احمد اقبال کے قلم سے ایک خاکہ۔اخبار والا

بیوی نے ناشتے کے خالی برتن سمیٹ کر ٹرے میں رکھے”آپ نے جواب نہیں دیا میری بات کا”
میں نے بے خیالی میں اس کی طرف دیکھا”کون سی بات۔۔”
“میں نے کہا تھا کہ لائٹ  لگانی  ہے  لان میں۔۔جیسی مسز کدو سی کے لان میں ہیں “اس نےناگواری سے ٹرے اٹھا لی”مگر آپ کا دھیان تو ہے اخبار میں”
“لائٹ  لگا لیں گے  یار۔۔ جو کہوگی ” میں نے بےزاری سے کہا۔مجھے لگتا تھا کہ آج کا دن بھی اخبار کی صورت دیکھے بغیر ہی گزرے گامگر اسی وقت گیٹ کے نیچے کی سلاخوں کے سامنے ایک سائیکل  کے پہیے ٹھہر گئے ۔اس سے پہلے کہ وہ اخباراندرپھینک کر نکل جاتا میں نےاسے پکڑ لیا۔

“چچا آج پھرلیٹ ۔۔” میں نے خفگی سے کلائی  کی گھڑی کا رخ اس کی طرف کیا۔۔
چچا  کی  ایک  مشت کی سفید داڑھی تھی اوراتنے ہی سفید سر کے بال ۔اس کےسختیء  ایام سے جھلسے چہرے پر ایک خفت زدہ مسکراہٹ نمودار ہوئی جس نےباقی رہ جانے والے  چند  ٹوٹے  پھوٹے اورپان سے رنگےدانتوں کو نمایاں کر دیا۔ اس نے ہینڈل پر لٹکی سائیکل  کی ٹوٹی چین کی طرف دیکھا۔۔”اس کی وجہ سے آدھا راستہ پیدل آنا  پڑا  جی۔ ۔آپ توجانتے ہیں”

مگر اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے گیٹ بند کر دیا تھا۔یہ عجیب بے بسی تھی  کہ  ایک ہاکر سے زیادہ کچھ کہتے ہوئے  الٹا میں ڈرتا تھا ، وہ برا مان کے اخبار دینا بند کر دیتا  تو    مجھے ہر روز گاڑی میں کم سے کم بھی دس کلومیٹردور سہراب گوٹھ جاکے اخبار لانا پڑتا  یا جھک مار کے ان سے کہنا پڑتا کہ میری گستاخی کو معاف فرماتے ہوئے اخبار کی فراہمی کا سلسلہ پھر شروع کردیں۔غصہ پی کے خاموش رہنے میں عافیت تھی۔

چنانچہ کچھ دیر بعد بیوی نے پھر برآمدے کی خالی کرسی پر بیٹھ کے آلو  چھیلتے ہوئے  پوچھا ” آج کیا بہانہ کیا بڈھے نے۔۔”
اداکارانہ منافقت کے  ساتھ میں نے چہرے پر ہمدردی کے جذبات مسلط کر کے کہا” ارے بیگم۔۔ اس بیچارے  کی سائیکل   کی چین توٹ گئی  تھی کہیں راستے میں ۔ تمہیں تو پتا ہے وہ نیو کراچی سے آتا ہے ۔کمہار واڑے کے بعد نالے پر کیسا پل ہے۔۔بارش میں”

” کہیں باہرکھانے مت نکل جانا۔ تمھارا گوشت آلو پکا رہی ہوں دن میں” بیوی میرے جملے کے مکمل ہونے سے پہلے اٹھ  گئی
میرا گوشت آلو؟  میں نے سنا اور نظر انداز کردیا۔اس کایہی اسٹائل  تھا  چنانچہ میں نے اخبار کے پیچھے سے فرمانبردار لہجے میں کہا” یس میڈم”

واٹر پمپ کے انتہائی  بارونق علاقےسے دس کلومیٹردور یہ  احسن  آباد کے ویرانے میں یہ کرائے  کا گھر تھا ۔ سامنے شکستہ و بدحال سڑک کے پار تا حد نگاہ جنگل تھا۔ بد رنگ کیکروں کے درمیان بہت بڑی اجلی مسجد تھی اوردارالعلوم کی سدا نامکمل تین چار منزلہ بے رنگ عمارت چنانچہ ان دنوں پتا پوچھنے والوں کو میں کہتا”۔یہ بندہ کمینہ ہمسایہ  خدا ہے” اور پھرخوش دلی سے کیکروں کے جنگل میں منگل کرنے کی وجہ بھی بتاتا۔

میرے خوابوں کا محل یہاں سے ایک ڈیڑھ کلومیٹر دور گلشن معمار میں بن رہا تھا۔ وہ اک جہاں سب سے الگ تھا۔ اس کی ویرانی کو ایک ایسی ہریالی نے بھر رکھا تھا جس میں شاداب درختوں کے گھنے سائے میں پُرسکون صاف ستھری سڑکیں  بچھی ہوئی  تھیں  ۔ گھنی سبزگھاس اور پانی کے شفاف دھارے اچھالتے فواروں والے پارک تھے اوراجلے رنگوں والے چھوٹے بڑے گھر ہر طرف بکھرے ہوئے  تھے، میرے جیسے متوسط  لوگ  اس  وقت  خوشی  کی ایک لہر  سی محسوس کرتے تھے۔

احمد اقبال
احمد اقبال
تقریبا"50 سال سےمیں کہانیاں لکھتا ہوں موضوعاتی،قسطوار،مزاحیہ ۔شاعری کرتا ہوں۔ موسیقی، فلموں اور کرکٹ کا شوق ہے، یار باش آدمی ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *