احمد اقبال کی تحاریر
احمد اقبال
احمد اقبال
تقریبا"50 سال سےمیں کہانیاں لکھتا ہوں موضوعاتی،قسطوار،مزاحیہ ۔شاعری کرتا ہوں۔ موسیقی، فلموں اور کرکٹ کا شوق ہے، یار باش آدمی ہوں۔

احمد اقبال کے قلم سے ایک خاکہ۔اخبار والا

بیوی نے ناشتے کے خالی برتن سمیٹ کر ٹرے میں رکھے”آپ نے جواب نہیں دیا میری بات کا” میں نے بے خیالی میں اس کی طرف دیکھا”کون سی بات۔۔” “میں نے کہا تھا کہ لائٹ  لگانی  ہے  لان میں۔۔جیسی مسز←  مزید پڑھیے

فیسبک کے ادب تک۔احمد اقبال

 پاکستان میں ادب کی زبوں حالی بھی ایک قومی پلان کے مطابق ہوئی ۔ دیگر امور کی “اصلاح” حکمرانوں  کے لیے ترجیح رکھتی تھی چنانچہ ایک وقت تھا کہ راولپنڈی کے مشاعرے کی صدارت خود جنرل ایوب خاں نے کی۔←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اےہم نفسو۔سرگزشت/قسط 11

ایڈورڈز کالج میں بزم ادب کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں نے اسے فعال کیا۔ غالب کی برسی آئی تو میں نے ایک نیا تجربہ کیا جس میں تفریح کا سامان بھی تھا۔۔۔ میں نے غالب اس کی←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو۔سرگزشت/قسط10

اچانک دست قدرت نے دوستی کے اس مربع کو تکون میں  بدل دیا۔ ماجد ائیر فورس میں تھا اور رسالپورمیں اپنی تربیت کی تکمیل کر چکا تھا۔ دستور کےمطابق اس کی نسبت ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی خاندان کی ایک←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو۔سرگزشت احمد اقبال ( قسط 9)

میں سمجھتا ہوں زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ اور شعور اسی دور کی عطا ہے جب میں ایڈورڈز کالج میں تھا۔ مجھے وہاں احساس ہوا کہ میں جو دیکھتا یا سنتا ہوں اس کا مطلب بھی سمجھ سکتا ہوں۔ وہ←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو۔سرگزشت/قسط8

گارڈن کالج کا طالب علم ہونا کسی بھی طالب علم کے لیے عمر بھر کا سرمایہ افتخار ہو سکتا ہے لیکن میری بد قسمتی کہ یہاں سے حصول علم کے سوا میں نے وہ سب کیا جوکالج کے ماحول میں←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو/سرگزشت۔قسط7

ان گلی کوچوں سے آگے ۔۔ ادھر میں نے میٹرک پاس کیا ادھر بابوجی کو جیسے خواب آرزو کی تعبیر مل گئی۔ ان کو ملٹری ہسپتال سے ،ملحق سڑک پر دوکمروں کا کوارٹر مل گیا، یہ تنگ سی سڑک سیدھی←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو/سرگزشت۔قسط 6

پنڈی کہ ایک شہر تھا۔۔۔۔ اپنے میر صاحب جب دہلی سے لکھنو پہنچے تو کسی مشاعرے میں ان کی فقیرانہ وضع کا تمسخر اڑانے والوں نے سوال کیاکہ میاں کہاں کے ہو۔۔ باری آنے پر انہوں نے جو قطعہ پڑھا←  مزید پڑھیے

خود نوشت /احمد اقبال۔قسط 5

میں کون ہوں اے ہم نفسو? ملزم احمد اقبال حاضر ہو! ہم ہوئے پنڈی کے باسی — پانچواں حصہ چوبرجی کے پیچھے راج گڑھ والے مکان کا کرایہ بھی دس روپے تھا۔ اس کا پتا مجھے یاد ہے لیکن میں←  مزید پڑھیے

خود نوشت/احمد اقبال۔حصہ چہارم

حصہ چہارم نہ پھول تھے نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا 15 اگست سے قبل ہی نگاہوں میں اجنبیت آگئی تھی۔ زندگی امتحان لیتی ہے تو اخلاقی اورانسانی قدریں اور مذہبی رواداری ہمسائیگی←  مزید پڑھیے

نیا سفر ہے پرانے چراغ گُل کردو۔قسط 3

15 اگست سے قبل ہی نگاہوں میں اجنبیت آ گئی تھی ۔ زندگی امتحان لیتی ہے تو اخلاقی اورانسانی قدریں اور مذہبی رواداری ہمسائیگی اور شناسائی کےدعوے ۔۔یہ سہارے یہ سوت کے دھاگے ۔۔۔ ایک جھٹکے سے ٹوٹ جاتے ہیں(جانثار←  مزید پڑھیے

خود نوشت،میں کون ہوں اے ہم نفسو،باب دوئم

خود نوشت” میں کون ہوں اے ہم نفسو۔۔۔”کا دوسرا باب پدرم سلطان بود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدخان خالص یوسف زی پٹھان تھے جو افغانستان سے آئے تھے اوربستی انہی کے نام پر محمد پور ہوئی ،ان کی تعمیر کردہ سرمی پتھروں کی←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو/سرگزشت

جناب”احمد اقبال” صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،مکالمہ آج سے ان کی زیرِ طبع سرگزشت کی ہفتہ وار اشاعت کا سلسلہ شروع کر رہا ہے۔قارئین کی دلچسپی کے لیئے احمد اقبا ل صاحب کا مختصر تعارف پیش←  مزید پڑھیے