کوہِ کیلاش۔۔۔شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

تبت میں کوہ ہمالیہ کے سلسلے کا کوہِ کیلاش براعظم ایشیاء کا مقدس ترین پہاڑ مانا جاتا ہے۔ بدھ مت سے بھی پہلے سے اس علاقے میں موجود بون مذہب Bon Religion کے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ ان کے بانی “شنرب Shenrab” جنت سے اس پہاڑ پر اترے تھے۔ دوسری طرف ہندو مت اور بدھ مت کے پیروکار یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کیلاش پہاڑ Mount Kailash آسمانوں میں موجود کائنات کے روحانی مرکز “سیمرو پہاڑ Mount Semeru” کا اس دنیا میں مظہر ہے۔ ہندو مت کے پیروکار مانتے ہیں کہ کوہِ کیلاش ان کے دیوتا شیوا کا تخت ہے۔ بون مذہب کے پیروکار کوہِ کیلاش کا anticlockwise طواف کرتے ہیں جب کہ ہندو مت اور بدھ مت کے پیروکار اس پہاڑ کا clockwise طواف کرتے ہیں۔ کوہِ کیلاش کی زیارت اور طواف کرنے سے ان تینوں مذاہب کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ ان کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوہِ کیلاش کے پانیوں سے بننے والی پہاڑ کے نیچے واقع مانسارور جھیل Lake Mansarovar کے یخ بستہ پانیوں میں ڈبکی لگانے سے بھی گناہوں کے دھل جانے کا تصور ان مذاہب میں پایا جاتا ہے۔
کوہِ کیلاش کو یہ مذاہب کائنات کا مرکز بھی مانتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ روحانیت کا مرکز و منبع ہے۔


دوسری طرف زندگی کو رواں دواں رکھنے والے دنیا کے چار بڑے دریاؤں کا منبع و مآخذ بھی کیلاش پہاڑ کی ہے۔ اس پہاڑ کے گلیشیئرز سے دریائے سندھ، دریائے ستلج، برہماپتر دریا اور کرنالی دریا نکلتے ہیں۔ دریائے گنگا کے پانیوں کا بڑا حصہ بھی اسی پہاڑ کا مرہون منت ہے۔ دیگر چھوٹے دریا اور جھیلیں ان کے علاوہ ہیں۔
کوہِ کیلاش 6638 میٹر بلند ہے اور مختلف مذاہب کے مقدس مقام ہونے کی وجہ سے اِسے سر کرنے یعنی اس پر چڑھنے کی اجازت نہیں۔
کوہِ کیلاش کے قرب و جوار میں بہت سی بون، بدھ اور ہندو مذاہب کی عبادت گاہیں واقع ہیں۔ اس مقدس پہاڑ کی زیارت و طواف کو آنے والے یہاں مختلف نذرانے پیش کرتے ہیں اور “دعاوں کے جھنڈے Prayers Flags” بھی باندھ جاتے ہیں۔

 

تبت پر چین کے قبضے کے بعد سے چین اس دشوار گزار مقدس مقام کے تقدس کی بجائے اس کی سیاحتی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے اور یہاں پر پہنچنے کے لئے بہت سی سڑکیں اور پل تعمیر کر دئیے گئے ہیں بلکہ اس پہاڑ کے قریبی قصبے تک بیجنگ سے ریل گاڑی کی سہولت بھی مہیا کر دی گئی ہے۔ اس لئے اب زیارت کے لئے جانے والے لوگوں کے علاوہ بہت زیادہ سیاح بھی اس علاقے میں آنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ امر بون مذہب، بدھ مت و ہندو مت کے پیروکاروں کے لئے بہت تشویش ناک ہے۔ چین کی حکومت و دلائی لامہ کے نمائندوں میں بات چیت کے نتیجے میں اگر اس علاقے میں دائمی امن قائم ہو سکا تو اس پہاڑ کا تقدس بھی شاید پھر برقرار رہ سکے۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *