میں جو الجھتا پھرتا دکھتا ہوں مخالف لہروں سے لڑتا رہتا ہوں سماعتوں پہ بوجھ بنتا ہوں ذلتیں بھگتتا ہوں بدنام ہوتا ہوں تم کیا سمجھتے ہو مجھے خبر نہیں کیا نامقبول ہونا بہت سی بارگاہوں کا مردود ہونا کتنا← مزید پڑھیے
یہ سفر نامے کا آخری حصہ بھی ہے ،اور بازگشت بھی! بس چل رہی ہے اور لوگوں کا بس نہیں چل رہا کہ پلٹ پلٹ کر دیکھا کیے، کچھ زیرِ لب مسکرا رہے ہیں،کچھ سسک رہے ہیں لیکن سب کا← مزید پڑھیے
برٹرینڈرسل کے اصول علم کے تحت جاری مباحثے کا دوسرا سیشن شروع ہو رہا ہے. مجھے دوسری بار پھر سے مائیک سنبھالنے کا حکمنامہ جاری ہو رہا ہے. میں نے گلے کو صاف کرنے کے بعد بولنا شروع کر دیا← مزید پڑھیے
دہلی سے امرتسر کے 35 منٹ کے ہوائی سفر میں کوئی میگزین یا اخبار دیکھنے کی بجائے نتالیہ نے دیگر مسافروں کے چہرے پڑھنا شروع کر دیے۔ چند ثانیے گزرے ہوں گے کہ اس عمل سے اوب گئی، اور دائیں← مزید پڑھیے
گھٹیا افسانہ نمبر 1۔۔۔۔فاروق بلوچ گھٹیا افسانہ نمبر 2۔۔۔۔۔۔ فاروق بلوچ ابھی تو محفل گرم ہو رہی ہے. شراب آدھی باقی ہے. چرس کے بیسیوں سگریٹ پیے جا چکے ہیں. شوگران میں سردی نے اَت مچا رکھی ہے. آگ کا← مزید پڑھیے
وہ نوجوان غیر مسلم لڑکا ابھی نیا نیا آیا تھا پر چند دنوں میں ہی اس نے ترقی حاصل کرلی اسے تمام غیر مسلم صفائی کرنے والے لڑکوں کا انچارج بنا دیا گیا جس کی ایک ہی وجہ تھی اور← مزید پڑھیے
فرات کا کنارہ،نہرِ علقمہ، شط الفرات، طف،غاضریہ، نینوا، دشتِ الم و بلا، جائے کرب و بلا، کربلا آگئی!! “آجاؤ، نیچے۔ منت مراد پوری ہوگئی، کربلا آگئی۔۔۔۔۔” سامان ڈھونے والے تین ٹین ایجر لڑکے بس کے ساتھ اپنی کاٹھی لے آئے← مزید پڑھیے
روبینہ فیصل کینیڈا میں مقیم معروف ادیبہ اور نوائے وقت کی کالم نگار ہیں۔تین کتابوں کی مصنفہ ہیں اور دو کتابیں زیر طبع ہیں۔ لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی ٹاک شوز کی اینکر پرسن ہیں اور کم و← مزید پڑھیے
جس دن ہم نے نجفِ اشرف سے وداع لیا ویسی ہی سڑی ہوئی گرمی تھی جو اس خطے کا خاصہ ہے، بس حبس نہیں تھا کہ لوُ کی دعا مانگتے۔۔۔۔۔ لیکن انڈہ سڑک پر ڈالتے تو اس سے گیس کی← مزید پڑھیے
کچے صحن میں اتنی شدید دھوپ پڑرہی تھی کہ مٹی کی سوندھی خوشبو میں حبس زدہ تھکن اور اکتائی ہوئی جلن شامل ہونے لگی۔ اندر کا موسم تو پہلے ہی بان کی سخت کھردی چارپائی کی طرح جسم پر گرم← مزید پڑھیے
طفیل صبح اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو وہاں منظر ہی بدلا ہو اتھا۔ ا س کاسارا سامان جل کر بکھر چکا تھا۔سامان تھا ہی کتنا ۔ جوتے پالش کرنے والے کچھ پرانے برش اور مختلف رنگوں کی پالش کی ڈبیاں← مزید پڑھیے
ڈاکٹر وزیر آغا سے میری خط و کتابت پینتیس چالیس بر س کے لمبے عرصے تک پھیلی ہوئی ہے۔ چالیس برس پہلے انڈیا میں فون لگ بھگ نایاب تھا اور دوسرے کسی ملک میں بات کرنے کی خاطر کال بُک← مزید پڑھیے
رنگوں کی اک قوسِ قُزح میں کچھ آواز کے رنگ گھُلے ہیں اور کچھ لہجے کی پرچھائیں آنکھوں کے رنگوں کے سائے ہونٹوں کے رنگوں کی برکھا ابرو، پلکیں، پیشانی، کانوں کی لَو، ہاتھوں کی نرمی اور وہ نظریں! اتنی← مزید پڑھیے
فارس مغل کا دوسراناول سو سال وفا زیر مطالعہ آیا ایک مختصر عرصے میں دوسرا ناول فارس کو ایک تیز رفتار اور زرخیز لکھاری ثابت کرتا ہے۔ناول سو سال وفا کے آغاز میں عطا شاد کی مختصر نظم ہے مری← مزید پڑھیے
(گزشتہ قسط میں ہم نے وزیر آغا مرحوم کے گھر میں ہوئی اس بات چیت کا ذکر کیا تھا جو راقم الحروف اور ان کے ما بین دیر رات گئے تک ہوتی رہی تھی اور جس میں ہم دونوں نے← مزید پڑھیے
نے، اور جف مل کر یہ لفظ بنا ہے، معنی ہے پانی اور بلندی، شائد عبرانی ہے،واللہ اعلم۔ دجلہ کا کنارہ ہے اور علماء کا شہر ہے جسے اسد اللہ نے عزت بخش کر باب العلم کی ایکسٹینشن کردی ہے۔۔۔← مزید پڑھیے
ہم کپتان ہوئے تو گھروالوں نے ہماری شادی کی ٹھان لی مگر بڑے بھائیوں نے عجب ظلم ڈھائے کہ ایک نے شادی کا رِسک ہم پہ لینے کے بعداپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور دوسرے نے← مزید پڑھیے
یہ زریں قول کسی جہاں دیدہ، داناوبینا کے بجائے کسی تجربہ ساز کا لگتا ہے کہ اگر بچے کوناک میں انگلیاں مارنےکی عادت ہوتو اسے ڈھیلے الاسٹک والی نکر پہنائیں۔ یوں نہ رہےگا ہاتھ نہ بجے گی ’’بانسری ‘‘۔الاسٹک ربڑسےبنا← مزید پڑھیے
گندے بدبودار گہرے مٹیالے گٹر کا پانی رواں دواں تھا ہر کوئی اپنا دامن بچاتا ہوا کبھی یہاں کبھی وہاں چھلانگیں لگاتا ہوا جارہا تھا سمجھ نہیں آتا تھا کہ شہر کے بلدیاتی نظام کو کس کی نظر لگی تھی← مزید پڑھیے
جیسے ہی شبیر بخاری لوگوں کی بھیڑ سے نکل میرے سامنے آیا ہے مجھے اپنے بائیس ہزار یاد آ گئے ہیں. بھڑوے نے دو سال گزار دئیے ہیں یہ کہہ کہہ کر کہ آج شام کل شام کو دے رہا← مزید پڑھیے