ایسا ضروری تو نہیں۔۔۔۔احمد رضوان

“شاعری جز ویست از پیغمبری ” مگر یار لوگوں نے اس سے مراد “پیغام بری” لے لیا۔ “چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دو، حال میرے دل کا تمام لکھ دو”۔پہلے اس نامہ بری کے لیے کبوتروں کا،چبوتروں کا یا برادرانِ خورد کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اب دورجدید میں چونکہ ٹوئٹر اور فیس بک کا استعمال ہوتا ہے اور ان میں جو ساقط الوزن اشعار بھیجے جاتے ہیں اور مصری کی ڈلیاں جس طرح مصرعوں کی ٹانگیں توڑتی ہیں ان پر ادبی دہشت گردی کی تمام دفعات لگائی جاسکتی ہیں۔نئی نسل اگر ڈھنگ سے شعر یادیا لکھ نہیں سکتی تو اس سے بہتر ہے کہ وہ نثری شاعری میں اپنے خام جذبات کا اظہار کرلے۔
اردو ادب یوں تو کئی ادوار سے گزرا ہے اور ہر بار کسی نہ کسی طرح دورِ ابتلا سے نبرد آزما ہوکرصحیح سلامت بچ نکلنے میں کامیاب رہا ہے ۔احمق پھپھوندوی نے اپنے نام کی رعایت سے پھبتی کسی تھی
ادب نوازئیِ اہلِ ادب کا کیا کہنا
مشاعروں میں اب احمق بلائے جاتے ہیں
اب دور جدید میں یہ حالت ہے کہ جو جینوئن شاعرات ہیں ان کو چھوڑ کر باقیوں کے لئے دیواروں پر لکھ کر اعلان کروانا پڑتا ہے کہ اپنے شہر کی شاعرات کو صاف رکھیں۔ایسی خواتین جنہیں شوق تو فینسی ڈریس شو، ماڈلنگ، گلوکاری اور اعضا کی شاعری کا شوق ہوتا ہے اور وہ اس کا نکاس بہ زبان ترنم شاعری اور مجرائی انداز میں کرکے اپنے دل کو تسلیاں دے لیتی ہیں ۔اب سارا قصور اس میں ان بیچاریوں کا بھی نہیں ہے جب تک ان کو فاضل اور حد فاصل کے بغیر بلا روک ٹوک اصلاح کے نام پر ازکارِ رفتہ،سرد گرم چشیدہ اصلاح کار موجود ہیں یہ کام یوں ہی چلتا رہے گا۔
روبینہ فیصل اس لحاظ سے خوش قسمت رہی ہیں کے انہیں نہ تو مشاعروں میں جانے کی ضرورت پڑی اور نہ ہی اپنی نثری شاعری کے لیے قافیہ ردیف اور اوزان کی کمی بیشی کو پورا کرنے کے لئے کسی بزرگ اصلاح کار کی رہنمائی لینا پڑی۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنی نثری شاعری کی کتاب کا نام ہی یہ رکھ دیا تاکہ نوآموزگان کو کان ہوجائیں کہ “ایسا ضروری تو نہیں”.
بچپن میں آپ شائد اس کھیل سے واقف ہوں جس میں یہ مصرع کسی بھی بات سے جوڑ کر لطف لیا جاتا تھا کہ” اس سے کچھ فرق تو پڑنا نہیں “. جیسے آپ بے شک روز نہائیں مگر اس سے کچھ فرق تو پڑنانہیں۔باتھ روم میں گانا گائیں مگر اس سے کچھ فرق تو پڑنا نہیں۔اسی طرح ایسا ضروری تو نہیں جملوں کے ساتھ ٹانکیے جیسے شاعری قافیہ کی پابند ہو ایسا ضروری تو نہیں، آپ کی سمجھ میں آئے، ایسا ضروری تو نہیں۔
روبینہ فیصل سے میری جان پہچان کا سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں پر محیط نہیں فقط دو سالوں پر ہے مگر جس طرح خلوص اور باہمی احترام کے رشتے کا ایک لمحہ بھی کافی ہوتا ہے اسی طرح یہ دو سال بھی دو دہائیوں سے زیادہ بھاری ہیں۔کم و بیش 2 سال پہلے روبینہ فیصل کی افسانوں کی کتاب خواب سے لپٹی کہانیاں کی تقریب اجراء کے موقع پر ان سے بالمشافہ ملاقات ہوئی ، جبکہ ان سے غائبانہ تعارف ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی آپ بیتی پر مشتمل کتاب کتھا چار جنموں کی کی معرفت سے ہواتھا۔برسبیل تذکرہ اسی کتاب سے چند اور ادبا جن میں فیصل عظیم اور ڈاکٹر خالد سہیل شامل ہیں کے بارے میں بھی پتہ چلا تھا۔
روبینہ فیصل کی اب تک تمام شائع شدہ کتب کے موضوعات کو اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اس میں ہمیں تنوع نظر آتا ہے جس سے ان کے فکری اور علمی سفر کی طرف ایک واضح اشارہ ملتا ہے۔جس طرح ہر کامیاب سفر کا آغاز پہلا قدم اٹھانے سے ہوتا ہےاسی طرح روبینہ نے اپنی پہلی کتاب “روٹی کھاتی مورتیاں” سے افسانوں کی کتاب “خواب سے لپٹی کہانیاں”تک ایک ایسے نثری اسلوب کی طرف سفرکیاہے جس میں خیال ، فکر و دانش کے تانے بانے کے ساتھ ساتھ مشاہدہ اور مجاہدہ کی عرق ریزی شامل تھی۔
جہاں تک روبینہ کی کتاب “ایسا ضروری تو نہیں” کا تعلق ہے تو یوں ہے کہ ہر دور میں آنے والی تبدیلی اور تحریک کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جاتا۔آرٹ میں ایبسٹریکٹ ازم ہو یا ادب میں نئی اصناف میں طبع آزمائی، ہر شیریں اور لیلیٰ کو اپنے اپنے فرہاد اور مجنوں میسر آ جاتے ہیں اور وہی باتجو پہلےپہل عجیب لگتی تھی وقت رفتہ آپ کی زندگی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے۔ نثری نظم یا نثم کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے ۔اس کی قبولیت اور معقولیت وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی چلی جارہی ہے۔جس طرح جام و مینا کی نفاست کا اس میں موجود شراب کی تاثیر سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا،اسی طرح خیال کسی بھی جامہ میں ہو ، اصل بات اس کا قاری تک پہنچنا ہے۔روبینہ فیصل نے ان موضوعات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ہے جو بحیثیت انسان اس معاشرے میں ہم سب کو درپیش ہیں۔ ان موضوعات میں تنوع بھی ہے اور وسعتِ بیان بھی جھلکتا ہے۔حس ِمزاح روبینہ فیصل کو خدا تعالی کی طرف سے ودیعت کردہ ہے ۔ اس کا چابکدستی سے اپنے لفظوں میں استعمال کرکے انہوں نے معاشرتی المیوں اور دوہرے معیار کے ساتھ زندگی بسر کرنے والوں کی بات کی ہے۔جیسے ایک نظم میں شاعر کی بیوی کے بارے لکھا ہے۔شاعر کی بیوی ہونے سے محبوبہ رہنا ہی بہتر ہوتا ہے مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ اور ایک نکاح کی دوری ۔ ہر شاعرِ ٹھرک کی کھرک تب ہی کم ہوتی ہے جب اس کا حرم محبوباؤں سے آباد رہے اور بھلے سگی بیوی اس کی ناشاد رہے۔
ان کی “تیسری کتاب ایسا ضروری تو نہیں” پہلی دو کتابوں سے ذرا ہٹ کے ادب کی ایک ایسی صنف سے تعلق رکھتی ہے جو اظہار کا تیسرا پیرایہ کہلاتی ہے۔ جی ہاں جسے ہم نثری نظم یا نثم کے نام سے جانتے ہیں۔نثری نظم مروجہ شاعری کے زمرہ میں نہیں آتی اور نہ ہی یہ نثری پیرایہ ہے۔شائداسی وجہ سے یہ صنفی امتیاز کا شکار رہی۔ نہی
نثری شاعری کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی اور معاصر ادب میں اس نے کیسے جگہ بنائی اور اس کو ادب کی اصناف میں کیا مقام حاصل ہے،یہ آج کا موضوع بحث نہیں ہے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس کی تعریف اور اس پر تنقید کرنے والے لوگوں کے پاس دلائل و براہین کے انبار ہیں مگر ہم نثری نظم کی تعریف و تنقید کی جنگ وجدل میں الجھنے کی بجائے روبینہ کی اس کاوش تک محدود رہیں گے۔
مرزا غالب فرما گئے تھے
بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگ نائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لئے
بات کو سلیقے سے نثر میں بیان کرنا یقینا ایک خداداد صلاحیت ہے اور محنت شاقہ سے آپ اپنی استعداد میں خاطرخواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔نثر میں جوبات کئی صفحات پر پھیل جاتی ہے ، نظم میں ایک صفحہ پر سمٹ سکتی ہے اور اگر ادیب قادرالکلامی کی انتہا پر ہو تو ایک مصرع یا شعر میں پورا مضمون سمیٹا جا سکتا ہے۔روبینہ فیصل نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے نثری نظم کا انتخاب کیا ہے۔اس کی وجہ یقینناً نہ تو سہل پسندی ہے اور نہ ہی غزل اور نظم کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔پابند نظم اور جدید نظم کے بعد نثری نظم یا نثم نے نئے امکانات کے دریچے کھول دیے ہیں۔نئی نظم زندگی کے اصل معنی کشید کرنے کا فریضہ مہمل نظریہ سازوں کی مدد کے بغیر ادا کرنے لگی ہے۔
روبینہ فیصل کی کتاب “ایسا ضروری تو نہیں”میں روایتی مضامین کی بجائے ان موضوعات کا انتخاب کیا گیا ہےجو کلیشے اورٹیبوزکا درجہ رکھتی ہیں ،اور جن موضوعات کو حساس جان کر ان پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ان موضوعات پر خود ان کے اپنے الفاظ میں افسانے لکھے جاسکتے تھے مگر ان کو قلمبند کرنے کے لیے کئی دفتر درکار ہوتے ۔روبینہ فیصل نے ترسیل ابلاغ کے لئے اپنی سہولت کے مطابق نثری نظم کو موزوں جانا۔ ہر وہ خیال یا بات جسے حرف و معانی کا پیراہن درکار ہے،اس کو تخلیق کرتے ہوئے روبینہ نے اپنی نظموں میں خیال کی بیرونی سطح کی بجائے معنی و مفہوم کی اندرونی پرتوں کو کھولنے کی سعی کی ہے۔
یہ نظمیں چھوٹی چھوٹی ذاتی خوشیوں سے لیکر آفاقی سچائیوں کو بیان کرتے ہوئے عام انسان کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں۔انسانی نفسیات ایک انتہائی پیچیدہ موضوع ہے اور اس کی گتھیوں کو سمجھنا اور ان کو الفاظ کا جامہ پہنانا آسان کام نہیں ہے۔روبینہ فیصل اپنی اس کاوش میں کتناکامیاب رہی ہیں اس کا فیصلہ تو ہم قاری پر چھوڑتے ہیں مگرمجھے ذاتی طور پر ان میں سے چند نظمیں بہت پسند آئی ہیں جیسا کہ حلال دیس،کیسے مجھے پکارا تھا،باغی پرندے اور بے شمار دوسری نظمیں۔ سب ایک سے بڑھ کر ایک۔
آخر میں روبینہ فیصل کو بے حد مبارک باد ۔دعا ہے ان کا ادبی سفر یونہی کامیابی سے جاری و ساری رہے اوروہ اپنی تخلیقات سے ہمیں مسحور کرتی رہیں۔ شکریہ۔
(روبینہ فیصل کی کتاب “ایسا ضروری تو نہیں” کی تقریب اجراء کے موقع پر پڑھا گیا۔)

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”ایسا ضروری تو نہیں۔۔۔۔احمد رضوان

  1. رضوان احمد کی تحریر اور شخصیت دونوں ہی میچور اور خوشگوار ہیں ۔میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ رضوان نے مجھے ستیہ پال آنند کی کتاب سے ڈھونڈا اور مسلسل ڈھونڈتے ہی جا رہے ہیں ۔جب ادبی زندگی میں ایسے دوست مل جائیں تو ادب کا سفر آسان ہوُجاتا ہے۔
    شکریہ رضوان ۔۔

  2. احمدبھائی آپ نے جو کچھ ارشادفرمایا ہے۔ یہ ہمیں سمجھ آئے ایساضروری تو نہیں
    اور اگر سمجھ آ بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
    محترمہ شاعرہ کی کتاب پڑھنے کا چونکہ موقع نہیں ملا اس لئے
    میں اپنے شہر کی شاعرات کو صاف رکھیں۔ سےمحظوظ ہو رہا ہوں۔
    بہت ہی اعلی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *