مجھے دفتر آنے کے لئے عموماً لفٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ میرا دفتر کسی مین روڈ پر نہیں ہے اور اگر میں اپنے گھر سے مین روڈ تین کلومیٹر پیدل آ بھی جاؤں تو دفتر تک مجھے تین← مزید پڑھیے
نجی شعبے کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ صحت مند مقابلے کی فضا کارکردگی کو خوب سے خوب تر بنانے کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اچھا کرنے پر سراہے جانے کی خوشی دیدنی ہوتی ہے ،کچھ ایسا ہی← مزید پڑھیے
مجھے آج بھی وہ شام اک اک لمحے کی تفصیل کے ساتھ یاد ہے۔ میں لندن کی فلیٹ سٹریٹ کی راہ پر بھٹک رہا تھا۔ خلیفہ قرطبہ عبدالرّحمٰن سوئم نے مجھے سفارتی وجوہات کی بنیاد پر یہاں بھیجا تھا۔ انگلستان← مزید پڑھیے
ملک کی مشہور ترین یونیورسٹی کی مضبوط ترین مذہبی سیاسی جماعت کے طلباء ونگ کے ناظم الامور کے طور پر صوبائی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کا پہلا موقع ہے. مرکزی ناظم الامور ولادتِ مولانا کے حوالے سے گفتگو← مزید پڑھیے
میں ایک مُسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی ہمارے گھرانے میں تعلیم کا آغاز ابتدائی سانسوں سے ہوجاتا ہے پیدائش کے بعد جتنا جلدی ممکن ہو کان میں “اللہ اکبر” کا درس پھونک دیا جاتا ہے نومولود کو فلاح کی راہوں← مزید پڑھیے
زندگی بڑی بے رحم اورتلخ حقیقت ہے ٗ ایسے ایسے نا قابل ِ یقین واقعات سے اٹی پڑی ہے کہ بتانے اورسوچنے والے حیرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ریاض علی فرینک فورٹ سے لندن بذریعہ برٹش ائیر ویز محو پرواز تھا۔← مزید پڑھیے
وہ شخص میری روح کی گہرائیوں میں ہے لوگوں کے درمیان بھی تنہا ئیوں میں ہے لگتا ہے اسکے پاس کوئی دوسرا نہیں اسکا تو انتظار بھی شہنائیوں میں ہے ملتی نہیں وہ صورتیں جن پر لکھیں غزل جو بات← مزید پڑھیے
اِک ذرا ہَوا کیا تیز ہوئی ، محبت کی شمع ہی بُجھ گئی۔۔ محبت۔۔۔ جسے مَیں نے زمانوں سے اپنے دل میں یوں چُھپا کر رکھا کہ کبھی تمھاری آنکھوں میں جھانکا تک نہیں کہ کہِیں تم میری آنکھوں میں← مزید پڑھیے
سنو! اک کام کرتے ہیں گلوں میں رنگ بھرتے ہیں ذرا یہ کیمرہ تو لو اور اک تصویر اب کھینچو گلوں میں گل, گلِ احمر ہاں اس کے سب ہی چنچل رنگ ذرا تم قید تو کر لو نگہ میں← مزید پڑھیے
انگلینڈ میں سردی بُہت زیادہ بڑھ رہی تھی اب ستمبر گُزر چُکا تھا اور ہر گُزرتا دِن ٹھنڈ میں مزید اِضافہ کررہا تھا ۔ انگلینڈ میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی تیز ہوائیں چلنا شُروع ہوجاتی ہیں جو اُس← مزید پڑھیے
جب سے اس نے یہ واقعہ پڑھا تھا وہ آپ ہی آپ تلملا رہی تھی۔ اس کے اندر کی آگ بڑھتی جا رہی تھی۔ پہلے والا وکیل بھی مسلسل آئیں بائیں شائیں کر رہا تھا۔ شاید کیس اس کی پکڑ← مزید پڑھیے
“شاعری جز ویست از پیغمبری ” مگر یار لوگوں نے اس سے مراد “پیغام بری” لے لیا۔ “چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دو، حال میرے دل کا تمام لکھ دو”۔پہلے اس نامہ بری کے لیے کبوتروں کا،چبوتروں کا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کے بارے میں کئی مضامین لکھ چکا ہوں اور انہیں یہاں دہرانا مناسب نہیں ہے، تو بھی کوشش کرتا ہوں کہ ان میں سے کچھ مواد اس کتھا میں بھی شامل ہو← مزید پڑھیے
“کہاں تھے تم کل سے تم کو بول رکھا تھا آج کے میلے میں جانے کو کیا کرتب تھے اس پہلوان کے” ایسا کیا دیکھا تم نے جو اتنی تعریفیں کر رہے ہو؟ “تم کیا جانو وہاں عقل کو مات← مزید پڑھیے
” حبس ” نام ہے اس خونچکاں تحریر کا جو برسوں پر پھیلی ہوئی ناانصافی کا المیہ ہے۔ جو مغرب کے دوہرے معیار کی آئینہ دار ہے۔ جب مغربی استعمار کو یہود پر ہونے والے ہولو کاسٹ کا کفارہ ادا← مزید پڑھیے
“سوفی کی دنیا” فلسفے کی کتب میں ایک اہم مقام رکھنے والا ناول ہے. یہ دنیا کے چند بیسٹ سیلر ناولز میں سے ایک ہے اس کے مصنف جوسٹن گارڈنر فلسفے کے استاد ہیں اور ناول کا مقصد نوعمر طلبہ← مزید پڑھیے
راشد اور عزیز ایک ہی دن دبئی وارد ہوئے تھے۔ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو نہ جانتے تھے لیکن ہوائی جہاز میں تعارف کے دوران جب دونوں کو علم ہوا کہ دونوں ایک ہی کمپنی کے ویزہ پر جا← مزید پڑھیے
شام کو دفتر سے گھر واپسی پر جب توصیف کی نظراپنے پڑوسی بلال صاحب کے پورچ پر پڑی تو وہ پلک جھپکنا ہی بھول گیا۔وہاں ہلکے سرخ رنگ کی ایک نئی نویلی ٹویوٹا کرولا کھڑی تھی۔گاڑی پر نمبر پلیٹ کی← مزید پڑھیے
مکتوب ۔ تاریخ مئی ۱۸؍ ۱۹۹۲ یعنی کہ وہی بات ہوئی جس کا مجھے خدشہ تھا۔ پہلے تو آپ اقبال کے اس مقولے پر مضبوطی سے قائم تھے کہ دل اور دماغ میں کدورت کے امکان کے بارے میں سوچنا← مزید پڑھیے
ساری قوم میری گواہی دے گی کہ میں نے عارض اور اس کے ساتھیوں اور بنو سوداء کے گروہ کو نصیحت کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ دو ہزار مسلح جنگجوؤں کا گمان رکھو جن کے سردار ایرانی← مزید پڑھیے