خاکی ابلیس۔۔۔۔ عبداللہ خان چنگیزی/افسانہ

گندے بدبودار گہرے مٹیالے گٹر کا پانی رواں دواں تھا ہر کوئی اپنا دامن بچاتا ہوا کبھی یہاں کبھی وہاں چھلانگیں لگاتا ہوا جارہا تھا سمجھ نہیں  آتا تھا کہ  شہر کے بلدیاتی نظام کو کس کی نظر لگی تھی یا پھر حرام کے مال نے سب کو اوندھے منہ سونے پر مجبور کر  رکھا ہوا تھا ،کسی کو پرواہ ہی نہیں تھی کوئی پرسان حال نہ تھا شاید یہ بے حسی ہی تھی ان صاحب اقتدار لوگوں کی کہ  اپنے سے نیچے کی  مخلوق کو کیڑے مکوڑے سمجھتے رہے تھے۔

ہر کوئی لعنت کے تین حروف پوری قوت سے شہری انتظامیہ کے دفاتر کی طرف منہ کر کے بھیجتے رہے لاتعداد ارواح لاتعداد لعنتیں انتظامیہ کے کھاتے میں جمع ہوتی رہی۔

شیخ صاحب نماز پڑھنے گھر سے نکلے تو علاقے کے واحد درمیانی راستے  کو  غلاظت سے اٹا ہوا پایا ۔  تو وہ استغفار و مغلظات  کہ توبہ ہی بھلی۔۔ چلتے چلتے بہت کوشش سے مسجد کو پہنچے تو نماز کا وقت ہوچلا تھا شیخ صاحب نے مجمعے پر ایک نظر ڈالی اور امامت کرنے آگے بڑھ گئے۔

نماز کے اختتام پر دعا مانگی گئی “یا اللہ ہم سب کو شیطان کے شر سے ابلیس مردود کے شر سے اپنی پناہ میں رکھ میرے مولا”

بعد دعا شیخ صاحب مجمعے سے مخاطب ہوئے کہنے لگے۔۔۔

میرے بھائیوں ہمارے محلے کی یہ حالت جو آج آپ سب دیکھ رہے  ہیں یہ ان تمام سیاستدانوں کا قصور ہے جو اپنی دوغلی چال چل کر ہم سے ووٹ لیتے ہیں بڑے بڑے وعدے کرکے پھر مکر جاتے ہیں آج دیکھو کل رات سے انتہائی غلیظ کچرا اور گٹر کا پانی سارے محلے کو خراب کرتا رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں اب کے بار اگر کوئی ووٹ مانگنے آئے تو ڈنڈے اٹھا کے اُس کو اِسی گٹر میں زندہ دفن کردینا۔

وہ تو ٹھیک ہے شیخ صاحب لیکن اب اس مسئلے کا حل بتائیں۔ شیدا حلوائی بولا جن کی دکان اسی گلی میں تھی جس میں گٹر کی بدبو ناچ رہی تھی۔

حل یہ ہے کے سب سے پہلے ایک کپڑے پر یہ الفاظ لکھ کر محلے کے سب سے آگے لگا دیا جائے کہ  اگر کوئی امیدوار ووٹ مانگنے آیا تو اسے زندہ جانے نہیں دیا جائے گا

اور دوسری بات یہ کہ  اب یہ ہم کو خود ہی کرنا ہوگا کہ   یہ گٹر میں کیا مسئلہ پیش آیا ہے کہ  بند ہوگیا مردود۔۔کپڑا لا کے اُس پر لکھائی کرکے سب سے پہلے محلے کے دروازے پر لگایا گیا،اب اِس گٹر میں اترنے کی خاطر ایک خاکروب کی تلاشی شروع ہوگئی بڑی مشکل سے ایک دبلا پتلا سا  خاکروب راضی ہوا دو ہزار پر بات ہوئی خاکروب گٹر کے مین سیوریج میں اترنے لگا لیکن پانی اتنا زیادہ تھا کہ  وہ اُس کے سینے تک پہنچ گیا بدبو کی وجہ سے وہ یک دم باہر نکلا اور سانس سیدھی کرنے لگا۔

لگتا ہے اِس کے آگے سوراخ میں کچھ پھنسا ہوا ہے اور وہاں تک مجھے تیر کے جانا ہوگا پانچ ہزار سے کم میں میں ڈبکی نہیں لگاؤں گا خاکروب بولا۔۔۔۔

ایک شور اُمڈ پڑا زیادہ ہے بہت ہی ناانصافی ہے وغیرہ وغیرہ

لیکن تھا وہ بھی بہت ڈھیٹ پورے پانچ ہزار پر بات پکی ہونے کے بعد ایک بڑا سا پلاسٹک کا تھیلا لایا گیا جو اُس نے اپنے سر اور منہ کے گرد لپیٹا اور گٹر میں اُتر گیا سب سانس روکے دور دور کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے بدبو کی وجہ سے سب نے منہ چھپائے ہوئے تھے کہ  اچانک گٹر میں ہلچل ہوئی اور خاکروب کے دونوں ہاتھ پانی سے بلند ہوتے گئے گٹر سے نکلتے ہوئے وہ خود کچھ ہیجانی کیفیت کا شکار تھا اُس کے ہاتھوں میں وہ کچھ تھا جو گٹر کے سوراخ میں پھنسا ہوا تھا۔۔۔

باہر نکل کر اُس نے وہ زمین پر آرام سے رکھا سب نے دیکھا اور ایک دوسرے سے آنکھیں چرانے لگے خاکروب بنا کچھ لئے ایک طرف چل پڑا شاید وہ “مادر زاد برہنہ ایک ننھا وجود” جس کو دنیا میں آئے کچھ ہی لمحوں بعد گٹر کے حوالے کیا گیا تھا اُس کے ضمیر کو بہت کچھ دے چکا تھا، شیخ صاحب نے ابھی لکھے ہوئے وہ کپڑے کو اتارنے کا اشارہ کردیا۔۔۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *