پنجاب پولیس اور بھڑ کا ڈنک۔۔۔عامر عثمان عادل

پچھلے کچھ ہفتے پنجاب پولیس پر بہت بھاری تھے ،سوشل میڈیا پر وہ اودھم مچا کہ کچھ نہ پوچھیے، یار لوگوں نے نجانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر پولیس کے تشدد کی ویڈیوز اپ لوڈ کر دیں، تاثر یہ اُبھرا کہ پنجاب پولیس انتہائی  ظالم ،سفاک اور انسانیت سے عاری فورس ہے۔ اس طرح کا پروپیگنڈہ کیا گیا کہ پولیس کے پاس سوائے تشدد کے کوئی  اور کام نہیں بچا۔
اس لترو لتری کمپین کا کچھ تو نتیجہ برآمد ہونا ہی تھا۔۔۔
پولیس کے مورال کا گرنا
کارکردگی کا متاثر ہونا
پولیس کے روئیے پر جوابدہ افسران کا تلملا کر ایکشن
یہ سب ملا کر عوام کے مسائل اور بھی بڑھ گئے۔۔۔پہلے بھی کارکردگی مثالی نہ تھی اب تو کمال ہو گیا۔

اس مہم کا مربوط انداز میں جواب دینے کی بجا ئے اپنے رویوں میں بہتری لائے بغیر پولیس نے ذمہ داریوں سے فرار کی نئی راہ تلاش کر لی۔اب پولیس والے برملا کہتے پھرتے ہیں کہ ہمیں اوپر سے آرڈر ہے کہ کچھ بھی ہو جائے بندے مرتے ہیں تو مر جائیں آپ نے ٹس سے مَس نہیں ہونا۔

لوکی کھان کھسماں نوں۔۔۔۔

میرے سکول کے ایک ذمہ دار کا بیٹا جو کلاس نہم کا طالب علم ہے، اسے کچھ بگڑے رئیس زادوں نے بلا وجہ اس بات پر بھرے  چوک میں بری طرح مارا کہ تم ہمارے پاس سے موٹر سائیکل کو ریس دے کر گزرے ہو ،تھانے میں درخواست دی گئی۔

میں نے جب متعلقہ تفتیشی افسر سے پوچھا کہ کیا بنا اس درخواست کا ،تو اس نے جواب دیا۔
ہمارے ہاتھ تو اب کچھ بھی نہیں ،ہم تو بس پیغام دے سکتے ہیں ملزمان کو، وہ تھانے میں آ جائیں تو ان کی مہربانی ہے جی ورنہ ہم انہیں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے  جی ،پولیس کیا کرے جی ،سوشل میڈیا پہ رولا ہی بڑا پہ  گیا سی جی، سانوں تے آرڈر اے جی کسے وی ملزم دے پچھے نئیں جانا۔۔۔

اتفاق دیکھیے۔۔سکول کے ایک اور ورکر کے بیٹے کا بھمبر کے کچھ لڑکوں سے جھگڑا ہو گیا وہ اتوار کو اپنی عبادت کے لئے چرچ گیا، جہاں پہل کرتے ہوئے بھمبر والوں نے اسے مارا ،اب بھمبر والوں میں سے کوئی ایک ان کے ہتھے کوٹلہ چڑھ گیا اور پھر انہوں نے بھی حساب برابر کر لیا ۔اب بھمبر والوں نے بھی ککرالی تھا نہ میں درخواست دے ڈالی اور حسن اتفاق سے اسی افسر کو تفتیش سونپ دی گئئ جس نے ایک روز قبل جواب دیا تھا کہ کم کچھ بھی نہیں کر سکتے
اب وہی افسر اس پارٹی کو فون کر کے کہتا ہے آتے ہو تھانے یا میں خود لینے آؤں۔۔
یعنی ثابت ہوا
نزلہ کس پہ گرا۔۔
ماڑے بندوں پہ ،جنہیں یہ جواب ملتا ہے پولیس کچھ بھی نہیں کر سکتی۔اور مال والوں کے لئے استثنٰی ہے ان کی درخواست پر پولیس ان کے مخالفین کے گھر بھی جا دھمکے گی،اور یہ تو پرانا وطیرہ ہے پولیس کا۔۔۔
او جی اتوں بڑا پریشر اے جی
او جی ایم این اے صاحب ایم پی اے دا حکم اے جی
اوہ جی دوجی پارٹی ڈی پی او دے پیش ہو گئی اے جی
اوہ جی صاحباں دا آرڈر اے جی
آزما لیجیے!
ایک پلڑے میں تگڑی سے تگڑی سفارش رکھ دیجیے اور دوسرے میں کرنسی نوٹ
نوٹ والا پلڑا آسمان کو چھونے لگے گا جبکہ سفارش والا پٹاخ کر کے زمین کے ساتھ ۔۔۔

یاد آیا بچپن میں ہمارا من پسند کھیل کیا ہوتا  تھا کہ لکڑی کے فٹے کے ساتھ بھڑ کو دبوچتے کسی اور چیز کی مدد سے اس کا ڈنک نکال کر دھاگہ باندھ لیتے اور پھر اسے اڑا کر اس کی بے بسی کو انجوائے کرتے
لگتا ہے یار لوگوں نے بھی پنجاب پولیس کا ڈنک نکال چھوڑا ہے
تے عرض کیا ہے
ھن بس شوکا شاکی رہ گئی جے اوہ تے رہن دیو ظالمو!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *