اداس لمحوں کی داستانیں ۔اسماء مغل

اداسی کی کیا تعریف ہو سکتی ہے؟

فیض نے تو اسےچند لائنوں میں یوں بیان کیا ہے۔۔

نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام

کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے

امید یار     ،  نظر کا مزاج      ،درد کا رنگ

تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے!

جبکہ مستنصر حسین تارڑ  کا خیال ہے “اداسی اور مایوسی کو اپنے بدن کے اندر تحلیل نہ ہونے دیں ورنہ یہ آپ کو چاٹ کھائے گی”۔

میں نے جب جب اداسی محسوس کی،دل کی رگوں کو نیلا ہوتے دیکھا،شام  کے گلابی سائے کو کاسنی ہوتے دیکھا،اور یہی کاسنی رنگ عشقِ پیچاں کی مانند روح سے لپٹ کررہ گیا۔اداسی دکھی کردینے والی کیفیت کا نام ہے شاید۔۔آپ کبھی اداسی اور دکھ کی مکمل تعریف نہیں کر پائیں  گے۔شاید اسی لیے یہ جس پر طاری ہوتی  ہے اسے بھی ادھورا کرجاتی  ہے۔قطرہ قطرہ بہتا دکھ اداسی کی نہ ختم ہونے والی کیفیت سے روشناس کراتا ہے۔

مجھے یہ تو یا د نہیں کہ پہلا دکھ کون سا تھا۔۔کہ عورت ذات کو دکھی ہونے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔چھاجوں برستا دکھ ایسا آلاؤ بھڑکاتا ہے جس میں یادیں آتشدان کی نذر ہوتی ہیں اور بھیگے لمحے زندہ ہو کر سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔۔لیکن میرا دکھ یہ صبح ہے۔۔جس میں سورج تو طلوع ہوتا ہے مگر تمھارا چہرہ نہیں ۔۔۔

یہ شام ہے جب کونجیں واپسی کی راہ لیتی ہیں ‘پر دید کی پیاسی آنکھیں دور دور تک تمھارا کوئی نام و نشان  نہیں پاتیں ۔۔

دکھ تو یہ بھی ہے کہ لوگ وصل کا رونا روتے ہیں،لیکن یہاں تو ہجر بھی ادھورا رہ گیا۔آدھی رات  جب تہجد کے وقت مانگی دعائیں بھی شرفِ قبولیت پانے میں ناکام ٹھہرتی ہیں ۔

تمھیں معلوم ہے یہ اداسی ہے کیا؟

تم!!تمھارا نہ ہونا۔۔اور بعض اوقات ہونابھی!

زندگی بیک وقت دکھ اور سکھ کا عجیب و غریب امتزاج رکھتی ہے۔انسانی دل پر ہزار ہا کیفیتیں اثر انداز ہوتی ہیں ۔۔۔لیکن اداسی  جو دیر پا ہوتی ہے۔ہر جذبے اور احساس سے طویل تر ہوتی ہے،بے قرار رکھتی ہے،تمھاری دوری اداس  کرتی ہے۔۔پھر یہ احساس کہ تم صرف مجھے ہی میسر نہیں باقی تو بہت سے ہیں جو تمھارے قرب کی خوشبو سے مالا مال  ہیں۔تب غم کی ایک تیز  لہر اداسی دوچند کر جاتی  ہے۔کھڑکی سے آنے والے ہواکے ٹھنڈے جھونکوں میں نمی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔کوئل کی کوک میں حزن کی آمیزش اور شدت سے  محسوس ہونے لگتی ہے۔اعصاب پر تھکاوٹ طاری ہوجاتی ہے۔۔۔ خواہشوں کی سرحد پر خواب بے چین ہوکر کروٹیں بدلتے ہیں۔۔۔ لیکن تم بے خبر !!

پت جھڑ  کی  اس اوائل رُت میں تمھاری یاد کے سبزہ مائل اور کچھ پیلاہٹ آمیز پتے جن پر تلخیوں  کی دراڑیں ابھری ہیں ،میری سوچ کے عمر رسیدہ  درختوں سے ٹؤٹ ٹوٹ کر راستوں کا رزق بن رہے ہیں ۔

رات کی رانی نے کتنے گِلے کیے،

کچھ خبر ہے؟

بیسیوں سندیسے جلد باز ہوا کے آنچل سے باندھے

تم تک کوئی پیغام نہ پہنچا

دئیے کی جلی ہوئی بتّی بچا ہوا تیل بھی پی گئی

مگر انتظار کی لوء ویسے ہی روشن ہے۔۔۔

تم نے کبھی ساحل پر بنتے قدموں کے نشانو ں پر غور کیا ہے؟مختلف سمت میں بھی اٹھیں تب بھی ایک جیسے ہی لگتے ہیں ۔ان کی گہرائی بھی ایک سی ہی معلوم ہوتی ہے۔۔

سنو!تم میرا ساحل ہو!اور میں ننگے پاؤں ،دیر سے چل رہی ہوں ۔میری  پیاس اور تھکن انہی نقشِ پا کے ذریعے  چاہتی ہوں کہ تم میں سرائیت کرجائیں ۔۔تمھیں احساس ہو کہ یہ تھکن جسم کی نہیں ،روح کی ہے۔۔لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ  ساحلوں پر گھنے چھاؤں والے درخت  نہیں اُگتے،ننگے پاؤں چلتے دھوپ ہی مقدر ہے۔اور رستے میں ٹنڈ منڈ درختوں پر دعاؤں کے ثمر نہیں ،بلکہ ببول کے پھول ہیں۔۔جنہیں چھونے کی خواہش میں انگلیاں فگار ہوجاتی ہیں۔

تم ایسے ہمسفر ہو جس کے ساتھ منزل پر پہنچنے کا خواب آنکھوں میں صرف کرچیاں بھرتا ہے۔۔

کاش!تمھیں معلوم ہوتا کہ ہر بار پلٹ کر دیکھنے والا پتھر نہیں ہوتا،بلکہ بعض اوقات کسی کی ایک نظرسے  دوسرے کے پتھر وجود میں زندگی کی رمق جاگ اٹھتی ہے۔

سنو۔۔۔!میں تمھاری اُسی ایک نظر کی منتظر ہوں!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *