عشق مصطفیٰﷺٗ قولی یا عملی؟۔۔۔ مرزا مدثر نواز

مجنوں لیلیٰ کے عشق میں بے چین تھا۔ یہ بے چینی بڑھی تو اس نے اونٹنی پر سوار ہو کر اسے لیلیٰ کی بستی کی طرف ہانکنا شروع کر دیا۔ وہ لیلیٰ کے تصور میں غرق تھا۔ اونٹنی کی مہار پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑی تو اونٹنی نے بجائے لیلیٰ کی بستی کی طرف جانے کے واپس مجنوں کے گھر کا رخ کر لیا تھا جہاں اس اونٹنی کا بچہ تھاٗ اسے اپنے بچے کی محبت اس طرف کھینچ لائی تھی ۔ مجنوں ذرا سا سنبھلا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ تو واپس اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔ اس نے دوبارہ اونٹنی کو لیلیٰ کے گھر کی طرف دوڑایا مگر اس بار بھی جب وہ بے خودی میں تھا تو اونٹنی کی مہار اس کے ہاتھوں میں ڈھیلی پڑ گئی تھی اور وہ اس مرتبہ پھر لیلیٰ کے گھر نہیں بلکہ مجنوں کے گھر کے سامنے کھڑی تھی جس گھر کے اندر اس کا بچہ تھا۔ ایسا کئی بار ہوا تو مجنوں کو اس پر غصہ آگیاٗ اس نے اونٹنی سے مخاطب ہو کر کہا: ’’ کمبخت میری لیلیٰ تو آگے ہے اور تیری لیلیٰ تیرا بچہ یعنی تیری محبت پیچھے۔ یہ محبت مجھے بار بار پیچھے لوٹنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ میرا عشق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ میں تجھے لیلیٰ کے گھر تک لے جاؤں۔

مگر اس طرح تو لگتا ہے یہ عشق کا راستہ کبھی طے نہ ہو سکے گا۔‘‘ یہ کہہ کر مجنوں نے اونٹنی سے چھلانگ لگا دی تھی اور نیچے گرتے ہی اپنے آپ کو زخمی کر لیا تھا۔رومیؒ اس حکایت سے یہ درس دیتے ہیں کہ انسان محبوب حقیقی کے فراق میں بیقرار ہے۔ اس کی روح مالک حقیقی سے ملنے کی خواہش رکھتی ہے جبکہ اس کا جسم ، اس کا خاکی بدن عیش و نشاط کی تلاش میں مجنوں کی اس اونٹنی کی طرح ہے۔ جس طرح مجنوں ایک انسان ہے اور ایک دوسرے انسان (لیلیٰ) کے عشق میں تن من دھن کی بازی لگانے پر تیار رہتا ہے اسی طرح ہم جو اپنے آپ کو اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے عاشقوں میں شمار کرتے ہیں ہمیں بھی قول و فعل اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم سچے عاشق ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے ہمیں امتِ محمدیﷺ میں پیدا کیا جس کا حصہ بننے کے لیے جلیل القدر انبیاءؑ نے بھی دعائیں مانگیں ۔ اس امت کو رہبر وہ عطا کیا جو سید الرسل، ختم الرسل،سیدالبشر، فخر کائنات، ساقی کوثر اور فخر انسانیت ہیں۔ پہلے رسالت انبیاءؑ کے آگے آگے چلتی رہی لیکن جب باری میرے مرشدﷺ کی آئی تو رسالت بھی پیچھے رہ گئی ‘ آگے نہ نکل سکی اور یہ صدا گونجنے لگی‘ لا نبی بعدی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ چمن پیدا فرمایا، مخلوق کو طرح طرح کی نعمتیں دیں، راج دیئے، تاج دیئے، خزانے دیئے جن میں سے ننانوے فیصد آخرت کے لیے رکھے، سب کچھ دیتا رہاآج بھی دے رہا ہے اور قیامت تک بھی دیتا رہے گالیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ میں نے تم پر احسان کیا ۔

جب اپنے پیارے پیغمبرﷺ کو مومنوں کے حوالے کیا تو ایسے لگتا ہے کہ یہ فرمایا ہو گا کہ ایسی چیز کوئی کسی کو دیتا نہیں‘ یہ کوئی دینے والی شے نہیں تھی جو میں تمہیں دے رہا ہوں، لہٰذا آج میں تم پر احسان کر رہا ہوں۔ ترجمہ: بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا‘ جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے ‘ یقیناًیہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ (۳۔۱۶۴)
ایک ایسی ہستی جس پر جب دیکھنے والوں کی نظر پڑتی ہے تو دہائی دینے لگتے ہیں۔’’واحسن من کلم ترقط عینی‘ و اجمل من کلم تلد النساء‘ خلقت مبراءََ من کل عیبِِ‘ کانک قد خلقت کماتشاء۔‘‘ کوئی جب خوبیوں پر نظر ڈالنے لگتا ہے تو تھک کر صرف اتنا کہہ دیتا ہے۔ ’’بلغ العلیٰ بکمالہ‘ کشف الدجابجمالہ‘ حسنت جمیع خصالہ‘ صلو علیہ وآلہ۔‘‘ ’’بعداز خدابزرگ توئی قصہ مختصر۔‘‘
یہودونصاریٰ دونوں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ کو ہم سے محبت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے دعووں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہو سکتی‘ اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے آخری پیغمبرﷺ پر ایمان لاؤاور اس کی اتباع کرو۔ترجمہ: کہہ دیجیئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو‘ خود اللہ تم سے محبت کرے گااور تمہارے گناہ معاف فرما دے گااور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ (۳۔۳۱)۔۔

اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لیے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کر دیا ہے کہ محبت الہیٰ کا طالب اگر اتباع رسولﷺ کے ذریعے سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر تو یقیناًوہ کامیاب ہے اور اپنے دعویٰ میں سچا ہے ورنہ وہ جھوٹا بھی ہے اور اس مقصد کے حصول میں ناکام بھی رہے گا۔
آپﷺ نے اس طرح فرمایا ہو گا کہ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘(بخاری:۱۵) لہٰذا عشق مصطفیﷺ تمام مومنوں کے لیے ایمان کا لازمی حصہ ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر معاملے میں آپﷺ کے احکام کی پیروی کی جائے۔ صرف زبان سے کہہ دینے سے کوئی عاشق نہیں بن جاتا بلکہ اس کے لیے عمل شرط ہے۔ ساراسال میں حرام کی کمائی سے جیب بھرتا رہوں، لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرتا رہوں، ہمسائوں کو تنگ کرتا رہوں، رشتہ داروں سے قطع تعلق کرتا رہوں،جھوٹی انا کی تسکین کے لیے ظلم و ستم کا بازار گرم کرتا رہوں‘ فرض نماز سے غفلت بھرتتا رہوں اور صرف ایک ماہ اپنے گھر پر چراغاں کر دوں، محفلِ میلاد منعقد کر کے اور ایسی محفلوں میں شرکت کر کے اپنے آپ کو عاشق رسول سمجھنے لگوں تو یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ سچا عاشق بننے کے لیے آپﷺ کے لائے ہوئے نسخہء کیمیا اور اسوہ حسنہ کی عملاََ پیروی شرط ہے۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *