امان اللہ کی میت،ایک سوالیہ نشان؟۔۔ایم اے صبور ملک

SHOPPING
SHOPPING

مختار مسعود نے لکھا تھا کہ ہمارا معاشرہ قحط الرجال کا شکار ہے،مذہبی انتہا پسندی اور جاہلیت ہمارے اندر اس قدر سرائیت کرچکی ہے کہ ہم معاشرے میں خوشیاں بکھیرنے والے کی میت کو بھی نہیں بخشتے،کیا ہم سب کو ایک دن موت نہیں آنی،ذرا تصور کریں،ہماری میت جنازے کے بعد تدفین کی منتظر ہو،اور ایسے میں کوئی مولوی کہہ دے کہ مرنے والا تو فلاں مسلک کا تھا،میراثی تھا،ہم اسکو اپنی زمین میں دفن نہیں کرنے دیں گئے،جناح کا پاکستان تو نہیں لگتا کسی طور بھی،یہ تو مولوی کا پاکستان ہے،جہاں لوگوں کے مرنے کے بعد یہ فیصلہ بھی مولوی نے کرنا ہے کہ کسے دفن کرنے کی اجازت دینی ہے اور کسے نہیں،سوال آن کھڑا ہوا ہے کہ ریاست کہاں ہے؟وہ اپنی ذمہ دار ی ادا کرنے سے قاصر کیوں ہے؟کیوں ریاستی باشندوں کو ان ذہنی طور پر بیمار اور مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں مرنے کے بعد بھی رسوا ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے؟بانی پاکستان نے تو 11اگست کو واضح کہہ دیا تھا کہ تم سب آزاد ہو اپنی مسجدوں،اپنے مندروں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے،ریاست کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ تمہارا مذہب کیا ہے،بحیثیت پاکستانی تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں اور آئین پاکستان بھی اس بات کی ضمانت دیتا ہے،پھر یہ کون ہیں جو ہر معاملے میں ٹانگ پھنسانا  اپنا فرض اوّلین سمجھتے ہیں،جن کو عورتوں کے باہر نکلنے سے تکلیف،جن کو لوگوں کے تفریح کرنے سے تکلیف،جن کو لوگوں کے مل جل کررہنے سے مسئلہ،اور اب جن کو میت کو دفنانے سے مسائل،اپنی منفرد اور لاجواب اداکاری،قوت مشاہدہ اور بے ساختگی سے کئی دہائیوں تک لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور خوشیاں بکھیرنے والے امان اللہ خان نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک سٹیج پر فی البدیہہ جملے بازی اور سینڈ اپ کامیڈی کا بانی مانے جاتے تھے،ان میں یہ خوبی تھی کہ اپنے اوپر طنز نہ صرف برداشت کرتے تھے بلکہ جواباً بھی طنز یا انداز میں جواب دیتے،کئی دفعہ سٹیج پر حاضرین کو براہ راست مخاطب کرنے اور حاضرین کی جانب سے خود پر ہلڑ بازی کا کمال تدبر سے جواب دینا امان اللہ خان کاخاصا تھا،ساتھی فنکاروں کے ساتھ ملنساری کے ساتھ برتاؤ،جونیئر کو طریقے سے فن ادکاری کے رموز سیکھانا،غرور سے کوسوں دور امان اللہ  ،مداحین کے دلوں پر راج کرتے تھے،زیادہ کام کرنے اور اُونچی آواز میں بولنے کی وجہ سے امان اللہ خان پھیپھڑوں اور بعد ازاں گردوں کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے،امان اللہ خان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا،سیلف میڈ انسان امان اللہ نے شروع میں بسوں میں ٹافیاں بیچیں،اور داتا دربار کے باہر ٹوپیاں اور تسبیح بھی فروخت کی،کسی بھی شخص کی آوا ز کی نقل اُتارنے کے فن میں ماہر تھے،اپنی لازوال ادکاری کی بنا پر انہیں 2018کو صدر پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آ ف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا،امان اللہ خان نے 860دنوں پر ِمحیط تھیڑکرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا،فی البدیہہ جملے کسنا شاید امان اللہ خان کی پیدائشی صفت تھی،جبھی تو بسوں میں ٹافیاں بیچنے کے دوران بھی مسافروں کو اپنی لاجواب باتوں سے محظوظ کرتے تھے،ان کو قدرت نے جن صلاحیتوں سے نوازا تھا وہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہیں،ان کے فن کی سب سے بڑی بات ان کا طنز اور بے ساختگی تھی،دوسرے مزاحیہ ادکار بھی ان خوبیوں کے مالک تھے لیکن امان اللہ کی بات ہی نرالی تھی،اپنی غربت کو کبھی اپنے فن کی راہ کی رکاوٹ نہیں سمجھا،بسوں میں مسافرو ں کو ہنسانے سے جو سفر شروع ہوا،وہ ریڈیو پاکستان سے ہوتا ہوا سٹیج اور بعدازاں نجی ٹی وی چینلز تک اور بیرون ملک تک جاپہنچا اور پھر امان اللہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،لیکن اسکے باوجود امان اللہ نے اپنی گردن میں سریا کبھی نہیں آنے دیا،اور اپنے دورِ  غربت کا ذکر ہمیشہ شان سے کرتے،کچھ عرصے سے صحت کے حوالے سے امان اللہ کے مسائل بڑھ گئے تھے،اس سال جنوری میں بھی طبعیت زیادہ خراب ہونے پر ہسپتال داخل ہوئے اور پھر صحت یاب ہوکر گھر چلے گئے،گزشتہ چند دن سے دوبارہ طبعیت بگڑی،اور بحریہ ٹاؤن لاہو ر کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں چار روز وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد جمعہ 6مارچ کو داعی اجل کو لبیک کہا،اور دُنیا بھر میں اپنے چاہنے والوں کو سوگوار کرگئے،لیکن جو کچھ امان اللہ کی میت کے ساتھ ہوا،وہ ہمارے معاشرے کے بدنماچہرے پر لگی سیاہ کالک میں مزید اضافہ کرگیا،اگر امان اللہ کو اُس وقت جب ان کی میت کو پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ دفن کرنے سے  انکار ی تھی،تھوڑی سی زندگی مل جاتی تو جاتے جاتے بھی اس روئیے پر جگت مار جاتے،سوال اس بات کا پیدا ہوتا  ہے کہ کوئی شخص کسی ہاوسنگ سوسائٹی میں زمین یا گھر لے کر رہائش پذیر ہوتا ہے تو معاہد ہ نامہ میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ سوسائٹی اپنے رہائشیوں کو بعد از مرگ قبرستان اور جنازہ گاہ دینے کی پابند ہے،اس وقت جب ہاؤسنگ سوسائٹی نے پیسے لینے ہوتے ہیں،تب تو کسی کا مسلک،مذہب یا پیشہ نہیں پوچھا جا تا،پھر مرنے کے بعد مسلک،مذہب یا پیشے کی بنیاد پر تدفین کی اجازت دینے یا نہ دینے کا کیا سوال؟کیا اس پر بھی کوئی سوموٹو ایکشن لے گا؟اگر ایسا رواج چل نکلا تو کل ہر دوسری میت کے ساتھ یہی کچھ ہونے لگے گا،زمین اللہ کی ملکیت ہے یا مولوی کی؟پہلے تو زندوں تک ایسے معاملات تھے اب ہم نے مردہ کو بھی اس میں گھیسٹ لیا،کم ازکم میت کو تو بخش دوجاہلو،عقل سے عاری،انسانیت سے کوسوں دور انسان نما جانور ہیں یہ لوگ،اور اُوپر سے وہ مولوی جس نے تدفین کے بعد کہا کہ یہ میراثی ہے،ہو سکتا ہے کل کوئی اس کی میت یہاں سے نکال کر پھینک دے،استغفار،اللہ معافی،کیا بنے گا ہمارا،ابھی عورت مارچ پر ہی بحث نہیں ختم ہوئی کہ ایک اور نیا مسئلہ آن کھڑا ہوا،متعلقہ اداروں اور معاشرے کے لئے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *