رودادِسفر:بندۂ بے بدل اور قتیلِ عدل۔۔۔۔ایڈووکیٹ محمد علی/قسط 4

جس دن ہم نے نجفِ اشرف سے وداع لیا ویسی ہی سڑی ہوئی گرمی تھی جو اس خطے کا خاصہ ہے، بس حبس نہیں تھا کہ لوُ کی دعا مانگتے۔۔۔۔۔ لیکن انڈہ سڑک پر ڈالتے تو اس سے گیس کی بچت ضرور بالضرور ہوجاتی اور وہ پک پکا کے ماکولات کے دائرے میں تو آہی جاتا۔

فہرست طویل ،مسافر نواز بہتیرے۔۔۔۔
ہمیں جہاں جہاں جانا ہے وہ مقامات نور کی طرح پھیلے ہوئےہیں۔۔۔۔

مسجدِ سہلہ، مسجدِ حنانہ،مزارِ میثمِ تمّار، دارِ امیر المومنین علی، اس کے پیچھے دارالامارہ کا کھنڈر، اس سے ملحقہ مسجدِ کوفہ اور اس میں موجود جائے شہادتِ حضرت علی و مختار، اور مسلم بن عقیل،مختارِ ثقفی اور ہانی ابنِ عروہ کا مزار۔۔۔

اے سی تو چل رہا ہے لیکن بس کھٹارا ہے جس کے سبب، سب کی موسم نے ایسی تیسی کی ہوئی ہے لیکن سب کے سامنے کربلا جیسی منزل ہے تو سارے کے سارے کرب و بلا بھول کر، رنج و بلا کی تصور کئے بیٹھے ہیں۔۔۔۔

مسجد حنانہ کی یہ خصوصیت تھی کہ خلیفۂ وقت علی ابنِ ابی طالب کا جنازہ جب اس کے سامنے سے گزرا تو اس کے مینار بالتعظیم جھُک جھُک پڑے!!، 20 سال بعد سن 61 ہجری میں اسی مسجد میں حسین ابنِ علی کا سر فوجِ شام کے ساتھ آیا تھا جس کی یادگار اب چوبی ضریح کی صورت محفوظ ہے۔
“کتنی سیلفیاں لوگے بھائی، بس کردو!!”،
“رکو ایک منٹ پہلے نماز پڑھ لیں”

باہر آئے تو محلے میں مقیم نوحہ خواں صفدر کلیم نے سامنے سے آلیا،میں منبر و محراب میں محو تھا؛ کہنے لگا،”اب بندہ عراق آگیا تو دیکھے گا بھی نہیں؟, ہم اس کے علاوہ اور کیا کہتے،”محبوب سامنے ہو تو کوئی اور کہاں دکھتا ہے؟”,

ہنسا، گلے ملا اس سے اور جب مڑا تو مجی شاہ آچکے تھے مع حواریین کھڑے ہیں اور اپنے اپنے متعلقین سے چھپ چھپ کر سگریٹ پی رہے ہیں۔ان سے مصافحہ و معانقہ وغیرہ اور چل میرے بھائی۔

وہاں سے ہوکر صحابیِ علی،کمیل بن زیاد کا مزار تھا جنہیں 90 سال کی عمر میں حجاج بن یوسف نے اپنے سامنے قتل کروایا، یہ حجاج کا آخری شکار تھے۔۔۔۔۔اس کے بعد وہ خود بھی ایک عجیب بیماری کے ہاتھوں مر گیا!
اگر پوری دنیا کے پاس ظلم و جور کی علمبرداری کے لیے چنگیز،ہلاکو و ہٹلر ہیں، تو مسلمانوں کے پاس حجاج ہے جس نے سنگل ہینڈڈلی تقریباً دو لاکھ بندے مارے ہیں!!

اگلی منزل مسجدِ سہلہ تھی جہاں بہت سے انبیاء و آئمہ کا مصلی موجود ہے۔ وہاں سورج سوا نیزے پر اور زیارات کا نقشہ ایسا ہے جیسے کوئی بیس بال کا کھلاڑی ہوم رن بنائے,واللہ!! جاکر ملاحظہ کیجے گا!

اس کے بعد جہاں گئے وہاں جانے کو سب ہی تڑپ رہے تھے، جی، کوفہ۔۔۔۔

اس شہر کے بارے میں ایک بہت ہی مشہور مثل ہے، “الکوفی لا یوفی” یعنی کوفی بے وفا ہیں،اور اہلبیت سے محبت کے باوجود اس شہر کے لوگوں نے ان کی نصرت نہ کی اور انہیں تاراج ہوتا دیکھتے رہے لیکن صاحبو، انہوں نے جھوٹی ہی سہی، اس پر آشوب دور میں کم از کم محبت کا دم تو بھرا ناں، دوسروں نے تو وہ بھی نہ کیا،

ضد کی ہے اور بات مگر خوُ بری نہیں،
بھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کئے۔

کوفہ شہر مسلمانوں کی سن 36 تا 40 ہجری راجھدانی رہا ہے جب حضرت علی ،سریر آرائے سلطنت ہوئے۔

یہ شہر اسٹریٹجک اہمیت کی حامل چھاؤنی تھا جو حضرت عمر نے آباد کیا تھا۔عرب و عجم کا سنگم، یہاں سے فوج بہتر طور سے کمک پہنچا سکتی تھی،

ناک کی سیدھ میں لشکرِ شام سے ٹکراجائیے، پیچھے رے و خراسان کے محلات ہیں، نظر آنے والے اور نہ آنے والے عفریت سےدفاع بھی تو کرنا ہے ناں!!

حضرت علی کو اپنے چچازاد رسولِ خدا کا مدینہ کس حال میں چھوڑنا پڑا، یہ الگ کہانی ہے لیکن وقت کی نزاکت نے اس شہرِ کوفہ کو منصۂ شہود پر اہم بنا دیا تھا۔

قصہ مختصر یہاں سے وہ شخص گزرتا تھا جس نے احتساب کا وہ کڑا پیمانہ بنایا کہ بعد میں حکومت کرنے والے انگشت بدنداں رہ گئے!!!

آپ نے فرمایا، “اے لوگو! میں جس حلیہ میں تمہارے پاس بطور حکمران آیا ہوں،اگر دورانِ حکومت اس سے مختلف ہو جاؤں تو سمجھ جانا کہ علی نے تمہارے حق میں خیانت کی ہے”

یہاں سب سے پہلی زیارت میثم التمار (کجھور فروش)کا مزار ہے جن کی دکان پر خلیفہ بیٹھ کر ان سے باتیں کیا کرتے اور بعض دفعہ ان کی جگہ کھجور بھی بیچا کرتے!

ان کو امام حسین کی رستاخیز/انقلاب کے دوران انہی کے اگائے ہوئے کھجور کے پیڑ پر مصلوب کر دیا گیا تھا،اسی درخت کو انہوں نے سب جانتے ہوئے بھی 20 سال سینچا۔۔۔۔

وہیں شیڈ بنا ہوا ہے جہاں ،عراقی و ایرانی فیمیلیز کھا پی رہی ہیں، پینے کا پانی بھی ہے، وہیں سب نے اس سفر کی لذیذ ترین چکن بریانی کھائی، لیکن انار کم اور بیمار زیادہ۔۔۔۔

سب جا جا کر دیگ کا دیدار کر کے کہتے، “ہل من مزید؟(اور ہے؟؟)”،لیکن البریانی لیس الموجود!!!

عدنان بھائی فرماتے ہیں، “یار سالے نے بریانی میں ڈنڈی مار دی”
کوئی بات نہیں بقیہ کے لیے فٹافٹ فلافل بنوالی گئیں اور انہیں کھلا بھی دیا گیا!!! لیکن،

ایسا کہاں سے لائیں کہ “بریاں” کہیں جسے۔۔۔۔۔

وہاں سے قریب ایک کلومیٹر دور مسجد کوفہ ہے!

مسجدِ کوفہ کے برابر بیت الشرف ہے حضرت علی کا,ایک مطلق العنان سربراہ کے لیے قدرے چھوٹا گھر جہاں بیس سال بعد بننے والے مخالف امیرِ کوفہ(ولید بن عقبہ) کو اتنا ہی روزانہ کاوظیفہ ملتا جتنا اپنے بیٹے حسن ابن علی کو، اور تو اور اپنے قاتل، ابنِ ملجمِ مرادی کو بھی اپنے برابر ہی وظیفہ دیا!!

اسی گھر میں ان کے بڑے بھائی عقیل تنگدستی کی شکایت لے کر آئے اور بیت المال سے مالی اعانت چاہی تو اپنی آدھی تنخواہ آفر کردی، وہ ہنس کر کہنے لگے کہ،” یہ تو آپ کے لیے بھی بہت ہی کم ہے،میرا کیا ہوگا اس سے”

اسی گھر میں آفتابِ امامت غروب ہوا،

اسی گھر میں امورِ سلطنہ نمٹا کرامام اپنے معاون حضرت عمارِ یاسر سے کہتے کہ چراغ بجھائیے، یہ امانت کا پیسہ ہے،اب خانگی/نجی امور کی باری ہے، اسے ضائع نہ کیجے۔

اسی گھر میں علی ابن ابی طالب کے کھودے ہوئے کئی ایک کنوؤں میں سے ایک کنواں تھا!

اسی گھر میں علم کے در کو غسل دیا گیا،

اسی جا پر معدِنُ الرسالہ کو کفن پہنایا گیا،

یہیں کہیں سیدانیوں کی آہ و بکا جاری رہی ہوگی،

یہاں کسی دیوار پر سر ٹکا کر حسن و حسین باپ کے فراق میں آنکھوں سے نیر بہارہے ہونگے،

اسی دروازے کے باہر ملاقاتیوں اور احباب کا جم غفیر حالات کے کروٹ لینے کا انتظار کر رہا ہوگا!

یہی داخلی دروازہ ہوگا جب امیر المومنین کی داڑھی، اپنے سر کے زخم سے خون میں تر ہوگی اور وہ اصحاب کے سہارے یہاں سے آخری دفعہ آئے ہونگے۔

مگر ہوا کیا؟؟؟

مسجدِ کوفہ ہے،روزہ دار ہے،
فرق سے اونچی لہو کی دھار ہے،
ہائے دامادِ پیمبر کے لیے،
خون میں ڈوبی ہوئی تلوار ہے،

لیلۃ القدر میں،کوفہ کی مسجد میں جس جگہ مقامِ ضربت ہے، اس سے قریباً 50 میٹر پیچھے مقامِ جبرئیل ہے،

جلتے ہیں جبرئیل کے پر جس مقام پر،
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو!!

سر پر ضربت لگی،حسنِ مجتبیٰ نے نماز مکمل کرائی،بھاگم بھاگ دوڑا آیا حکیم، کہنے لگا “انہیں دودھ پلاؤ، کمزوری ہے شدید”، دودھ آیا، کہنے لگے کہ،”اس(قاتل) کو پلادو”،
قاتل کے چہرے کا رنگ ہلدی کی طرح پیلا،
اسے قریب بلایا اور کہا،”کیا میں تیرا اچھا امام نہیں تھا؟”
اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔۔

پھر مومنین کا امیر دنیا سے ایسا روٹھا کہ ایک مدت تک آپ کی قبر (نجف میں) بھی عامۃ الناس سےپوشیدہ رہی۔۔۔۔

باہر آئے تو کوفے کی مسجد میں وارد ہوئے،
اس کے صحن میں اب پانی پینے کا فوارہ ہے، جو کہتے ہیں کہ جناب نوح نبی اللہ کے وقت کا تندور تھا جو وفورِ آب سے ابلنے لگا تو ہر خشک و تر بہا کر لے گیا۔نوح کی گریہ و زاری پر انہیں یہ نام دیا گیا!!

طوفانِ نوح نے تو ڈبوئی زمیں فقط
گریہ کیا،تو عالَمِ امکاں سمو گیا!!!!!

“آپ کے پاس صرف ایک گھنٹے کا وقت ہے بھئی، جلدی سے یہاں زیارات وعبادات کیجئے  ،ہم لیٹ ہورہے ہیں”،

عدنان بھائی کا الٹیمیٹم آیا، گرمی تھی ، بس کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کی کھوپڑی بھی گرم ہورہی ہوگی!!!!

اب ہوتی ہے اصل میں دیری،
اور قافلے والوں سےمندرجہ ذیل باتیں سننے کو ملتی ہیں

“اماں چپل کہاں رہ گئی”

,”میرے موبائل کا ٹوکن تو فلاں بھائی کے پاس تھا”

“یار بھوک لگ رہی ہے”

“ابے سگریٹ دیدو یار، میرا ڈنڈا اتنی جلدی پتہ نہیں کیسے ختم ہوگیا”

“یار یہ عربی میں باتھ روم کو کیا کہتے ہیں؟”

“ان عربوں کے کھانے کتنے پھیکے ہیں”,

وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔

اتنی لق ودق مسجد ہے کوفے کی، یہاں بہت سی مہمات،سازشیں، بغاوتیں پیدا ہوئیں اور اپنے منطقی و غیر منطقی انجام تک پہنچیں۔۔۔

آگے بائیں جانب مسلم بن عقیل کا مزار شریف ہے،جو امام حسین کے تین میں سے ایک سفیر تھے جن کے ساتھ پہلے پہل تو 7 ہزار کا لشکر جمع ہوگیا تھا حکومتِ وقت کے خلاف، لیکن مغرب تک ایک بھی نہ بچا اور مسلم کے منہ سے نکلا
“یا اشباہ الرِجال، ولارِجال”
اے مردوں جیسی شکل والے بزدلو!!!

انہیں گھیر لیا گیا اور بھوکا پیاسا امیرِ کوفہ و بصرہ عبیداللہ ابن زیاد کے سامنے لایا کر دارالامارہ کی چھت سے دھکیل دیا گیا جس سے انکی شہادت واقع ہوئی،

ان کے مددگار ،یکے از رئیسانِ کوفہ ہانی بن عروہ تھے جن کے ہاں مسلم ٹھہرے تھے، انہیں “ہائی ٹریزن” یعنی بغاوت کے جرم میں کوفہ کی کچرا کنڈی پر تن سے سر جدا ہونے کی سزاملی۔جلاد نے کہا،”سر جھکاؤ ،گردن صحیح کٹے تاکہ”, کہنے لگے،”میں اتنا سخی بھی نہیں ہوں کہ قاتل کو اپنا سر بھی پیش کردوں”،

مسلم کی قبر سے متضاد سمت پر ہانی فروکش ہیں۔۔

مسلم کی قبر سے دائیں جانب ہم مختارِ ثقفی کی قبر پر پہنچے جنہوں نے بعدِ کربلا تین سال کے لیے ضمامِ حکومتِ عراق اپنے ہاتھ میں لے کر کربلا کے قاتلوں سے انتقام لیا،

ان کا چراغ مصعب بن زبیر نے گلُ کیا، وہ زخمی تو دار الامارہ سے باہر نکل کر ہوئے لیکن جان انہوں نے مقامِ ضربتِ امیر المومنین پر دی اور ان کی گردن تب اتاری گئی جب یہ یقین کرلیا گیا کہ تیر کھا کھاکر ان کے جسم میں جان نہیں رہی،

ہم پھرکی کی طرح وہاں گھومتے رہے اور وقتِ معینہ پر بڑے دروازے پر بیٹھ گئے،

وہاں عزاداروں کا شوروغوغا جاری تھا،

کہیں مولوی حضرات مسجد کے اعمال کروارہے تھے،

کہیں ٹور گائڈ جگہوں کی تفصیل بتا کر مبہوت زائرین سے اپنے پیسے کھرے کیے جارہے ہیں۔۔۔۔

یہاں ہم مسجد کے سفید ٹھنڈے ماربل کے ٹائلوں پر آہستہ آہستہ چل رہے ہیں اورجائے طوفانِ نوح پر پانی پی کر سوچ رہے ہیں کہ اس کی تندور کی روٹی کیسی رہی ہوگی،

ہائے کیا بات،کورے برتن کی!!

زائرین کا ایک گروہ نیلے رومال گردن پر ڈالے بین کر رہاہے صحنِ مسجد میں۔۔۔۔۔
ہم دور بیٹھے ہیں ۔۔۔
ان میں زیادہ تر بوڑھے ملیح چہرہ لوگ ہیں جو اپنی زبان میں نوحہ و مرثیے پڑھ رہے ہیں۔۔۔۔

“بلتی ہیں کیا؟”، ہم نےپوچھا
جاوید بھائی کہنے لگے،”بھارتی کشمیر سے ہیں”،
“اوہ اچھا اچھا”،
سمجھ کچھ نہ آیا لیکن جس دھیمی لے میں وہ تڑپ تڑپ کر نوحہ پڑھ ہاتھ اٹھا کر زارزار رو رہے تھے، سب کا دل پسیج گیا۔۔۔۔

ان کا پروگرام ختم ہوا تو میں نے ان سے ہاتھ بڑھا کر پوچھا کہ “آپ لوگ کہاں سے ہیں؟”, انہوں مسکراہٹ سے کہا کہ،” بٹگرام وادئ کشمیر”، اور یہ سن کر کہ میں کراچی سے ہوں، انہوں نے میرا ہاتھ چوم لیا اور گرمجوشی سے گلے ملے۔

چونکہ دروازے سے قریب بیٹھے تھے تو وہاں سے عمانی و کویتی زائرین بھی آرہے تھے۔

لیکن اب تو تقریباً دو گھنٹے ہوگئے بھئی؟
عدنان بھائی و ہمراہیان حیران و پریشان۔۔۔۔ آدھی خواتین ندارد۔۔۔۔

ہیاں سے تو سب قافلے کو بلاؤ،
ثناء خوانِ اقرارِ رجعت کہاں ہیں؟

لیکن اب تک تو ہمارے پاؤں میں بھی چھالے پڑ گئے،
اور پھر کہیں جا کے سب واپس جمع ہوئے اور ہم نے مسجدِ کوفہ کی مشہورِ زمانہ دراڑ بھی دیکھ لی(جو قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے)، اس کے اطراف میں، چشمِ تصور سے ہم دیکھتے ہیں۔۔۔۔کہ،

دارالامارہ سے مسلم کا جسمِ نازنیں جانبِ زمین آرہا ہے۔۔۔۔
اس جانب ہانی کا خون زمین کی جانب گر رہا ہے۔۔۔
مختار اپنے وجود کو گھسیٹتے ہوئے جانبِ مسجد جارہے ہیں۔۔۔
اور اس جانب انتہائی مخالف سمت، کھجور فروش (التمار)میثم اسی خرمے کے درخت پر علی کی حب میں مسکراتے ہوئےجھول رہے ہیں،

لیکن یہ دارالامارہ یعنی گورنر ہاؤس کھنڈر کیسے بنا؟؟؟

ایک دن یہاں ایک تقریب منعقد تھی اور امیر کے سامنے مخالف سردار کاسر طشت میں تھا۔۔۔۔

درباری شاعر نے استغفار پڑھا اور استفسار پر کہنے لگا،

“یاللعجب! ایک وقت تھا کہ اس تخت پر ابنِ زیاد بیٹھا تھا اور طشت میں حسین ابنِ علی کاسر تھا،
پھر تخت پر مختار ثقفی تھے اور طشت میں ابنِ زیاد کا سر تھا،
پھر مسند پرمصعب ابنِ زبیر تھے اور طشت میں مختار کاسر۔۔۔
اور آج مصعب کا سر طشت میں ہے اور تخت پر آپ براجمان۔۔۔۔۔”
امیر یہ سن کر متحیر ہوکر شاک کی حالت میں رہا، پھر تیز قدم اٹھا اور للاکر کر کہنے لگا،
“اس منحوس قصر کو ڈھادو!!!”

آج بس اس قصرِ سلاطینِ زمن کی قدِ آدم نِیو باقی ہے۔۔۔۔،رہے نام اللہ کا!!!

پھروہی اجنبی شہر کے اجنبی راستے , واپسی اور وہی متوقع گرما گرمی،
ڈرائیور صاحب عربی میں قافلہ سالار کے مدارج بلند کر رہے ہیں اور آدھے گھنٹے کی بحث کا لب لباب یہ رہاکہ جتنی دیر لوگوں نے آنے میں لگائی ہے، شبِ انتظار گزرنے تک تو وہ ایک اور چکر کربلا کا لگا کر نوٹ (ڈالر) کھرے کرلیتا!!!

اسی لیے اس نے کھڑے لہجے میں کھری کھری سنائیں، یہاں کسی منچلے نے اس کی بات ختم ہونےپر زور سے “آمین” کہ دیا،

سب ہنس پڑے مگر ہم چپ رہے،منظور پتہ نہیں کیا تھا، اور سفر دوبارہ شروع، ہمیں ساڑھے گیارہ بجے کربلا پہنچ جانا چاہئے تھا، لیکن ارضِ معلیٰ پر ناکہ بندی کے حصار میں جب پہنچے تو “کربلا ترحب بکم” پڑھتے پڑھتے 1 بج کر 35 منٹ ہورہے تھے رات کے!!!!

“مہدی بھائی، سر میں تھوڑا درد ہورہا ہے”……

سرزمینِ دشتِ بلا آگئی۔۔۔۔۔
کرب و بلا آگئی۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے!!!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *