• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خواتین کو مرد بننے کے لیے مردانہ حوصلہ بھی چاہیے۔۔۔شاہد یوسف خان

خواتین کو مرد بننے کے لیے مردانہ حوصلہ بھی چاہیے۔۔۔شاہد یوسف خان

ابن انشاء صاحب کا ایک مضمون یاد آرہا ہے جو  سینما کے ابتدائی  دنوں میں لکھا تھا۔ لکھتے ہیں “ایک مرتبہ لاہور کے افسران کو شکایت ہوئی کہ سینما والے لاہور میں عریانی پھیلا رہے ہیں۔افسران سیخ پا۔توبہ توبہ اس اسلامی مملکت میں ایسا کام ؟ ایسا ایتا چار؟ فوراً پیادے دوڑائے گئے، منادی کرا دی گئی۔کہ اب تک جو ہوا سو ہوا۔ آئندہ کیلئے بے حیائی بند ہونی چاہئے، ورنہ ہم سے برا کوئی نہ ہوگا۔پولیس والوں کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ جہاں کوئی عریاں، خلاف تہذیب یا منافی اخلاق بورڈ سڑک پر نظر آئے اسے اتار کر پھینک دو۔

باقی کارروائی اس کے بعدکی جائے گی۔ پولیس والوں نے چور وں کو پکڑنا شروع کیا جو خلاف شرع بورڈ لگاتے تھے ۔ان کو ایسا کام خدا دے۔ دیکھتے دیکھتے خلاف شرع بورڈوں کا ڈھیر لگ گیا-لاہور کے چند روڈ اس آلودگی سے پاک کردیے گئے اب معاشرہ آلودگیوں سے پاک ہو گیا۔ ہر طرف تہذیب و اخلاق کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔معاملہ عدالت میں پہنچا اب ان بورڈوں کا جائزہ شروع ہوا۔گناہگار یعنی فلمی حضرات بھی موجود تھے مالکان اور شائقین دونوں۔

جج نے انصاف کی کرسی سنبھالتے ہی پوچھا۔
“تھانیدار جی۔ یہ بورڈ آپ نے کیوں اتارا۔ وجہ بیان کیجئے”
“حضور اس میں عورت کی ٹانگیں ننگی دکھائی گئی ہیں۔”
جج:“چھی چھی چھی۔ بری بات- ہاں میاں فلم دین، تم نے ایسا مخرب اخلاق بورڈ کیوں لگایا؟”
فلم دین:“حضور ، عالی جاہ۔ یہ انگریزی فلم ہے۔ اس میں جیسی ٹانگیں ہوتی ہیں ، ویسی ہم نے بورڈ پر بنا دیں۔”
جج:“ہاں بات تو آپکی ٹھیک ہے ۔ تھانیدار جی یہ تو انگریزی فلم ہے۔ اس میں ٹانگیں کیسے بدلی جا سکتی ہیں؟”
تھانیدار:“عالی جاہ، جب یہ لوگ انگریزی فلم کا نام بدل لیتے ہیں Forever Remember کو “منڈیا سیالکوٹیا” کا نام دے کر دکھاتے ہیں، تو ٹانگیں کیوں نہیں بدل سکتے۔

جج:خیر ٹانگیں بدلنے کی ضرورت نہیں۔ پاجامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ شلوار پہنائی جا سکتی ہے۔

تھانیدار:ننگی ٹانگوں سے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں۔”
جج:“آپکے جذبات مشتعل ہوئے۔”
تھانیدار:“جی میرے جذبات؟ میرے؟ حضور میں عوام کے جذبات کی بات کر رہا ہوں”
“میاں فلم دین، تھانیدار صاحب ٹھیک کہتے ہیں۔ ان ٹانگوں پر شلوار ہونی چاہئے۔ انگریزی غیر انگریزی کی بحث میں ہم نہیں پڑتے”
فلم دین:“حضور تھانیدار صاحب ٹھیک کہتے ہیں اور آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں۔ بورڈ پر تو میں شلوار پہنا دوں گا، لیکن صوفیہ لورین کو کیسے پہنا دوں، اس نے نہ پہنی تو؟”

اب تھانیداران فیس بکوں سے گزارش ہے جناب ایسی خواتین کی ٹانگیں یا زبان آپ ڈھانپیں تو دوسروں کے ایمان میں بھی خلل نہیں آ ئے گا ۔ ایسا تو ممکن نہیں ہے کہ ان کی ٹانگیں یا زبانیں ننگی ہوں تو فلم بین بھی ان ٹانگوں کو ننگا کہیں گے پھر ان انجیلینا جولیز کو کپڑا تو نہیں پہنا سکتے۔

عورت کا احترام ہمارا معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی فرض ہے لیکن جو عورت اسلامسٹ مفکر بھی کہلواتی ہو جب اسے جسم پر بھی پردے کاحکم ہے تو زبان پر بھی تھوڑا بہت پردہ کروائیں۔ دینداری کی آڑ میں ایسی اوریانیت یا عریانیت کوئی قبول نہیں کرتا۔ عورت بن کر رہیں جب بننا بھی مرد ہو مقابلہ بھی مردوں کا کرنا ہے تو پھر عورت ،عورت کی تہذیب کا رونا دھونا اور بلیک میلنگ کیسی۔

مذکورہ ابن انشاء کے مضمون کا نام کسی کو اگر یاد ہو تو ضرور عنایت کیجیے گا۔۔۔۔۔۔

شاہد یوسف خان
شاہد یوسف خان
علم کی تلاش میں سرگرداں شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت مکمل کر چُکے ہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *