یہ زریں قول کسی جہاں دیدہ، داناوبینا کے بجائے کسی تجربہ ساز کا لگتا ہے کہ اگر بچے کوناک میں انگلیاں مارنےکی عادت ہوتو اسے ڈھیلے الاسٹک والی نکر پہنائیں۔ یوں نہ رہےگا ہاتھ نہ بجے گی ’’بانسری ‘‘۔الاسٹک ربڑسےبنا ہوا ایک لچک دار فیتہ ہوتا ہے۔جو’’ٹیٹھ ہڈی‘‘بچے کی طرح وہیں آکر رکتا ہے۔جہاں سے ہٹایاجاتا ہے۔ جبکہ نِکر ایک ڈھیلا ڈھالا پہناوا ہے۔یہ پہناوا جتنا لمبا ہوتا جائے اتنا ہی مردانہ دکھائی دیتا ہے اور جتنا چھوٹا ہوتا جائے۔ اتنا ہی زنانہ۔نکرکی لمبائی اور چھوٹائی کا سلسلہ اکثر جاری رہتا ہے اور کئی بار تو نکرسےشروع ہونے والا سلسلہ ’’نہ کر‘‘پر پہنچ کرختم ہوتا ہے‘‘۔
انسان برہنہ پیدا ہوتا ہے اورجب تک وہ خود پہننےکے قابل نہیں ہوجاتا۔اسےسب سےزیادہ نکرپہنائی جاتی ہے۔بلکہ سب سے زیادہ اتاری بھی نکر ہی جاتی ہے۔ پھروہ آہستہ آہستہ بڑا ،اور نکرچھوٹی ہوتی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ فل بڑا ہو جاتا ہے تواسے وہ قدرتی نکر اچھی لگنے لگتی ہے۔ جو نیلگوں سمندروں کے ساحلوں پر لیٹے لوگوں نے پہنی ہوتی ہے۔
میرا دوست شیخ مرید کہتا ہے کہ قدرتی لباس کو پسند کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان لباس فطرت پر پیدا ہوتا ہے اوروہ فطرت کے قریب رہنا چاہتا ہے جبکہ نکر غیرفطری لباس ہے ۔وہ کہتا ہےانسان نے جوپہلا لباس پہنا تھا۔ وہ درخت کے پتے تھے۔ اس لباس کی جگہ نکر پہننے کی ضرورت دو وجوہات کی بناپرپڑی ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا سامنا سبزہ خور جانوروں سے ہوگیاتھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ لباس خشک ہو کر جھڑجاتا تھا ۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوڈشیڈنگ بلکل نہیں ہوتی تھی کیونکہ بجلی ہی نہیں ہوتی تھی۔ٹنڈ کرانا، پیروں پر مہندی لگانا، تربوز کھانا، تخم ِملنگا پینا اور نہر میں نہانا۔ گرمی کی شدت کم کرنے کے چار پانچ آزمودہ طریقے ہوتے تھے۔ نہرمیں نہانے کے لئے نکرکرائے پرملتی تھی۔۔لیکن شلواریا پتلون گروی رکھوا کر۔ نکر کا کرایہ ڈیڑھ ،دو روپے ہوتا تھا۔ نہانے کے لئےپتلون اتار کر نکر پہننے کامرحلہ انتہائی نازک ہوتا تھا۔ کیونکہ وہاں سیربین اچھی خاصی تعداد میں موجود رہتے تھے۔۔نہانے والوں کی آگاہی کے لئےنہر کنارے دو طرح کے بورڈآویزاں ہوتے تھے۔پہلے بورڈپر لکھا ہوتا تھاکہ ’’نہر میں نہانا منع ہے‘‘۔۔ اس بورڈ کے پاس ہی نہانے والوں کاجلسہ ہوتا تھا اور دوسرے بورڈپرہدایت تحریر ہوتی تھی۔’’ نہر میں نکر پہن کر نہانا منع ہے‘‘۔ یہاں پررش تھوڑا کم ہوتا تھا کیونکہ چندایک نوجوان حسبِ ہدایت نہا رہےہوتے تھے۔ دو تین گھنٹے نہرمیں ٹپوسیاں مارتے۔نکرکا کرایہ دیتےاور کپڑے واپس لے کر سیر بینوں سےبچ بچا کرپہنتے اور گھر لوٹ آتے۔
کاچھا، جانگیا، لنگوٹ اور پوتڑا۔نکر کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ وقت کے ساتھ معدوم ہو گئی ہیں اور کچھ نئی جہت کے ساتھ موجود ہیں۔”پوتڑا”نکر کی پہلی فارم ہے۔ اور لنگوٹ دوسری ۔جبکہ کاچھا چوتھی فارم ہے۔پوتڑے شیرخوار پہنتے ہیں اور لنگوٹ کی اوٹ ۔ جوان بھی لے سکتے ہیں۔ جس طرح ہر نکر بڑی ہوکر پتلون بن جاتی ہے۔ اسی طرح لنگوٹ بڑا ہوکر لنگوٹی بن جاتا ہے۔۔
شیخ مرید میرا لنگوٹی دوست ہے۔ ہم یک جان دو لنگوٹ ہیں۔ہمارا ’’چولی اور لنگوٹی‘‘والا ساتھ ہے۔ہماری دوستی باہمی۔صلاح، فلاح اور اصلاح کے اصول پرکھڑی ہے۔وہ پٹیاں پڑھانے کا ماہر ہے۔۔اس کے پاس ازدوجی خانہ جنگی سے بچنے کے ایسے ایسے ٹوٹکے ہیں جن کی عام شوہروں کوروزانہ ضرورت رہتی ہے ۔بلکہ وہ اس معاشرے میں حکمت و دانائی کا مینارہ ہے۔ جس معاشرے پر عورتوں کی حکمرانی ہے اور مردوں کی نکریں ڈھیلی ہیں۔مرید کہتا ہے کہ نکر ایک تعصبی پہناوا ہے۔معتدل معاشروں میں بِکنی پہنی جا سکتی ہے۔لیکن متعصب معاشرے کا پہناوا برمودا شارٹ ہیں۔ہم برمودا شارٹ کی وجہ سےدور دور ہیں اور امریکہ نکر کی وجہ سے متحدہے‘‘۔
میم: (شوہر سے) میرےپاس ثبوت ہے کہ تمہارے اورساتھ والی ہمسائی کے ناجائز تعلقات ہیں۔
شوہر:کونسا ثبوت۔۔؟
بیوی:کل اس کے شوہر نے تمہارا انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔
امریکہ اس وجہ سے متحد ہے تو بھیا۔۔ہم لنڈورے ہی بھلے۔
امریکہ میں لوگ جسے انڈروئیر فرینڈ کہتے ہیں۔ ہم اسے لنگوٹیا کہتے ہیں۔ان دونوں پہناوں میں فرق صرف جوانی اور بچپنے کا ہے۔کسی گھر میں اگر آپ لنگوٹ دیکھیں تو فوراًًً اندازہ ہو جا تا ہے کہ یہاں بچہ پیدا ہوا ہے لیکن اگر کسی گھر میں انڈویر دیکھیں تو یہ سوچنا فضول ہے کہ یہاں کوئی جوان پیدا ہوا ہے۔لنگوٹ اور پوتڑے کی وجہ سےہم بچوں کا بچپن خاصا پرسکون رہا۔گھر کے صحن میں بندھی تاروں، دیواروں ،دروازوں اور کھڑکیوں پرجگہ جگہ پوتڑےیوں لٹکے رہتے تھے۔ جیسے ببول کے درخت پر’ویوربرڈ‘کے گھونسلے لٹکے ہوں۔
لنگوٹ آہستہ آہستہ معدوم ہوتا جارہا ہے۔ اسی لئے لنگوٹئے بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ مارکیٹ میں اب پیمپرز کا راج ہے۔پاکستان کی چوتھی نسل پیمپرڈ ہے۔جو پیمپرکے اوپرنکر پہن کرجوان ہوئی ہے ۔یہ نسل اپنے لنگوٹی یارکو پیمپرڈ فرینڈ کہتی ہے۔پیمپرانہیں پرسکون رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے وہ لوگ جوپیمپرڈ نہیں ہوتے۔ باتھ روم کی طرف بھاگتےرہتے ہیں۔ پیمپرز کے آنے سے مائیں پرسکون ہوگئی ہیں لیکن بچوں کوریشزہوگئے ہیں۔
خبریہ ہے کہ امریکیوں نےاپنے مرتبے کی علامت کے لیےگھروں میں مرغیاں پالنا شروع کر دی ہیں۔جنہیں پیمپرز پہنائے جاتے ہیں تاکہ گھر صاف رہے۔ اس رجحان میں اضافے کی وجہ سے نئی انڈسٹری جنم لے چکی ہے۔جنہیں ’’ پیمپرڈ پولٹری‘‘یا پھر ’’چکن ڈائپرز‘‘کے نام دیئے گئے ہیں۔نیو ہیمپشائر، لاس اینجلس اور نیویارک میں لوگ مرغیوں کے پیمپرز بیچ کرلاکھوں ڈالر کما رہے ہیں۔پیمپرز کے علاوہ مرغیوں کے پروں کا لباس اور پیٹھ ڈھانپنے کے ایپرن کی تیاری بھی شروع ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ مرغ بانی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
ہمارے ہاں دیہاتوں میں مرغیاں پالنے کا رجحان دم توڑ رہا ہے۔ ہم پیمپرڈ تو پہلے ہی تھے۔ اب برائلربھی ہو چکےہیں۔البتہ شہروں میں ماں’’گھریلومرغ بانی‘‘کی ماہر ہوتی ہے۔ لیکن وہ صرف ان برائلروں کو پالتی ہے۔ جواپنے اساتذہ اورمولوی صاحب کی بدولت مرغے بنتے ہیں۔جووقت بےوقت کُکڑوں کڑوں کرتے رہتے ہیں۔ جن کی سوچوں پر رقص بسمل طاری رہتا ہے۔جنہیں چکن پاکس اور برڈ فلو جیسی بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔
مرید کہتا ہے کہ امریکہ ہم سے بہت آگے ہے۔گھریلو مرغ بانی کی وجہ سے امریکہ کی اگلی نسل بن بانگے مرغوں جیسی ہو سکتی ہے۔ پیمپر پہنانے والی بات مرغوں کی حد تک تو ٹھیک ہے۔اگر شُتر مرغ بانی شروع ہو گئی توان کی معیشت مزید مضبوط ہوگی۔وہاں مزید بڑی انڈسٹری لگے گی ۔وہ تو پہلے ہی انڈسٹریلائزیشن کی طرف جا چکے ہیں۔اور ہم تو ابھی اس مقام پر بھی نہیں پہنچ سکے جہاں پیمپرز اور سیاستدانوں کوبروقت بدل لیاجاتا ہے۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں