• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • کتھا چار جنموں کی۔ کا نیا روپ۔۔وزیر آغا ۔۔۔۔سیریز/ڈاکٹر ستیہ پال آنند۔۔قسط46

کتھا چار جنموں کی۔ کا نیا روپ۔۔وزیر آغا ۔۔۔۔سیریز/ڈاکٹر ستیہ پال آنند۔۔قسط46

مکتوب ۔ تاریخ مئی ۱۸؍ ۱۹۹۲
یعنی کہ وہی بات ہوئی جس کا مجھے خدشہ تھا۔ پہلے تو آپ اقبال کے اس مقولے پر مضبوطی سے قائم تھے کہ دل اور دماغ میں کدورت کے امکان کے بارے میں سوچنا ہی غلط ہے۔ دل تو ایک بچہ ہے جو کھلونوں کی دکان میں سجا ہوا ہر کھلونا اچک کر بھاگنا چاہتا ہے، لیکن دماغ اس کے ساتھ کھڑے اس باپ کی طرح ہے جو اسے سختی سے روک ٹوک نہ کرتے ہوئے بھی اپنی پاسبانی کا فرض نبھاتا ہے اور پیار سے اس کی خواہشات کا رُخ دوسری طرف موڑ دیتا ہے۔ اقبال بھی دل پرسخت قدغن کےقائل نہیں تھےـلیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے کہہ کر انہوں نے ایک دروازہ بند کرنے کے بعد ایک کھڑکی کھلی چھوڑ دی تھی۔

آپ کے مکتوب میں دل اور دماغ کو کھشتری اور برہمن کی پدوی دی گئی ہے۔ ہندو نظام ِ زیست میں برہمن اور کھشتری کا حوالہ دیتے ہوئے 46دل145 اوردماغ کے مابین ان کے فرائض کی تقسیم کچھ اس طرح کرنا چاہتے ہیں کہ کھشتری (یعنی دل) کا فرض چونکہ تلوار اٹھانا ہے اس لیے وہ تو ہمہ وقت ـ تلوار اٹھانے کے لیے تیار رہتا ہے، لیکن اس کی غرض و غائت کو دلیل سے ثابت کرنے کے لیے برہمن (یعنی دماغ) پر چھوڑ دینا ہے، اس لیےان کے مابین تضاد اگر پیدا ہو بھی جائے تو برہمن کا فرمان افضل ہے۔

آپ نے تو مجھے چانکیہ Chanakya اور The Prince کے خالق Nicolo Machiavelli کے پولیٹیکل فلسفہ کی تعلیمات سے یکسر غیر آگاہ ہی سمجھ لیا۔ لیکن یہاں ہم ایک ملک یا قوم کی بات نہیں کر رہے ہیں کہ ان دو ہندوی اور اطالوی بزرگوں کو گواہوں کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا جائے۔ یہاں تو انسانی جسم کا بکھیڑا کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں ہم دونوں !

تو ، چلیں، انسانی جسم کی بات کریں۔۔۔۔۔

سیل cell سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔ اسے اردو میں خلیہ کہا جاتا ہے۔ ہر خلیہ لحمی تاگوں پر مشتمل ہوتا ہے، جنہیں کروموسومز Chromosomes کہا جاتا ہے۔ بالکل جیسے درخت کی شاخیں ہوں اور جس طرح درخت کی شاخوں سے پھل لٹک رہے ہوتے  ہیں اس طرح کروموسومز کی شاخوں سے جینز Genes لٹکتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہر زندہ شے، درخت،پرندے، حیوان اور انسان ان جینز کو اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرتا ہے۔ حیاتیات کے عالموں کے مطابق پہلے جس طرح مادہ کی کائنات میں پہلے صرف پارٹیکلز particles تھے، اسی طرح زندگی کی کائنات سے پہلے صرف پرکاریوٹس Prokaryotes تھے ، جن کا کوئی مرکزہ نہیں تھا۔ تب خوراک کے حوالے سے ایک نیا مرکزہ پیدا ہوا جسے ڈی این اے D.N.A. کہا گیا۔ اب اگر خلیہ کو ایک آزاد اکائی یعنی ذی روح متصور کر لیا جائے تو اس میں ڈی این اے کو دماغ کی حیثیت حاصل ہے جب کہ Mitochondria یعنی پمپنگ سسٹم (دل اور پھیپھڑے وغیرہ) اور Cilia جو ایک چوکیدار کی طرح ہے، اس دماغ کی ہدایات پر چلتے ہیں۔ گویا ایک ہی خلیہ میں برہمن (حکم صادر فرمانے والا)، کشتری (اپنی طاقت یعنی باہو بل یا بازو کی قوت) سے اس حکم کو بجا لانے والا اور شود ر (یعنی نیچ کام کرنے والے اعضا، ہاتھ ، پائوں، فضلہ خارج کرنے کے سوراخ اور دوسرے ) سب اکٹھے رہتے ہیں۔

گویا برہمن مہاراج (دماغ) اپنی معطر تنہائی کے اونچے مندر میں براجمان ہے اور چونکہ یہ شودر سے کوئی براہ راست تعلق نہیں رکھنا چاہتا ، اس لئے وہ دل یعنی کشتری کی وساطت سے اپنے احکام اُن شودروں یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ تک پہنچاتا ہے۔

لیجیے، اب معاملہ طے ہو گیا۔ حالیہ صورتِ حال میں دل اور دماغ شاید ہم دونوں میں ہی موجود ہیں۔ اردو شاعری میں ، خصوصی طور پر صنف ِ نظم میں ، یہ خاکسار، یعنی وزیر آغا ، جنیئو پہنے ہوئے اور منڈے ہوئے سر پر ایک لمبی چوٹی رکھے ہوئے، وہ برہمن ہے جس کا اصلی نام دماغ ہے۔ اور آپ، یعنی ستیہ پال آنند (اگر برا نہ مانیں تو) وہ کھشتری ہیں، جو نظم کے نام کی ساکھ بچانے کے لیے روایتی شاعری کے خلاف عموما ً اور صنف ِ غزل کے خلاف خصوصاً تلوار اٹھائے ہوئے مرنے مارنے کو تیار رہتے ہیں۔ آپ کا اسم ِ خاص دل ہے۔ (جاری ہے)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *