چندرا ۔شہزاد حنیف سجاول/افسانہ

دادا جی کے کمرے کی پچھلی دیوار میں جو کھڑکی ہے اس  سے باہر دیکھیں تو دور دور تک کھیتوں کی ہریالی نظر آتی ہے ساتھ والے جھنڈ کے درخت اپنے سر جوڑے آپس میں سرگوشیاں کرتے رہتےہیں اور ان کے نیچے بچھِی زمین اب اس کھڑکی سے نظر نہیں آتی۔ اور وہیں ان کے درمیان وہ پرانا اور پر اسرار کنواں بسرام کرتا ہے جس میں کود کر چندرا نے موت کے شکنجے سے اپنی زندگی چھین لی تھی۔ اسی کے ساتھ ایک متروک شدہ راستہ پڑا سوتا ہے ،  جو اب بے حد غصیلہ ہو چکا ہے اور کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتا۔کہتے ہیں کوئی راز ہے اس کے سینے جس کے افشا ہونے سے ڈرتا ہے اور بیریوں کے جھنڈ میں چھپا رہتا ہے۔ کتنے سال بیت چلے ہیں کسی نے اس کا چہرہ تک نہِں دیکھا۔ شام کے سائے جب گہرے ہو جاتے ہیں اور مغرب کے افق پر لالی سی پھیل جاتی ہے ایسے میں کھڑکی اگر کھلی ہو اور کوئی صحن میں بیٹھ کر دیکھے تو یوں لگتا  ہے جیسے کسی نے گہرے نارنجی رنگ کا بڑا سا چوکور ٹکڑا دیوار پہ ٹانگ دیا ہے۔

جب سے چندرا کے بارے میں سنا تھا  میرے اندر ایک اداسی سی بیٹھ گئی تھی۔ ایک عجیب و غریب اور بے نام سی کیفیت سے دوچار تھا۔ دن کے اکثر اوقات میں بے مصرف کمرے میں لیٹ کر گزارتے اور چھت کی کڑیوں میں چندرا کی زندگی کی کڑیاں ڈھونڈنے کی بے  سود کوشش کرتا رہتا تھا۔ فکر کا نکتہ آغاز کوئی ہو محور ہمیشہ چندرا ہی ہوتی تھی۔ لالا نصیر سے شنیدہ کہانی نے میرے اندر کئی سوال کھڑے کر دیے تھے اور ان سوالات کے جوابات صرف دادا کے پاس تھے لیکن ان سے پوچھنے کا یارا مجھ میں نہیں تھا گو وہ بے  حد شفیق محبت کرنے والے تھے لیکن اس طرح کے سوالات دادا سے پوچھنے کی روایت ابھی ہمارے ہاں  پروان نہیں چڑھی  تھی اور میں کمرے میں لیٹا سوچا کرتا کاش زندگی بھی اس چھت کے شہتیر کی مانند سیدھی ہوتی تو کیسی سکھ بھری ہوتی۔

ایک دن میں لالا نصیر سے ملنے گیا وہ اپنی مخصوص چارپائی پر  لیٹےہوئے تھے۔ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔قریب کے کھیت میں ٹریکٹر ہل چلا رہا تھا۔ گاؤں بھرکے بچے وہاں اس چاہ میں جمع تھے کہ ٹریکٹر ڈرائیور نے کسی ایک کو سہاگے کے اوپر بیٹھنے کا کہنا تھا اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ قرعہ فال اسی کے نام نکلے۔ لیکن اس نے کسی کو نہ بٹھایا کیونکہ کل ایک بچہ گر کر زخمی ہوگیا تھا۔ اور اس کے والدین نے ریاض ڈرائیور کو خوب آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ میرے اور لالا نصیر کے کہنے پربھی اس نے کسی کو نہ بٹھایا تھا۔ بچوں نے اس کی اِس حرکت  پر بہت شور مچایا لیکن ریاض نے کسی کی ماننی تھی نہ مانی۔ میں کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا لیکن پھر خالی ہاتھ واپس آگیا کیونکہ لالا نصیر کی یاداشت اب ایک ایسے چراغ کی مانند ہو چکی تھی جس کا تیل ختم ہونے پر آیا ہو اور وہ پھڑپھڑانے لگتا ہو، کبھی تو سب کے چہرے بھی دکھنے لگتے ہیں اور کبھی اپنے ہی باپ دادے کا نام تک یاد نہیں پڑتا۔

کھیت میں بہت سے پرندے اتر آئے ہیں جو کچھ دانہ دنکا  چُگ رہے ہیں یہ ان کا نصیب ہے یا کسی کی بد نصیبی معلوم نہیں لیکن سکول کے پاس سے گزرتے ہوئے میں یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں دادا سے چندرا کے بارے میں پوچھ کر رہوں گا۔
بیس سال پہلے دیہاتوں میں رات بہت جلدی آ جاتی تھی عشاء کی نماز کے بعد کسی کے گھر سے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ جانوروں کی گردنوں میں بندھی گھنٹیوں کی آوازیں آتی تھیں یا دور کھیتوں میں گیدڑ روتے تھے، دادا ان کی چیخ  و پکار کو رونا ہی کہا کرتے تھے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا تھا جب رات کا سناٹا بھی بول پڑتا تھا۔ ایسے کسی وقت میں جب میں نے محسوس کیا دادا جاگ رہے ہیں تو میں نے ان سے پوچھا۔ دادا اس دن آپ کو کیسے پتہ چل گیا تھا کہ کتے کیوں بھونک رہے ہیں؟۔ اس موسم میں مونگ پھلی کی فصل پک چکی ہوتی ہے اور سئور اسے اجاڑنے آجاتے ہیں ایسے میں کتے ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور انھیں دور گاؤں سے باہر نکالتے ہیں ،یہ کام برسوں سے ایسے ہی ہوتا آ رہا ہے اور شاید ایسے ہی ہوتا رہے گا۔ ایک گہرا سناٹا کمرے میں آجاتا ہے۔

دادا۔۔۔ میں پکار کر اندازہ لگانا چاہتا ہوں کہ دادا بیدار ہیں یا سو گئے۔ ہونہہ۔۔ کیا بات ہے آج نیند نہیں آرہی تمھیں۔ ویسے تو لیٹتے ہی خراٹے بھرنے لگتے ہو۔ دادا جاگ رہے تھے جاگ بھی رہے تھے اور ہشیار باش بھی تھے۔ دادا ایک بات پوچھوں آپ ناراض تونہیں ہوں گے۔ کچھ دیر خاموشی۔۔ نہیں ۔۔ کیا بات پوچھو گے؟
دادا چندرا کون تھی۔۔۔ میرے منہ سے جیسے یکدم یہ سوال نکل گیا ہو جس پر میری کوئی گرفت نہ تھی۔ کمرے میں ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔ بہت دیر تک میں اپنے بستر میں دبکا رہا پھر میں نے آہستہ سے سر اٹھا کر دادا کی چارپائی کی طرف دیکھا جہاں کسی حرکت کے کوئی آثار نہیں تھے ،دروازے کی درزوں سے اندر آتی روشنی میں  اتنی سکت نہ تھی کہ کمرے میں موجود اشیا کے خال و خد اجاگر کرسکیں۔ مجھے اپنی بے وقوفی پر غصہ آنے لگا تھا۔ جوں جوں اس سناٹے کا دورانیہ بڑھ رہا تھا میرے لیے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا، میں نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کھول دی۔ دادا جیسے چونک سے گئے ہوں۔

ہلکی روشنی کے ساتھ ایک خوشگوار ٹھنڈک کا جھونکا بھی کمرے  میں آگیا اوراس  کے ساتھ موتیے کی خوشبو۔۔۔ تم کچھ پوچھ رہے تھے ۔ دادا کو جیسے میرے سوال کا یقین نہیں تھا۔ دادا چندرا کون تھی؟ دادا نے ایک لمبا سانس لیا۔ اور کھڑکی کی طرف کروٹ لے کر باہر آسمان میں نظریں گاڑھ دیں۔ کچھ دیر  بنا پلکیں جھپکائے آسمان کو دیکھتے رہے۔ پھر بولے پچھلے ساٹھ سالوں سے میں ہر روز یہ سوال خود سے کرتاہوں کہ چندرا کون تھی۔۔۔ لیکن ابھی تک مجھے اس کا کوئی جواب نہیں مل سکا۔ ایک خواب ہے ۔ ایک پرچھائی سی ہے۔ چندرا اسوج کی رات کی چاندنی کی طرح ٹھنڈی، نرم اور خواب آگیں یاد ہے۔ رات کی رانی کی خوشبو کی طرح مدہوش کر دینے والا احساس ہے ۔جس کا کوئی نام نہیں۔ ایسا ہی احساس جو کسی دن آپ کو بے وجہ خوش کر دیتا ہے اور کسی دن مایوس۔

دادا بول رہے تھے اور میں مبہوت انھیں سن رہا تھا۔

دادا بہت کم آمیز اور کم گو انسان تھے۔ بسیار گوئی انھیں نہیں آتی تھی اسی لیے میں حیران تھا کہ یہ دادا ہی بول رہے ہیں یا ان کے وجود میں کوئی اور روح داخل ہو گئی تھی۔
چندرا کا دادا جب قتل ہو گیا تو اس کی بیوہ اور اس کے سسرال والوں میں ٹھن گئی۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ کرپال سنگھ اور سمپورن سنگھ کرپال بڑا تھا اور سمپورن چھوٹا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ کرپال ددھیال کے پاس رہے گا اور سمپورن ماں کے پاس لیکن کرپال کو ماں سے میل ملاقات پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ سو چندرا کی دادی یہاں آگئی اپنے میکے۔ یہاں پلیگ کی بیماری نے ان  کا سارا خاندان ہی چٹ کرلیا۔ صرف نندا، چندرا کی دادی اس کی ماں اور سمپورن ہی بچے۔ نندا کے سسرالیوں نے بہت کہا کہ واپس چلو لیکن وہ نہ مانی ۔اسے اپنے سسرالیوں سے شدید نفرت تھی، کہتی تھی کہ اگر غیرت مند ہوں تو میرے خاوند کا بدلہ لیں۔ نہ انہوں نے بدلہ لیا نہ نندا نے اپنا فیصلہ بدلا۔

یہاں مسجد کے  پیچھے ہمارے دادا فیض علی کا گھر تھا۔  اس  خاندان  کو   لگتا تھا بھوک مار دے گی۔ دادا فیض علی نے انھیں اپنے گھر ٹھہرا دیا ان کا مکان ایک سکھ سردار کو بیچ کر پونجی نندا کے ہاتھ تھما دی۔ اور کہا رہنے کو ہمارا گھر ہے جب تک جی میں آئے رہو اس روپے سے اپنا اور اپنے بچے کی پرورش کا کوئی سامان کر لو۔ نندا نے کچھ مال مویشی خریدے اور بٹائی پر کچھ زمین لےلی۔ نندا کو دادا کی اس بھلائی کا بہت پاس تھا اور سمپورن کو بھی۔ جس کی وجہ سے انھیں ہمارے خاندان کے ساتھ بہت الفت تھی۔

سمپورن جوان ہو کر ضلع کچہری میں ملازم ہوگیا۔ شادی ہو گئی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک چندرا وتی کور اور دوسری سمرن وتی کور۔ چندرا اور میں ایک جماعت میں پڑھتے تھے۔ ہم دونوں ہم سن تھے۔ وہ بہت ہوشیار اور لائق لڑکی تھی سب سے اچھا سبق اسے آتا تھا۔ سکول میں بھی اور مسجد میں بھی۔ مولوی نور عالم جو میرے نانا تھے ہمیشہ اس کی بہت تعریف کرتے تھے کہ غیر مذہب ہو کر وہ اس قدر محبت سےقرآن شریف سیکھتی ہے اور ہم مسلمان ہوکر بھی اتنی توجہ نہیں دیتے۔ بہت ہی جلدی وہ فارسی بھی سیکھ گئی۔ وہ دن کا زیادہ وقت ہمارے گھر گزارتی تھی۔ بے جی کے ساتھ اسے بے حد محبت تھی۔ گھر کے سب کاموں میں مگن رہتی۔ سب اسے بہت پیار کرتے تھے اور پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ وہ ہمارے گھر کا فرد نہیں ہے۔ عید شب رات پر تمام گھر والوں کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی کپڑے آتے تھے۔

اس دوران اسے مجھ سے محبت ہو گئی۔ بے جی بتاتی ہیں کہ نانا نور عالم جب اسے دیکھتے تو کہتے اگر یہ سکھڑی نہ ہوتی میں اس کی شادی سجاول کےساتھ کرا دیتا۔ یہ بات شاید چندرا کے ذہن میں بیٹھ گئی تھی۔ اور وہ ہمارے مذہبی کاموں میں خوب دلچسپی لینے لگی تھی۔ میرے ساتھ محبت کبھی اس کے چہرے پر نظر آئی تھی نہ اس کی آنکھوں میں۔ کسی کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ پھر تقسیم کا ہنگامہ شروع ہو گیا۔ روز بروز حالات خراب ہو تے گئے۔ طرح طرح کی خبریں آنے لگی تھیں۔ دونوں طرف حالات بہت خراب تھے۔ سکھ برادری یہاں سے کوچ کرتی جارہی تھی۔ چندرا کا تایا کرپال اپنے بھائی پر بہت زور دے رہا تھا کہ وہ بھی اس کےساتھ ہندوستان چلے لیکن اس کی بیوی اور بیٹیاں راضی نہ تھیں۔ کئی دن گزر گئے۔کرپال روز آتا اور انھیں ساتھ چلنے کا کہتا لیکن وہ مان کر نہ دے رہی تھیں حتیٰ کہ پورے گاؤں میں صرف ایک ان کا گھرانہ رہ گیا۔

بالآخر وہ بھی راضی ہو گئے جانے پر۔ جس روز انہوں نے جانا تھا پورا گاؤں اداس تھا سب کو  ان کےساتھ بے حد لگاؤ تھا۔ رات کو سب یہاں ہماری حویلی کے صحن میں انھیں الوداع کہنے  جمع تھے۔ میں اور کچھ اور لڑکے باہر ستھ پر بیٹھے۔ جہاں سب صلاح کر رہے تھے کہ انھیں کون سے راستے سے لے کرجاناہے۔ میں جب حویلی آیا تو پورا صحن بھرا پڑا تھا۔ میں بے جی کے پاس کچھ پوچھنے آیا تو میری نظر چندرا پر پڑی جو ان کے ساتھ لگ کے کھڑی تھی۔ مجھے دیکھ کر جیسے اس کی آنکھوں سے مینہ برسنا شروع ہو گیا وہ کچھ   نہ کہہ کر بھی سب کہہ رہی تھی،   یہ صورتحال نہ صرف میرے لیے بلکہ ہمارے قریب سب لوگوں کے لیے حیرت انگیز تھی۔ چندرا نے اپنے ہاتھ میں کوئی چیز جیسے دبا رکھی تھی۔ جسے وہ بہت شدت سے دبا رہی تھی۔ پھر اچانک وہ بھاگی۔ حویلی کے صحن سے گزر کر یہاں یہ باہر والی سیڑھیاں اتر کر  نیچے کنوے میں چھلانگ لگا دی۔ پورے مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی ایسی کوئی بات نہ تھی۔ رات کا وقت تھا۔ کنواں بہت گہرا تھا۔ رات کو ہم نے کوشش کی لیکن بےسود۔ وہ رات جیسے تھم سی گئی تھی۔ کاٹے نہیں کٹ رہی تھی۔

اگلی صبح چندرا کو نکالا گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک سرمے  دانی تھی ،چندرانے اپنے دائیں ہاتھ کی درمیان والی دو انگلیوں میں دھاگہ باندھ رکھا تھا جو وہ پنجہ صاحب سے باندھ کر آئی تھی یہ سرمے  دانی اس دھاگے سے الجھ کے رہ گئی تھی۔ چندرا کی بہن سمرن نے سرمہ دانی کھولی تو اس میں ایک چٹھی تھی جو اس نے پاس کھڑے مولوی نور عالم کو دے دی۔ چٹھی میں چندرا نے لکھا تھا۔ کہ

” آداب مولوی صاحب۔ میں ہندوستان نہیں جانا چاہتی لیکن میرے باپو اور میری ماں نہیں چاہتے کہ میں یہاں رہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے یہاں سکھ ہندو کوئی نہیں رہ سکتا صرف مسلمان رہ سکتے ہیں۔تو میں  نے ان سے کہہ دیا کہ میں کلمہ پڑھ لوں گی لیکن یہ نہیں مانتے۔ انھیں میری سجاول سے محبت پر اعتراض ہے۔ اور کہتے ہیں کہ میرا اس کے ساتھ بیاہ نہیں ہو سکتا کیونکہ   میرا اور اس کا دھرم الگ الگ ہے۔ ہماری ذات برادری علیحدہ ہے، بتائیں مولوی صاحب۔ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو کیا پھر بھی آپ میرا لگن سجاول کے ساتھ نہ کریں گے۔ مولوی صاحب میں آپ کو گواہ بنا کر کلمے کی شہادت دیتی ہوں اور اپنی مسلمانی کا یقین دیتی ہوں۔ میں نے اگر اس گاؤں سے باہر قدم بھی رکھا تو مر جاؤں گی” اس کے آگے تحریر نا مکمل تھی شاید وہ لکھتے لکھتے رک گئی تھی۔ مولوی صاحب نے خط پڑھ کر میرے ہاتھ میں دے دیا۔ اور اعلان کر دیا کہ چندرا مسلمان مری ہے لہذا اس کی  تدفین کی جائےگی۔

میں خط پڑھ کر لرز سا گیا۔ میرے کان بجنے لگے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ کچھ لے دے کے بعد چندرا کی تدفین ہو گئی۔ سمرن نے جاتے ہوئے وہ سرمہ دانی جو تو روز مانگتا ہے مجھے دے گئی۔ میں روز اس میں سے سلائی بھر آنسو اپنی آنکھوں میں ڈال لیتا ہوں جو دن بھر میری آنکھوں میں چندرا کی یاد بن کر رہتے اور رات کو بہہ جاتے ہیں۔ میں خود سے روز پوچھتا ہوں کہ “چندرا کون تھی”؟ لیکن کوئی جواب نہیں ملتا۔

چاند بھی دادا کی باتیں سننے کھڑکی میں آگیا تھا کیونکہ آج تک اس نے بھی ان آنکھوں کو روتے دیکھا تھا ان لبوں پہ کبھی چندرا  کا تذکرہ نہ سنا تھا۔ دادا سر بہ زانو تھے ان کی آنکھ سے بہتا ہر آنسو مجھے اپنے گالوں پہ گرتا محسوس ہو رہا تھا۔ صبح چائے پیتے میں نے دیکھا تو دادا کے چہرے کی جھریوں میں اضافہ ہو گیا تھا اور ان میں ایک گیلاہٹ سی رچی ہوئی تھی۔ دادا کی سرمہ دانی اب میرے پاس ہے لیکن وہ کمرہ اب خاموش رہتا ہے بات نہیں کرتا۔ میں اب بھی گاؤں جا تا ہوں تو کچھ وقت اس کمرے میں گزارتا ہوں۔

 

شہزاد حنیف سجاول
شہزاد حنیف سجاول
افسانہ نگار۔ ڈرامہ نویس۔ فلسفہ و الہیات کا طالب علم۔ کلر سیّداں ضلع راولپنڈی سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *