت کش اس دھرتی کے اصل رکھوالے اور وارث ہیں۔

سندھ کے مشہور  صوفی  شاہ عنایت نے صدیوں پہلے یہ فلسفہ دیا تھا ”جوکمائے وہی کھائے“۔سندھ میں جاگیر داری صدیوں سے راج کرتی آرہی ہے اور آج بھی کررہی ہے۔صوفی شاہ عنایت نے اس جاگیر داری کی چکی میں پِسنے والے مزاراعوں کو اپنا حق لینے کی تحریک دی اور خود بھی اس تحریک کا حصہ ہوئے۔نورائی سے گُزرتے ہوئے سڑک کے دائیں طرف دو چوٹیاں ایسے اُوپر اُٹھیں تھیں۔جیسے کسی شب بیدار عابد کے دونوں ہاتھ مل کر دُعا کے لیے بلند ہورہے ہوں اور سفید موتیوں کی بڑی تسبیح ان ہتھیلیوں میں پھیل گئی ہو۔ایسے ہی ایک سفید گلیشر بلند چوٹی کی دو ہتھیلیوں میں پڑا چمک رہا تھا۔

دریا اب دائیں طرف ہوگیا تھااور اُس کازور ختم ہو کر ایک خاموش آب جُو میں تبدیل ہوگیا تھا۔بارش شروع ہو گئی تھی اور اُس کے قطرے ترچھے پڑ رہے تھے۔وقاص اَن تھک ڈرائیونگ کے ماہر اور اپنے کام پہ متوجہ تھے۔وقاص ضلعی دارلخلافہ راولاکوٹ میں نادرہ کے ناظم اعلی ٰ ہیں۔عمران مسلسل اگلی نشست سے تبصروں میں مصروف تھے جبکہ طاہر یوسف ان تبصروں کو  کان لگا کہ سُن رہے تھے جیسے یہ اُن کی ذمہ داری ہو۔

چوٹیاں دُور تک در ختوں سے خالی تھیں۔دیودار اُگانے کا جو تجربہ پیچھے پردیسی زمین پہ کیا گیا تھا؟اوران ننگی چوٹیوں کو دیودار اوربیاڑ سے ڈھک کیوں نہ لیا گیا۔ایک خبر کے مطابق پاکستان نے درخت لگانے کا ریکارڈ قائم کیا ہے اور خصوصاً خیبر پختونخوا  اس کام میں سب سے آگے ہے۔لیکن خیبر پختونخوا  کا یہ علاقہ درختوں کو ترس رہا ہے۔بلین ٹری (لاکھوں درخت لگانا) ریکارڈ سے قطع نظر پاکستان میں اس وقت ایک فرد کے مقابلے میں فقط پانچ درخت کھڑے ہیں  اور ان کی زندگیاں بھی دن بدن آروں کی نذر ہورہی ہیں۔ دُنیا  میں کاربن ڈائی آکسائیڈ  کی  مقدار تجاوز  کر رہی ہے۔  اور قدرتی آفات کی زد میں کھڑے ممالک میں پاکستان سر فہرست ہے۔

ناران  سے  ۸ کلومیڑ آگے ”سوچ“ آتا ہے۔یہاں سے دائیں طرف ایک راستہ دومیل جاتا ہے۔دومیل تک جیپیں لے جاتی ہیں۔وہاں سے آگے قراقرم تک خود ہی جانا ہوتا ہے۔ دومیل سے ”سپٹ ویلی“تک بھی جیپیں ہی چلتی ہیں۔جیپ ان پہاڑی علاقوں میں واحد کارآمد فولادی مشین ہے جو گُرگُراتی ہوئی اُونچے نیچے راستوں پر بغیر کسی تکلف کے   چلتی  ہے۔ سُنا ہے اب یہ  اپنے اصلی وطن (جاپان) میں صرف  میوزیم میں اکادُکا سجی سجائی کھڑی ملتی ہے۔
یہ تو ”سوچ“ کے دائیں باہیں کی کہانی تھی۔مگر آپ ناک کی سیدھ میں آگے چلتے جائیں تو ٹھیک ۹ کلومیٹرکے بعد ”بڑوائی“ آجاتا ہے اور یہاں سے پھر داہنے ہاتھ پیدل راستہ رَتی گلی جھیل (نیلم) تک جاتا ہے۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *