اجتجاج ریکارڈ ہوا۔۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

طفیل صبح اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو وہاں منظر ہی بدلا ہو اتھا۔ ا س کاسارا سامان جل کر بکھر چکا تھا۔سامان تھا ہی کتنا ۔ جوتے پالش کرنے والے کچھ پرانے برش اور مختلف رنگوں کی پالش کی ڈبیاں ۔ الگ الگ پاؤں والی کچھ چپلیں۔ جسے وہ اپنے گاہکوں کو عارضی طور پر پہننے کے لیے دیتا تھا۔ جوتے مرمت کرنے اور پالش کرنے کے لئے بنیادی چیزیں۔ ایک لکڑی کا صندوق جس میں وہ سب سامان رکھ کر جاتا تھا۔
گاہک کا جوتا ہاتھ میں آتے ہی اس میں انرجی کی ایک لہر اٹھتی ۔ چند لمحوں میں ہی وہ سارے کام کا جائزہ لے لیتا۔ کہاں کیل لگنا ہے اور کہاں سلائی ہونا ہے ۔اگر گاہک نے صرف پالش کا کہا تو اسے بتاتا کہ یہاں کیل لگ جائے تو جوتا اکھڑنے سے بچ جائے گا۔ ا س جگہ سلائی کر دوں تو مزید نہیں پھٹے گا۔ صاحب آپ کا جوتا آرام دہ ہو جائے گا۔ حسب ضرورت و ہ کالا یا براؤن برش اٹھاتا اور کام شروع  کر دیتا ۔ سلائی کے لئے آر اور دھاگہ استعمال کرتا اور کیل لگانے کے لئے ہتھوڑی اٹھاتا۔ جوتے کو اڈے پر چڑھا کر اچھی طرح کیل لگانے کے بعد اندر ہاتھ پھیر کر چیک کرتا کہ کہیں کیل پاؤں کو چبھے گاتو نہیں ۔
طفیل گاہک کو باتوں میں مصروف رکھتے ہوئے سارا دھیان جوتا پالش کرنے اور انہیں چمکانے پر صرف کرتا ۔ اس کی باتیں کبھی ختم نہ ہوتیں ۔ گاہک سیاسی ہے تو سیاست کی قلابازیاں ۔ مولوی ہے تو دینی گفتگو ۔ کسان ہے تو گائے ، بھینس ، بیل کی قیمتوں اور ساونی ہاڑھی کی باتیں۔ مکینک ہے تو گاڑیوں کی باتیں ۔ بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر ہے تو سٹرک اورٹریفک کی باتیں ۔ سواریوں کے جھگڑے اور سٹوڈنٹس کے کرایہ نہ دینے کے تذکرے ۔ پولیس والا ہے تو چوروں اور بدمعاشوں کو پکڑنے کے قصے ۔ بوڑھا ہے تو جوان اولاد کی بے رخی کا ذکر ۔ سکول ماسٹر ہے تو پڑھائی کے تذکرے ۔ طالب علموں کی طرف سے اساتذہ کی عزت نہ کرنے کا موضوع۔ وکیل ہے تووکالت ناموں اور سائلوں کی کہانیاں ۔ دوکان دار ہے تو مندے کی باتیں ۔ عام آدمی ہے تو مہنگائی کا رونا۔ مسکراتے ہوئے باتوں ہی باتوں میں وہ کام مکمل کر کے گاہک کو تھمادیتا۔ کبھی کسی گاہک سے مزدوری پر جھگڑا نہ کرتا ۔ جو جتنا دیتا خوشی سے لے لیتا۔
پالش کرتے کرتے کبھی کبھی طفیل سر اٹھا کر سٹرک پر سے گزرتے لوگوں پر اور خاص طو رپر ان کے جوتوں پرنظر ڈال لیتا ۔ دل میں خواہش جنم لیتی کہ پہلا کام ختم کرنے سے قبل اگلا گاہک آجائے۔ اس کے دو برش پرانے ہو گئے تھے۔ ان کے بال جوتے پالش کرتے کرتے گھس گئے تھے ۔اب برش کی لکڑی صاف نظر آتی تھی ۔کئی دنوں سے خواہش تھی کہ ایک کالا اور ایک براؤن برش نیا خرید لے۔ پیسوں کی بہت ضرورت تھی لیکن وہ اپنے گاہکوں کو ہر صورت میں ترجیح دیتا تھا۔ رفیق منیاری والا ا س کا پرانا دوست تھا ۔ وہ ہمیشہ پالش اور برش وغیرہ رفیق سے ہی خریدتا تھا۔ اس با ربھی رفیق نے دو برش پانچ سو کے بجائے ساڑھے چار سو روپے میں اسے دے دئیے تھے۔ یہ رقم اس نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران میں تھوڑی تھوڑی کر کے جمع کی تھی ۔ طفیل نئے برش دیکھ کر بہت خوش تھا۔
اگلے ہفتے سکول کھلنے والے ہیں ۔ بچوں کی کاپیاں ، کتابیں اور بستے خریدنا ہوں گے۔ سکول کی فیس کے لئے تو وہ سکول والوں سے بات کرکے کچھ مہلت لے لے گا۔ ثانیہ اس سال پانچویں میں جانے والی ہے ۔ ا س کا خرچ زیادہ ہوگا۔ لیکن میں ہر صورت بچی کو پڑھاؤں گا۔ ا سکے لئے مجھے بے شک زیادہ کام کرنا پڑے ۔‘‘ جوتا پالش کرتے کرتے وہ سوچوں کے تانے بانے بھی بنتا جاتا ۔ اسے امید تھی سکول کھلنے سے پہلے وہ بچوں کے لئے مناسب رقم جمع کرلے گا۔
شام کو کام ختم کرکے پالش کی ڈبیاں ، الگ الگ پاؤں کی چپلیں، پرانے برش ، کیل، ہتھوڑی ، پتاوے ، آر ، دھاگہ ، قینچی، چمڑے کے چھوٹے بڑے ٹکڑے، بکھرے کیل سب چن چن کر لکڑی کے صندوق میں سلیقے سے رکھے ۔ دو گاہک اپنے جوتے لینے نہیں آئے تھے۔ وہ مرمت شدہ جوتے اس نے سنبھال کر صندوق میں رکھ دئیے ۔ طفیل نے دونوں نئے برش پیا رسے دیکھے ۔ آج نئے برش کی وجہ سے پالش کرتے ہوئے اس کے ہاتھ پر کم چوٹیں آئیں تھیں ۔ انہیں بھی صندوق کے اندر رکھا ۔ ٹاٹ کا ٹکڑا ،جس پر وہ روزانہ اپنا اڈا لگاتا تھا ، جھاڑ کر تہہ کیا اور آخر پر سامان کے اوپر رکھ کر صندوق بند کر دیا ۔ چھوٹا تالا لگانے کے بعد صندوق کو ایک ہلکی سی لوہے کی زنجیر کے ذریعہ درخت کے ساتھ باندھ دیا۔ یہی ا س کا روزانہ کا معمول تھا۔ آج تک کسی نے اس کے صندوق کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔
چمڑا بھگو کر نرم کرنے کے لئے رکھا مٹی کا کونڈا جس میں پانی بھرا رہتا ہمیشہ اس کے دائیں ہاتھ پڑا رہتاتھا۔ طفیل نے پانی اٹھا کر درخت کو ڈالا اور کونڈا اوندھا کر کے درخت کے  ساتھ لگا دیا ۔وہ روزانہ صبح آکر سٹرک کنارے لگے نلکے سے کونڈے میں پانی بھرتا ۔ سارا دن اس پانی کو حسب ضرورت چمڑا گیلا کرنے کے لئے استعمال کرتا اور جاتے ہوئے پانی درخت کو ڈال دیتا۔ اس درخت کے ساتھ ا س کا بارہ سال کا رشتہ تھا۔ کتنی گرمیاں اس نے اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں گزاری تھیں ۔
آج کام پر آتے ہوئے ا س کی بوڑھی ہمسائی بے بے شریفاں  نے اپنا جوتا مرمت کرنے کے لئے دیا تھا۔ وہ اس نے الگ شاپر میں ڈال لیا تاکہ واپسی پر اس کے گھر پہنچادے۔بے بے شریفاں ا س کے ہمسائے میں اکیلی رہتی تھی۔ اس کے چھوٹے موٹے کام طفیل کر دیا کرتا اور بدلے میں ڈھیروں دعائیں لیتا۔ سکول شروع ہونے والے ہیں ۔ اب مجھے زیادہ کام کرنا ہے ۔ صبح جلدی کام پر آجاؤں گا۔ انہیں خیالات کی رو میں پیدل چلتے چلتے سبزی لے کر وہ گھرپہنچ گیا۔
اگلی صبح طفیل کام پر جانے کے لئے نکلاتو شہر میں ہنگامے ہو رہے تھے۔ ہر طرف جلوس ہی جلوس ، اور نعرے لگاتے ہوئے لوگ تھے۔ معلوم ہوا کہ ہزاروں میل دور مغرب کے کسی ملک میں کسی بد بخت نے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ خبر پھیلی تو اس کے خلاف اجتجاج شروع ہوگیا ۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دئیے جائیں ۔ ان کے سفیر کو فوراً ملک بدر کر دیا جائے ۔ بعض علماء ان کے سفیرکو قتل کرنے کے فتوے بھی دے چکے ہیں تا کہ انہیں سبق سکھایا جا سکے۔ بڑی زور دار تقریریں ہو رہی تھیں ۔ نعرے لگ رہے تھے ۔ کچھ نعرے یوں تھے ۔’’ غلام ہیں غلام ہیں آقا تیرے غلام ہیں‘‘ ۔ ’’ غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔‘‘ ’’گستاخ کی سزا سر تن سے جدا۔‘‘
شہر بھر میں جگہ جگہ ٹائر جلا کر راستے بندکر دئیے گئے تھے۔ شہر میں آج کوئی کاروبار نہیں ہو گا ۔ ساری دوکانیں بند اور بازار ٹھپ پڑے تھے۔ وہ آج کام پر نہیں جا سکتا تھا۔ طفیل گھر واپس آگیا ۔ شام تک جلوس ختم ہوگئے ۔ لو گ گھروں کو چلے گئے ۔ ناموس رسالت کے لئے نعرے لگانے والے جوشیلے نوجوان اپنا فرض پورا کر کے روانہ ہوگئے ۔
اگلے دن معمولات زندگی چل پڑے ۔ طفیل بھی حسب عادت صبح صبح گھر سے نکل پڑا۔ اپنے خواب دہراتا۔ بچوں کے سکول کی فیس اور یونیفارم کے لئے جمع تفریق کرتا ،وہ اپنے کام کی جگہ کی طرف رواں دواں تھا۔ اسے کل کا دن ضائع ہونے کا خیال بار بار آرہا تھا۔ لیکن پھر اس نے یہ سوچ کر دل کو سمجھا لیا کہ مولوی صاحب نے بڑی بڑی تقریریں کرکے عوام کو اکٹھاتھا۔ یقیناًان کے اجتجاج کی آواز دور کے ملک تک پہنچ گئی ہو گی۔ کوئی بات نہیں اگر کل اس کی دیہاڑی نہیں لگ سکی ۔وہ اگلے دنوں میں زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کر لے گا۔ویسے بھی سکول شروع ہونے والے ہیں ۔ بچوں اوروالدین کی آمد و رفت زیادہ ہوجائے گی تو اس کو کام بھی زیادہ ملے گا۔
انہی خیالات میں بہتا ہواطفیل اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو وہاں نقشہ ہی بدلا ہوا تھا ۔ اس کا صندوق غائب تھا۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ کل کے جلوس نے اسی درخت کے سامنے سڑک پر ٹائر جلا کر ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے اجتجاج کیاتھا ۔ آگ بھڑکانے کی ضرورت پیش آئی تو ان مجاہدوں کی نظر لکڑی کے صندوق پر جا پڑی ۔ صندوق اٹھا کر آگ میں جھونک دیا۔ مختلف رنگوں کی پالش کی ڈبیاں ۔ الگ الگ پاؤں والی چپلیں۔ لکڑی کا سٹول ،چمڑا ، ٹاٹ ، گاہکوں کے جوتے سب جل کر خاک ہو گئے۔ پانی بھرنے والا مٹی کا کونڈا بھی کرچی کرچی ہو چکا تھا۔ دو دن پہلے پورے مہینے کی بچت سے خریدے دونوں برش بھی جل چکے تھے۔ صرف پالش کی جلی ہوئی خالی ڈبیاں سٹرک سے گزرتے لوگوں کے پاؤں  کی ٹھوکروں سے ادھر ادھر بکھر رہی تھیں ۔
وہ درخت کی جڑ کے ساتھ ٹیک لگا کربیٹھ گیا۔سٹرک پر گاڑیاں رواں دواں تھیں ۔ لوگ آ جا رہے تھے ۔ پالش کی جلی ڈبی کو لگنے والی کسی کے پاؤں کی ٹھوکر اسے جگا سادیتی ۔ بچوں کو سکول بھیجنے کا خواب کرچی  کرچی ہو چکا تھا۔ طفیل سوچ رہا تھا ان لوگوں نے تو اپنا اجتجاج ریکارڈ کروا دیا۔ خدایا میرا اجتجاج تیرے حضور ہے ۔ مجھے یقین ہے میرااجتجاج تیرے ہاں ضرور ریکاڈ ہو گا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *