جناح، دینا واڈیا، اور شیکسپیئر۔۔۔ کاشف محمود

پہلا منظر: وہ محل میں ہی پلا بڑھا۔ سدھارتھ نے کبھی کوئی انسان تکلیف میں نہ دیکھا تھا۔ لیکن آج کپل وستو کی گلیوں میں اس نے عجب منظر دیکھے۔ بڑھاپا، بیماری، موت، اوران سب کے بیچ ایک سادھو کا اطمینان۔ کیا دنیا میں یہ سب بھی ہوتا ہے؟ ان تکالیف کا حل کیا ہے؟ دل میں لگی گرہ کھولنے سدھارتھ ایک جنگل کی تنہائی میں جا بیٹھا اور بدھ کا ظہور ہوا۔

دوسرا منظر: ڈنمارک کا شہزادہ شدید ذہنی اذیّت میں مبتلا تھا۔ اس کے مقتول باپ کی روح نے جو راز کھولے، وہ اس کی برداشت سے باہر تھے۔ اس ذلت اور بدبختی کی نسبت خودکشی ایک بہتر حل نظر آتا تھا۔ اس جنونی تنہائی میں Hamlet اپنے آپ سے سوال کرتا ہے،
to be or not to be ؟
اور اس بات کا جواب ہیملٹ کو ایک بہتر انسان بنا دیتا ہے۔

تیسرا منظر: قیدی نمبر46664 کے سامنے ایک لمبی سزا تھی۔ جزیرے پہ بنی اس جیل میں اسے وارڈن نے آتے ہی بتایا دیا کہ تمہاری موت یہیں ہوگی۔ کبھی کبھی اسے قیدِتنہائی کی سزا بھی دی جاتی۔ لیکن یہ تنہائی اسے ایک عظیم تر جذبہ عطا کرتی۔27 سال کی جدوجہد نے منڈیلا کو مدیبا بنا دیا۔ لیڈر بنا دیا۔

اپنی لسانی کم مائیگی پر کبھی کوئی شبہ نہ تھا۔ لیکن یہ کچھ باتیں لکھنے بیٹھا تو باقاعدہ زچ ہو گیا۔ Seclusion کو اردو میں کیا کہوں؟ اکیلاپن؟ خلوت نشینی؟ تنہائی؟ شاید یہ معنی درست ہیں۔ لیکن یہ محض اکیلا بیٹھنے کا نام نہیں۔ اس خلوت نشینی میں کی گئی خود کلامی ذات کی پرتیں کھولتی ہے۔ یہاں ایک آنچ کی کسر سے سونے اور تانبے کا فرق سامنے آتا ہے۔ تبدیلی بہرحال آتی ہے۔ وہ بہتری ہے یا تنزلی، یہی کمال ہے۔ چلہ، مراقبہ، اعتکاف۔۔ یہ سب مجاہدے تنہائی میں غوروفکر کا موقع مہیا کرتے ہیں۔ ہیرو اس بھٹی سے کامران نکلتے ہیں۔

Professor Harold Bloom قریب تین دہائیوں سے Yale University میں عمرانیات پڑھاتے ہیں۔ پروفیسر کہتے ہیں کہ شیکسپیئر کے کردار بھی کہانی کے دوران تبدیل ہوتے ہیں، بہتر یا بدتر بنتے ہیں۔ عنصر کی یہ تبدیلی شیکسپیئر سے پہلے کہانیوں کے کردار میں نظرنہیں آتی تھی۔ قاری محض بُوجھ نہیں سکتا کہ کردار کس رستے کا انتخاب کرے گا۔ بروٹس کی خود کلامی میں ایک کشمکش دکھاتی ہے اور بروٹس دو رستوں میں سے ایک کا انتخاب کرتا ہے۔ پرنس ہال، فاتح بادشاہ بننے سے پہلے ایک لاابالی جوان تھا۔ ہیملٹ کواس کے ذاتی بحران نے ایک ہیرو میں بدل دیا۔ راہی گواہ ہیں کہ جنگل سے دو رستے مسلسل نکلتے ہیں۔

ایسی ہی ایک گواہی ڈرائیور محمد آزاد کی ہے۔ وہ سعادت حسن منٹو کو بتاتا ہے کہ قائداعظم نے اپنی بیٹی دینا کی جدائی کا بہت صدمہ لیا ۔ انھوں نے قریب پندرہ روز کے لیے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا۔ مرمر کے فرش پر ان کے چلنے کی گونج سنائی دیتی رہتی۔ آزاد کہتا ہے کہ آپ ان دو ہفتوں میں کئی میل چلے ہوں گے۔ کبھی چلنے کی آواز رک جاتی۔کبھی ایک خودکلامی کی سرگوشی سنائی دیتی،
!it  is  ok!! it  is  ok

آخر کار قائد اعظم اس کمرے اور صدمے سے باہرنکل آئے۔ آپ کے پُرعزم چہرے پر کسی تکلیف یا مایوسی کا شائبہ نہ تھا۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھار دینا جناح کا کمرہ کھلواتے اور ان کے پرانے ملبوس نکلوا کر دیکھتے۔ اداسی چہرے سے نمایاں ہوجاتی۔ پھرعزم کا خورشید چمکتا۔ جی ہلکا کر کے اپنے آپ کو سنبھالتی آواز سنائی دیتی،

it is ok!

دینا واڈیا اس دنیا میں نہیں رہیں۔ بے شک، وہ برگد کے نیچے اگی گھاس نہیں، ایک فرد تھیں۔ ہر فرد اپنے فیصلوں میں آزاد ہے اور یہ بات بیرسٹر جناح سے زیادہ بہتر کون جانے گا؟ لیکن ہمارے لیے مس واڈیا کے ایک تبرک، یا عقیدت کا استعارہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے قائد کو ان سے پیار تھا، اورہمارے بابا کی عالی ہمتی کی ایک وجہ شاید وہ بھی رہی ہوں۔مولانا روم نے فرمایا تھا کہ زخم ایک کھڑکی ہے، جہاں سے دانش اور عزم کی روشنی آپ کے وجود میں داخل ہوتی ہے۔ شاید دینا واڈیا کی یاد قائداعظم کو وہ seclusion مہیا کرتی تھی، جس میں ہمارے بابا اپنی ہمت بڑھاتے تھے۔

کاشف محمود
کاشف محمود
طالب علم ہونا باعث افتخار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *