• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • روداد ِ سفر:امتحان اور امتنان۔۔۔۔۔۔۔ایڈوکیٹ محمد علی جعفری/آخری قسط۔

روداد ِ سفر:امتحان اور امتنان۔۔۔۔۔۔۔ایڈوکیٹ محمد علی جعفری/آخری قسط۔

یہ سفر نامے کا آخری حصہ بھی ہے ،اور بازگشت بھی!

بس چل رہی ہے اور لوگوں کا بس نہیں چل رہا کہ پلٹ پلٹ کر دیکھا کیے، کچھ زیرِ لب مسکرا رہے ہیں،کچھ سسک رہے ہیں لیکن سب کا دل خوشی اور غم سے ملفوف ہے.

“بھئی اطراف کی زیارات رہ گئی ہیں، حضرت حُر کا مزار، اور طفلانِ مسلم بن عقیل(مسیّب)”،جلدی جلدی زیارت کیجیے  گا، پھر وہاں سے بغداد نکلیں گے اور سب کلیئر کراکے جہاز کا انتظار کریں گے”, سالار کی آواز گونجی۔

“اچھا،اچھا”,
پانی اور انار فلیور کی قلفی جس سرعت کے ساتھ سب میں بانٹی گئی، اسی تیزی کے ساتھ کھا بھی لی گئی۔

مزارِ حر آگیا،

اے حر کسے ملی یہ شہادت کی زیب و زین؟
مرقد پہ تیری کرتی تھیں بنتِ علی یہ بین.
بالی پہ تیرے آئی ہیں،خود مادرِ حسین!
اس مرتبے کے بعد تو سب تجھ کو مل گیا,
اے حر, حسین مل گئے، رب تجھ کو مل گیا!

حر کو کون نہیں جانتا، اور کس کی ہمت تھی کہ حسین کے فرس کی لجام تھام کر کھڑا ہوجاتا؟؟
حر کا تعلق طبقۂ اشرافیہ سے تھا اور وہ اس خاص سپاہ کے کماندار تھے جسے حسین ابنِ علی پر نظر رکھنی تھی اور ان کا رستہ روکنا تھا۔

حر نے اپنا کام دلجمعی سے کیا لیکن دل نے انہیں رکنے نہ دیا اور وہ رات کو 9 محرم کی،اپنے خیمے میں بچوں کی طرح لوٹتے رہے،
رات کے اس پہر وہ سب چھوڑ کر مولا کے پاس آگئے اور اپنی خطا   کے  کفارے میں سب سے پہلے حسین اور ان کی آل پر وارے گئے!!

حسین نے ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر کہا،”تم دنیا و آخرت،دونوں میں آزاد ہو اے حر!!”

اور حر نے عالمِ حریت میں مسکراتے ہوئے دنیا چھوڑ دی،

ان کا روضہ کربلا سے اچھا خاصہ دور ہے کہ جانے کے لیے موٹر کا احتیاج رہتا ہے، ان کے قبیلے والے انہیں اپنے دیار میں لے گئے برائے تدفین۔

جب لوگ بچا لے گئے،
،لاشے شہداء کے،
حق اپنا جتا کے،
بس اک تنِ شبیر تھا، پامالی کی زد پر!!!

یہ اجرِ رسالت ہے؟
نبی کا نواسہ بے گور و کفن صحرا کی خاک میں غلطاں ہے،
اس کی بہو بیٹیاں،مستورات بے کجاوہ اونٹوں پر بدترین حالت میں سوار کی جارہی ہیں۔
لیکن دین سلامت ہے،

اگلی منزل، مسلم بن عقیل کے دو چھوٹے بیٹے تھے جو باپ کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھا کر نرغۂ اعداء میں گھر گئے،

دونوں بھائیوں کو نفل بھی پورے ادا نہیں کرنے دئیے گئے اور محمد و ابراہیم کو نہر کنارے بے رحمی سے ذبح کرڈالا۔

یہاں سعودی زائرین نظر آئے جو اس سے ایک رات قبل کربلا میں حضرت عباس کے حرم کے باہر جلوس میں نوحہ خوانی کر رہے تھے، میں نے انہیں، ان کے تیز لہجے اور لال رومال سے پہچانا،

میرے ساتھ تابش رضوی تھا میرا دوست،وہ ہاتھ میں دو کفن لیے میرا ہاتھ پکڑے تیزی سے حرمین جارہا تھا، ہم دونوں کی وہاں آخری رات تھی، میں نے پوچھا،”کیا اب مس کر رہے ہو کفن؟”

کہنے لگا،”نہیں، میں بے کفن مولا کو کفن کا نذرانہ پیش کرتا ہوں، حسین اور ان کے بھائی کے نام پر بے گور و کفن کو کفن بھی ملے گا”,

دل سے خوشی ہوئی یہ سن کر۔

اس کا نام غدیر ہے، بہت سوں کو پتہ نہیں ہوگا کہ غدیرِ خم وہ جگہ ہے جہاں مولا علی کو نبی اللہ نے “من کنت مولا” والی حدیث کے عنوان سے مولا بنایا،

تو میں نے یہ سب کیوں بتایا؟
کربلا کا غم کوئی مذہبی رسم نہیں ہے، یہ دل کی دنیا ہے۔
یہ ایکٹوزم ہے، یہ مظلومیت کا استعارہ ہے، یہ ظالم کے خلاف للکار ہے،

یہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی شامت ہے!

یہ “ہیہات منا الذلہ(ذلت ہم سے دور ہے), کا نعرہ ہے”
یہ “لبیک یا حسین” کی پکار ہے۔

یہ وعدہ ہے، کہ جیسے لوگ غدیر بھول گئے،
نہ ہم کربلا بھولیں گے، نہ بھولنے دیں گے!!!

ہمارے ساتھ ،ہمارے اچھے پیارے دوست منہال بھی تھے جو اظہر زیدی(میرے شاگرد) کے ہمراہ بطور منقبت و نوحہ خواں کربلا آئے،
ہم تینوں (میں، تابش اور منہال) الگ قافلوں کی صورت آئے لیکن “جعفرِ طیار” والے ہر جگہ کچہری لگا لیتے ہیں۔

منہال نام کے، حضرت زین العابدین کے اک صحابی گزرے ہیں، رقیق القلب تھے،بعدِ کربلا سید سجاد 40 سال تڑپ تڑپ کر روتے رہے، ان کے سامنے عید کا ذبیحہ نہ کیا جاتا، گوشت کے خوان ڈھک دیے جاتے، مبادا وہ پوچھ لیں کہ ,”کیا اسے سیراب کرکے زبح کیا تھا؟”,

جواب ملتا ، “جی فرزندِ رسول خدا، الحمد للہ مسلمان ہون، احکام جانتاہوں”,تو وہ رو کر کہتے، ” ہائے میرے بابا کو بھوکا پیاسا ،کند چھری سے ذبح کیا گیا, وا حسینا،وا غربتا”،

تو منہال اپنے مولا سے پوچھتے کہ،” آپ کی میراث توشہادت ہے پھر اتنا گریہ کیوں؟”
ان سے علی ابن حسین کہنے لگے،” بے شک ہماری میراث شہادت ہے لیکن میری ناموس کو قریہ قریہ، بستی بستی،کوفہ و شام کے بازار اور دربار میں پھرایا گیا، (کیا یہ بھی میری میراث ہے؟؟)”

خیر، تابش نے دو کفن،دونوں سیدوں کو ادب سے نذر کئے اور الٹے قدم پھر آیا میرے ساتھ۔
ہم گلے ملے اور واپس ہوٹل۔

گیارہ بجے بغداد کے ہوائی اڈے پہنچے۔
سب نے یہی کہا،”اتنی جلدی آگئے، سوا چار کی فلائٹ ہے، اتنی دیر کیا کریں گے؟؟”

لیکن وہاں پانچ دفعہ چیکنگ ہوئی جس میں تین دفعہ کتوں سے بیگ سنگھوائے گئے اور “فرسکنگ” بمعہ چیکنگ ہوئی!!

ہمارے سامنے 3 جیمر لگی لینڈ کروزرز میں امریکی بھی آئے، اور گئے، غالباً فوجی لگتے تھے اپنے جثے سے۔

جہاز، بغداد(عراق) سے دوحہ (قطر),وہاں سے کراچی(پاکستان) جانا تھا۔

آخری کاؤنٹر پر آئے ہم، “انتَ صباح(گڈ مارننگ)” کہا،
مگر اب تو دوپہر بھی گزر گئی تھی۔

جہاز اڑا اور ائر ہوسٹس نے عربی میں ہدایات دینا شروع کیں،ختم ہونے پر اک منچلے نے زور سے “آمین” کہا اور سب زور دار قہقہے کے ساتھ ہنسنے لگے،

سب تھکے ہوئے تھے لیکن نیند نہیں آرہی جہاز میں،

اسی اثناء میں دوحہ آگیا، اور 6 بج گئے،
یہ اک نیا نویلا شاندار ہوائی اڈا ہے جو کسی بھی 5 ستارہ ہوٹل سے کم نہیں۔

واپس 10 بجے فلائٹ تھی، پونے 9 پر چیک ان شروع۔

یہ والا جہاز اے330ہے، قطر ائرویز کی ٹیگ لائن ہے
Going places together
یعنی “معاًالی کُّلِ مکان!”
وہ ساری ہدایات اور ٹیگ لائن اسکرین پر چلیں تو ہمارے عباس ٹاؤن والے ساتھی کہنے لگے،

“ایسالگ رہا ہے دھمکی دے رہا ہے”، ہاہاہا۔

چونکہ فلائٹ کراچی جارہی تھی اس لئے اردو میں بھی ہدایات دی گئیں، اور اس زبان کا معیار انتہائی تھرڈ کلاس، ایسا لگ رہا تھا کہ پرائمری کا بچہ املا لکھوا رہا ہو، اٹک اٹک کے اور غلط!

فضائی میزبان فلیپینو تھے لیکن کھانے میں چکن پلاؤ،

ہم بارہ بجے کراچی پہنچے لیکن کراچی دو گھنٹے آگے ہے۔ تو یہاں

میں ہوں،
رات کا دو، یوں بجا ہے
خالی رستہ بول رہا ہے۔

ارائیول پر آئے تصویر کھنچوانے، پھر پاسپورٹ پر ٹھپہ لگوایا انٹری کا،

آخری انٹری آفیسر کو جب پاسپورٹ دکھایا تو وہ کہنے لگا، “آپ کی انٹری کہاں ہوئی ہے؟ یہاں تو کہیں نہیں، کیا آئے ہی نہیں آپ؟؟؟”

ہم سٹپٹائے اور پاسپورٹ کے ورق چھانے، کونے کھدرے میں سے انٹری کی مہر نکل آئی،
“آپ ہی کے پیئر نے لگائی ہے”,”وہ مسکرائے اور ہم کراچی آگئے، آفیشلی!!

باہر میرا شاگرد کھڑا تھا دیباج عابدی، اس سے مل کر بہت اچھا لگا،اس کے بھی والدین کربلا کے عازم تھے ،وہ ان کا ویٹ کر رہا تھا۔

دور سے میرے بہنوئی نمودار ہوئے، وہ میری بہن کی نند کو لینے آئے تھے،مجھ سے کہنے لگے ,”،مبارک ہو زوار!!تمہیں اوبر/کریم کرادوں؟”

میں نے منع کیا،ان سے گلے ملا اور تیزی سے آگے آگیا، سامنے مہدی اور قافلہ سالار گاڑی میں بیٹھے تھے، اس نے مجھے آواز دی، اور میں اس کے ساتھ رات سوا چار بجے گھر آگیا۔

اب سب کے دل میں رودادِ سفر زندہ رہے گی۔۔۔۔۔ہمیشہ!!!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *