ریاستِ مدینہ میں کرکٹ۔۔۔عزیز خان

“پاپا کتنے بجے چلنا ہے ووٹ ڈالنے میں نے بھی ووٹ ڈالنا ہے” میرا چھوٹا بیٹا صفی عزیز خان 25 جولائی 2018 کو صبح صبح مجھ سے پوچھ رہا تھا۔
آج الیکشن کا دن تھا صفی خان نے اپنا شناختی کارڈ اسی  سال بنوایا تھا، وہ ماشا اللہ اٹھارہ سال کا ہو چکا تھا اُس کے لئے خوشی کی بات یہ بھی تھی کہ میں گھر پر موجود تھا ورنہ پولیس کی ملازمت کی وجہ سے کوئی دن مثلاً عید،محرم ،شب برات ،14 اگست ایسا نہیں ہوتا تھا کہ میں گھر پر ہوتا کیونکہ پولیس ڈپارٹمنٹ میں ایسے مواقع پر چھٹی کا تصور ہی نہیں ہوتا۔
جب دوسری دفعہ صفی خان اپنا شناختی کارڈ لیکر  میرے پاس آیا، تو میں نے کہا بیٹا ابھی رش ہو گا، گرمی ہے آرام سے چلیں گے۔
مگر اُس کی بے چینی اور خوشی میں محسوس کر رہا تھا جب سے میں ملازمت میں آیا تھا ووٹ ڈالنے کا مجھے کبھی بھی موقع  نہیں ملا تھا۔

تقریباً تین بجے ہم گھر سے روانہ ہوئے مُلتان شفٹ ہونے کے بعد ہم نے پہلی دفعہ ووٹ کا استعمال کرنا تھا ،بڑی مشکل سے پولنگ بوتھ ملا، پہلی دفعہ شدید گرمی میں لائن میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا
نہ مجھے پتہ تھا کہ کون کون سے اُمیدوار ہیں نہ ہی میرے بیٹے کو معلوم تھا، ہمیں صرف یہی دُھن تھی کہ بس عمران خان کو ووٹ دینا ہے، بلے پر مہر لگانی ہے۔
رات کو جاگ کر سب نے گھر میں ٹرانسمیشن دیکھی اور عمران خان کی حکومت بن گئی۔
اب اس بات کا بے قراری سے انتظار تھا کہ کب نئے پاکستان کی بنیادیں رکھی جائیں گی اور کب ہم ریاست مدینہ دیکھیں گے ؟
گھر میں بڑے بیٹے کے ساتھ بھی بحث ہوتی ہے جو کہ  مسلم لیگ ن کا حامی ہے دوست احباب بھی اکثر اکٹھے ہونے پر پوچھتے کہ کیا ہو رہا ہے؟
اور میں بڑے دھڑلے سے کہتا کہ عمران خان ضرور کچھ کرے گا۔

ایک سال گزر گیا کچھ بھی نہیں ہو ا،صرف اتنی بات سمجھ آئی کہ مُلک کا سارا پیسہ ن لیگ والے اور پیپلز پارٹی والے کھا گئے، اس لیے مہنگائی ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے نواز شریف اپنی بیٹی اور ن لیگ کی تقریباً آدھی لیڈر شپ کے ساتھ جیل چلے گئے آصف زرداری بھی اپنی بہن کے ساتھ جیل چلے گئے لیکن کچھ بھی نہیں بدلا ،وہی مہنگائی وہی امن وامان کی صورت حال ۔

اسد عمر اپنی ٹیم کے ساتھ آئے ناکام ہوئے حفیظ شیخ کو درآمد کیا گیا جن کے ساتھ شبر زیدی بھی تشریف لائے مگر ملک کی معیشت اب بھی بربادی کی طرف گامزن ہے۔پنجاب میں کُچھ عرصہ قبل زینب کیس نے پورے مُلک کو ہلا دیا تھا زینب کیس کا ملزم عمران سزا ہونے کے بعد پھانسی چڑھ گیا
زینب کا باپ چیختا رہا کہ مجرم عمران کو سرعام پھانسی دیں تاکہ لوگوں کو عبرت ہو مگر ہماری حکومت تو ایک جمہوریت پسند حکومت ہے اور عدلیہ کی تو کیا بات ہے ؟
عمران کو قانون کے مطابق پھانسی دی گئی جتنی زینب کیس کی تشہیر ہوئی عمران کے پھانس دیے جانے کی نہ تو تشہیر ہوئی اور نہ ہی وہ خبر میڈیا پر جگہ بنا سک،جہاں اس کیس کو ٹریس کرنے کا کریڈٹ پنجاب پولیس اور شہباز شریف نے لیا وہاں پنجاب پولیس کے کیے گئے غلط پولیس مقابلوں کی بھی قلعی کھل گئی۔

زینب کیس کے بعد بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بےشمار کیسز ہوئے مگر میڈیا پر جگہ نہ لے سکے اور نہ عوام کو اس کے بارے میں علم ہو سکا
پنجاب پولیس نے زینب کیس ٹریس کرنے پر جو عوام میں پذیرائی اور عزت حاصل کی وہ رحیم یار خان کے صلاح الدین کیس اور وہاڑی تشدد کیس میں برباد ہو گئی۔
کُچھ دن قبل قصور کی تحصیل چونیا ں میں تین کمسن بچوں کی لاشیں ملیں پھر وہی کہانی دہرائی گئی ایس ایچ او اور ڈی ایس پی معطل کر دیے گئے بعد میں ایک بچے کی شناخت عمران کے نام سے ہوئی عمران خان نے نوٹس لیا پوری پنجاب حکومت حرکت میں آگئی۔

نئے ڈی پی او لگائے گئے 1543 لوگوں کے ڈی این اے کروائے گئے جن پر بقول چیف منسٹر 25 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور سہیل شہزاد نامی لڑکا ٹریس ہوگیا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ لڑکا پہلے بھی اسی بدفعلی کے جرم میں ڈیڑھ سال جیل میں سزا کاٹ چُکا ہے۔ہماری پولیس کے پاس کوئی ایسا سسٹم نہیں کہ ریکارڈ یافتہ مجرم کی نگرانی کی جا سکے۔

چیف منسٹر نے آئی جی کی موجودگی میں پریس کا نفرنس کر ڈالی مبارکیں وصول کی گئیں،اب کیس چلے گا سہیل شہزاد کو سزا مل جائے کی اور ہم اسے زینب کیس کی طرح بھول جائیں گے۔
بطور قوم ہمارئے حافظے بُہت کمزور ہیں جتنا بھیانک واقعہ ہو جائے ہم بُہت جلد بھول جاتے ہیں نہ تو ہم سوچتے ہیں اور نہ حکومت کہ آخر ایسا واقعہ ہوا کیوں کہاں کمی ہے ہمارے اخلاقی اور معاشرتی اقدار میں ؟
کیا ہمارہ عدالتی نظام اتنا کمزور ہے کہ کسی ملزم کو بروقت سزا نہیں دیتا ؟
مقدمات کا فیصلہ اُس وقت ہوتا ہے جب لوگ اُس واقعہ کو بھول چکُے ہوتے ہیں

جہاں تک پولیس کا تعلق ہے وہ یا تو پیسے لے کر کام کرتی ہے یا سیاسی اور بااختیار فرد کے حُکم سے ڈرتی ہے یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں اور ہمیں پورا یقین ہوتا ہے کہ پیسے دے کر یا سفارش سے بڑے سے بڑے جرم کر کے بھی بندہ بچ جاتا ہے
پولیس کے اعلیٰ افسران کے کیے گے غلط فیصلوں نے بھی محکمہ پولیس کے ملازمین کے اعتماد کو ختم کر دیا
اپنی جان اور نوکری بچانے کے چکر میں رینکر ملازمین کی گرفتاریاں اور اُن کی حوالات میں بند کرنے سے جرائم نہیں رُکتے
خاص طور پر جب ڈی ایس پی رینک کے آفسر کو حوالات میں بند کرکے میڈیا پہ تشہیر کی جائے اور بعد میں اُن کو بے گناہ کر دیا جائے آپ اس طرح ملازمین میں خوف و حراس تو پیدا کر سکتے ہیں یا پھر جگ ہنسائی کروا سکتے ہیں پر کرائم کنٹرول نہیں کر سکتے؟

عمران خان نے پنجاب میں عثمان بُزدار کو وزیر اعلیٰ بنایا تو دلی مسرت ہوئی کہ اب جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور ہوں گی، مگر ایسا کُچھ بھی نہ ہوا وہ آج تک انڈر ٹریننگ ہیں اور اُن کو یقین دلانا پڑتا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ ہیں۔
شہباز گِل پنجاب میں اچھا کام کر رہے تھے ہر tv چینل پر اپوزیشن کو مدلل جواب دے کر خاموش کر دیتے تھے مگر عثمان بُزدار اور ان کے قریبی دوستوں کو پسند نہیں تھے اس لیے اُن کو بھی ہٹا دیا گیا
پی ٹی آئی کے حکمرانوں کو شاید یہ بتایا گیا ہے کہ عہدہ سے ہٹانا اور معطل کرنا ہی ہر مسئلے  کا حل ہے۔
ایک سال میں جتنی تبدیلیاں اس حکومت نے کیں یا یو ٹرن لیئے ہمیں سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے کُچھ زیادہ ہی معلوم ہو رہا ہے؟
ن لیگ اور پیلز پارٹی کی حکومت میں سوشل میڈیا اور میڈیا اتنا فعال نہ تھا اب تو پی ٹی آئی کی حکومت میں ہر خبر باہر آتی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر آتی ہے جس پر عوام کا رد عمل شدید ہوتا ہے
تحریک انصاف کی حکومت مُلک میں کرپشن ختم کرنے اور کرپٹ لوگوں کو سزا دینے کے لئیے آئی تھی اسی نعرہ سے عمران خان کو حکومت ملی
ایک سال ہو گیا ابھی تک نہ لو ٹی ہوئی دولت واپس آئی نہ ہی سوائے نواز شریف کے کسی کو سزا ہوئی
سیاسی پوسٹنگز اُسی طرح ہو رہی ہیں نوکریاں ریوڑیوں کی طرح اپنوں میں بانٹی جارہی ہیں جس کی ایک مثال LDA میں لیگل اور سینیر لیگل ایڈوائیزرز کی آسامیوں پر بندر بانٹ ہوئی ہے
اسی پوسٹ پر پہلے ایڈوائیزر کو 30000 ماہانہ دیا جاتا تھا جو اب دو لاکھ سے چھ لاکھ تک کر دیا گیا ہے اور یہ سارے سفارشی ہیں
یہی حال باقی محکموں کا ہے

عمران خا ن ہمیشہ اپنی تقریر میں کہتے تھے کہ اگر حکمران ایماندار ہو تو کرپشن نہیں ہوتی پھر کیا وجہ ہے حکمران بھی ایماندار ہے کرپشن بھی ہو رہی ہے۔آج میرا بیٹا صفی خان میرے پاس آکر بولا پاپا عمران خان کام کیوں نہیں کر رہا ہم نے تو ووٹ دیا ہے ہمیں لگا سب ٹھیک کر دے گا عمران خان ۔
میرے پاس بیٹے کے سوال کا کوئی جواب نہیں میں اُسے کیا بتاؤں اس مُلک کو لوٹنے والے سیاستدان بیوروکریٹس کا ٹولہ کتنا طاقتور ہے کہ وہ کسی ایماندار حکمران کو پسند ہی نہیں کرتے
72 سال ہو گئے پاکستان بنے چین کو بنے ہوئے 70 سال ہوئے و،ہ کہاں سے کہاں پہنچ  گیا، ہمارا مُلک آج بھی اُسی مقام پر کھڑا ہے کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں مگر ہمارے حکمران اپنی باریاں لے رہے ہیں اور ان کی جائیداد بڑھ ری ہے۔
یہ وہ کرپٹ اور با اختیار مافیا ہے کہ ایسے کئی عمران خان بھی ان کا کُچھ نہیں بگاڑ سکتے ؟
عمران خان اپنی ریاست مدینہ میں کرکٹ کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے مگر کاش انہیں کوئی بتائے کہ اس کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ بھی ہوتی ہے اوریہاں جوا کروڑوں کا نہیں اربوں کھرہوں کا ہوتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *